انڈیا میں طاعون کے ٹیکے سے سوتیلے بھائی کا قتل جس نے عالمی توجہ حاصل کی

امریندر
،تصویر کا کیپشنامریندر چندر پانڈے کی واحد دستیاب تصویر
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

یہ 26 نومبر 1933 کی ایک دوپہر تھی جب ایک مختصر سی قد و قامت کا شخص مشرقی انڈیا کے شہر کولکتہ (کلکتہ) کے ایک مصروف ریلوے سٹیشن پر ایک نوجوان زمیندار کو چھوتا ہوا گزر گیا۔

جب یہ اجنبی شخص 20 سالہ امریندر چندر پانڈے کو چُھو کر گزرا تو اُنھیں اپنے دائیں بازو میں درد کا احساس ہوا۔ وہ اجنبی پھر ریلوے سٹیشن کی بھیڑ میں غائب ہو گیا۔

درد کے اسی احساس کے تحت امریندر پانڈے چلائے کہ ’کسی نے مجھے کچھ چبھویا ہے۔'

مگر پھر اُنھوں نے پڑوسی ریاست جھارکھنڈ کے پاکڑ ضلعے میں اپنی خاندانی زمین کی طرف سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اُن کے ساتھ موجود رشتے داروں نے امریندر سے اصرار کیا کہ وہ رُکیں اور اپنے خون کا ٹیسٹ کروائیں مگر اُن سے 10 سال بڑے اُن کے سوتیلے بھائی بینوئیندر جو بِن بلائے ہی سٹیشن پہنچ گئے تھے، نے ’اس واقعے کو معمولی‘ قرار دیا اور اُنھیں اپنا سفر جاری رکھنے پر قائل کرنے لگے۔

تین دن بعد امریندر بخار میں مبتلا ہونے کے باعث کولکتہ واپس آ گئے جہاں ایک ڈاکٹر نے اُن کا معائنہ کیا۔ جس جگہ اُنھیں چبھن محسوس ہوئی تھی وہاں ’ٹیکے کی سوئی جیسا نشان‘ موجود تھا۔

اگلے چند دنوں میں مریض کو تیز بخار ہوا، بغلوں میں سوجن پیدا ہو گئی اور پھیپھڑوں کی بیماری کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے لگیں۔

تین دسمبر کی رات وہ کومہ میں چلے گئے اور اگلی صبح اُن کی وفات ہو گئی۔

ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی وجہ نمونیا کو قرار دیا مگر اُن کی وفات کے بعد آنے والی لیبارٹری رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ اُن کے خون میں طاعون کا سبب بننے والا ہلاکت خیز بیکٹیریا ’یرسینیا پیسٹِس‘ پایا گیا تھا۔

طاعون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسرخ دائرے میں وہ بیکٹیریا یرسینیا پیسٹِس جو طاعون کا سبب بنتے ہیں

چوہوں اور مکھیوں کے باعث پھیلنے والے اس مرض، طاعون، نے سنہ 1896 سے سنہ 1918 کے درمیان برِصغیر میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کی جانیں لی تھیں۔

تاہم سنہ 1929 سے سنہ 1938 کے بیچ میں طاعون کے باعث ہونی والی ہلاکتیں پانچ لاکھ سے بھی کم رہ گئی تھیں اور امریندر کی موت سے تین سال قبل تک کولکتہ میں طاعون کا کوئی بھی مریض سامنے نہیں آیا تھا۔

ایک دولت مند زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ کے سنسنی خیز قتل نے برطانوی انڈیا اور اس سے باہر لوگوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ ’اسے جدید دنیا کی تاریخ میں انفرادی حیاتیاتی دہشتگردی کے اوّلین معاملات میں سے ایک‘ بھی قرار دیا گیا۔

اخبارات و جرائد نے اس واقعے کی گہرائی سے کوریج کی۔ ٹائم میگزین نے اسے ’مرڈر وِد جرمز‘ یا جراثیم کے ذریعے قتل قرار دیا جبکہ سنگاپور کے سٹریٹ ٹائمز نے اسے ’پنکچرڈ آرم مسٹری‘ یعنی بازو کو چبھونے کا راز قرار دیا۔

کولکتہ پولیس کی تفتیش میں سازش اور نہایت باہمت منصوبہ بندی کا ایک جال سامنے آیا جس میں کوئی 1900 کلومیٹر دور ممبئی (تب بمبئی) کے ایک ہسپتال سے یہ ہلاکت خیز بیکٹیریا چرانا بھی شامل تھا۔

اور اس جرم کی بنیاد دراصل خاندان کی دولت پر جھگڑا تھا۔

دونوں سوتیلے بھائی پاکڑ میں اپنے والد کی وسیع و عریض جائیداد کے حوالے سے دو سال سے ایک تلخ لڑائی لڑ رہے تھے۔ یہ علاقہ اپنی کوئلے اور پتھر کی کانوں کے حوالے سے مشہور ہے۔ دونوں بھائیوں کی لڑائی کی کہانی کو میڈیا رپورٹس میں نیکی اور بدی کی لڑائی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

ایک رپورٹ میں امریندر کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ’نفیس شخص تھے، بلند اخلاقی قدروں کے پاسبان، جو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند تھے اور باقاعدگی سے اپنی تندرستی کا خیال رکھتے‘ اور مقامی لوگ ’اُن سے بہت محبت‘ کرتے۔

دوسری جانب بینوئیندر کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ’ایک بے راہ رو زندگی گزارتے، اور شراب اور عورتوں کے رسیا تھے۔‘

قتل

،تصویر کا ذریعہEastern Railway

،تصویر کا کیپشنیہ جرم کولکتہ (تب کلکتہ) کے ہوڑہ ریلوے سٹیشن پر ہوا

عدالتی دستاویزات کے مطابق امریندر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی ممکنہ طور پر سنہ 1932 میں کی گئی جب بینوئیندر کے ایک قریبی دوست ڈاکٹر تاراناتھ بھٹاچاریہ نے طبی لیبارٹریوں سے طاعون کا سبب بننے والے بیکٹیریا کا ایک نمونہ چرانے کی ناکام کوشش کی۔

ویسے تو یہ بات متنازع ہے مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بینوئیندر نے ہی سنہ 1932 کی گرمیوں میں اپنے بھائی کو قتل کرنے کی پہلی کوشش کی تھی۔

یہ دونوں ایک پہاڑی قصبے میں چہل قدمی کر رہے تھے جب ایک برطانوی طبی اہلکار ڈی پی لیمبرٹ کی رپورٹ کے مطابق بینوئیندر نے ’عینک نکالی اور انھیں امریندر کے ناک پر اتنی قوت سے جمایا کہ اُن کی جلد پھٹ گئی۔‘

امریندر جلد ہی بیمار پڑ گئے۔ بظاہر شک یہ تھا کہ یہ عینک جراثیم سے آلودہ تھیں۔ اُن میں ٹیٹنس کی تشخیص ہوئی اور ٹیٹنس کش دوائی دی گئی۔

ڈاکٹر لیمبرٹ کے مطابق بینوئیندر اپنے بھائی کا علاج تبدیل کرنے کے لیے تین ڈاکٹروں کو لائے مگر سب نے انکار کر دیا۔

اگلے سال جو ہوا وہ اپنے وقت سے کہیں آگے کی چیز تھا۔

جس وقت بینوئیندر اس جائیداد کے حصول کی کوشش کر رہے تھے، تب ہی اُن کے دوست ڈاکٹر بھٹاچاریہ نے طاعون کا سبب بننے والے بیکٹیریا چرانے کی کم از کم چار بار مزید کوشش کی۔

مئی 1932 میں بھٹاچاریہ نے ممبئی (تب بمبئی) کے ہافکائین انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر سے رابطہ کیا۔ یہ انڈیا کی وہ واحد لیبارٹری تھی جہاں طاعون پھیلانے والے بیکٹیریا کے نمونے رکھے جاتے تھے۔

لیبارٹری کے ڈائریکٹر نے کہا کہ جب تک ڈاکٹر بھٹاچاریہ سرجن جنرل آف بنگال کا اجازت نامہ نہیں لے کر آتے، تب تک اُنھیں یہ نمونے فراہم نہیں کیے جا سکتے۔

اسی ماہ بھٹاچاریہ نے کولکتہ میں ایک ڈاکٹر سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ وہ طاعون کا علاج دریافت کر چکے ہیں اور بیکٹیریا کے نمونوں کا استعمال کر کے اس کی آزمائش کرنا چاہتے ہیں۔

عدالتی ریکارڈز کے مطابق ڈاکٹر نے اُنھیں لیبارٹری میں کام کرنے کی اجازت دے دی مگر اُنھیں ہافکائین انسٹیٹیوٹ سے حاصل کردہ بیکٹیریا کے کلچر چھونے سے منع کر دیا۔

ڈاکٹر لیمبرٹ کے مطابق جب بیکٹیریا یہاں کلچر میں نشوونما پانے میں ناکام رہے تو یہ کام رُک گیا۔

طاعون

،تصویر کا ذریعہCULTURE CLUB/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنطاعون نے انڈیا میں صرف 22 برس کے دوران ایک کروڑ 20 لاکھ کے قریب جانیں لیں

پھر 1933 میں بھٹاچاریہ نے ایک مرتبہ پھر کولکتہ میں اُن ڈاکٹر پر زور ڈالا کہ وہ ہافکائین انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کو خط لکھیں۔

اس خط میں ان ڈاکٹر نے لکھا کہ بھٹاچاریہ کو 'طاعون کا اُن کا علاج' آزمانے کے لیے انسٹیٹیوٹ کی سہولیات استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

ان گرمیوں میں بینوئیندر بھی ممبئی گئے جہاں اُنھوں نے بھٹاچاریہ کے ساتھ مل کر ہافکائین انسٹیٹوٹ سے منسلک دو ویٹرنری سرجنز کو رشوت دینے کی کوشش کی تاکہ یہاں سے طاعون پھیلانے والے بیکٹیریا کے کلچر حاصل کیے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

بینوئیندر ایک بازار گئے اور چوہے بھی خریدے تاکہ وہ خود کو سنجیدہ سائنسدان ظاہر کر سکیں۔ اس کے بعد یہ دونوں شخص آرتھر روڈ انفیکشس ڈزیزز ہسپتال گئے۔ یہاں پر بھی بیکٹیریا کے کلچرز رکھے جاتے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق وہاں بینوئیندر نے حکام کو ’اپنے ڈاکٹر دوست کو مبینہ علاج پر کام کرنے کی اجازت دینے‘ پر قائل کر لیا۔

اس بات کے کوئی ثبوت نہیں کہ بھٹاچاریہ نے لیبارٹری میں کوئی تجربے کیے۔ پھر 12 جولائی کی شام یعنی لیبارٹری تک رسائی حاصل کرنے کے کوئی پانچ دن بعد بھٹاچاریہ نے اپنا ’کام‘ اچانک ادھورا چھوڑ دیا اور بینوئیندر کے ساتھ کولکتہ لوٹ گئے۔

قتل کے تین ماہ بعد فروری 1934 میں پولیس نے دونوں کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کاروں نے بینوئیندر کے سفری کاغذات، ممبئی میں اُن کے ہوٹل بلز، ہوٹل رجسٹر میں اُن کی اپنی لکھائی میں اندراج، لیبارٹری کو اُن کے پیغامات، اور چوہوں کی دکان کی رسیدیں حاصل کر لیں۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہWellcome Trust

،تصویر کا کیپشنہافکائین انسٹیٹیوٹ سے طاعون پھیلانے والے بیکٹیریا چرانے کے لیے کئی کوششیں کی گئیں

کسی بھی لحاظ سے دیکھیں تو نو ماہ طویل یہ ٹرائل بہت سنسنی خیز تھا۔

وکیلِ دفاع کی دلیل تھی کہ امریندر کو چوہوں کو کاٹنے والی ایک مکھی نے کاٹا تھا۔ عدالت نے کہا کہ شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُن کے قتل کے ملزم دونوں افراد نے ممبئی کے ہسپتال سے ’طاعون کے بیکٹیریا چرائے‘ تھے اور یہ کہ ’اُنھیں کلکتے لایا جا سکتا تھا اور‘ اُنھیں قتل کے دن یعنی 26 نومبر 1933 تک زندہ رکھا جا سکتا تھا۔'

ٹرائل کورٹ نے پایا کہ بینوئیندر اور ڈاکٹر تاراناتھ بھٹاچاریہ نے امریندر کو ’کرائے کے قاتل‘ کے ذریعے قتل کروانے کی سازش کی تھی۔ اُنھیں موت کی سزا سنا دی گئی۔

جنوری 1936 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے مجرمان کی اپیل پر اُن کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔ قتل سے تعلق کے شبہے میں گرفتار تین دیگر ڈاکٹروں کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا۔

اپیل سننے والے جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ مقدمہ ممکنہ طور پر جرائم کی تاریخ میں ایک منفرد مقدمہ ہے۔‘

دی پرنس اینڈ دی پوائزنر نامی کتاب کے لیے اس قتل پر تحقیق کرنے والے امریکی صحافی ڈین موریسن نے مجھے بتایا کہ بینوئیندر ’بیسویں صدی کے شخص تھے جنھوں نے سوچا کہ وہ قتل کے وقت انڈیا پر حاوی وکٹوریائی اداروں کو چکمہ دے دیں گے۔‘

طاعون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُنھوں نے کہا کہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والا یہ قتل ’انتہائی جدید قتل‘ تھا۔

حیاتیاتی ہتھیار ممکنہ طور پر چھٹی صدی قبلِ مسیح سے استعمال ہو رہے ہیں جب قومِ آشور کے افراد اپنے دشمنوں کے کنوؤں میں رائے ارگوٹ نامی پھپھوندی ملا کر زہر آلود کر دیتے تھے۔

مگر کئی لحاظ سے امریندر کا قتل شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ اُن کے سوتیلے بھائی 45 سالہ کم جونگ نام کے قتل سے مماثلت رکھتا ہے۔

وہ سنہ 2017 میں ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے جب دو خواتین نے اُن کے چہرے پر ہلاکت خیز اعصابی زہر مل دیا۔

دونوں خواتین کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا تھا مگر انڈیا کے ریلوے سٹیشن پر ہونے والے اس قتل کے 88 سال بعد بھی اب تک اس جوان زمیندار کا قاتل اور اس قتل میں استعمال ہونے والی سوئی آج تک نہیں مل پائی ہے۔