ہری دوار: ہندو مذہبی تقریب میں مسلم مخالف تقاریر پر انڈیا میں غم و غصہ، تاخیر کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا

A police case was registered after outrage

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/DEVBHOOMI RAKSHA ABHIYAN

،تصویر کا کیپشنمختلف طبقۂ فکر کی طرف سے احتجاج کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں ہندو رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی تقاریر کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں ہندو مذہبی رہنماؤں کی ایک مذہبی تقریب ’دھرم سنسد‘ کی ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں جن میں وہ اشتعال انگیز تقاریر کر رہے تھے۔ ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

یہ تقریب 17 سے 20 دسمبر کے درمیان ہندوؤں کے مقدس شہر ہری دوار میں ہوئی تھی۔

پولیس نے کہا تھا کہ انھوں نے جمعرات تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا تھا کیونکہ اس سے پہلے کوئی شکایت ہی نہیں آئی تھی۔

اس معاملے میں ابھی تک کوئی گرفتاری بھی نہیں ہوئی ہے اور پولیس اس مقدمے میں صرف ایک شخص وسیم رضوی کا نام بتاتی ہے ، جو کہتے ہیں کہ وہ مسلمان مذہب ترک کر کے ہندو مذہب اختیار کر چکے ہیں اور اب جتیندر نارائن تیاگی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تیاگی اور نامعلوم ’دیگر‘ افراد کے خلاف ’مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانے‘ کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیوز میں بہت سے مقررین کی شناخت کی ہے جو اہم مذہبی رہنما ہیں اور جو اکثر وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزراء اور اراکین کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں 2014 کے بعد سے اضافہ ہوا ہے، جب بی جے پی پہلی بار اقتدار میں آئی تھی۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر یا تشدد کی ویڈیوز باقاعدگی سے وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ ایسا برسرِ اقتدار جماعت کے رہنماؤں کی اس حمایت کی وجہ سے ہے جو کھلے عام اور خاموش دونوں طریقوں سے اس طرح کے مجرموں کو حاصل ہے۔

مذبی تقریب

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/ASHWINI UPADHYAY

،تصویر کا کیپشناشوینی اپادھے (دائیں طرف) بی جے پی کے رہنما ہیں

انڈیا کے این ڈی ٹی وی کے مطابق ہری دوار کی تقریب کے ایک منتظم پرابودھا آنند گیری کی اکثر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر نظر آتی ہیں۔ ایک تصویر میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر دھامی، جو کہ بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے پاؤں چھوتے نظر آ رہے ہیں۔

اس تقریب میں گیری کو یہ کہتے ہوئے صاف دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ ’میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان (کلین اپ) کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔‘

این ڈی ٹی وی کے مطابق جب انھوں نے پرابودھا آنند گیری سے رابطہ کر کے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا: ’میں نے جو کہا میں اس پر شرمندہ نہیں ہوں۔ میں پولیس سے نہیں ڈرتا۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔‘

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کال کی مذمت کی جا رہی ہے لیکن نفرت انگیز تقاریر کرنے والے افراد برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی کے ساتھ اپنے روابط ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی تقاریر پر قائم ہیں۔

ایک اور مقرر یتی نارسنگھ آنند سرسوتی ماضی میں بھی کئی مسلم مخالف بیانات دے چکے ہیں۔

ہندو تقریب

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

ہری دوار میں انھوں نے دیگر لوگوں کی طرح ہندوؤں سے کہا کہ وہ اپنے مذہب کو مسلمانوں سے ’محفوظ‘ کرنے کے لیے ہتھیار اٹھائیں۔

بی جے پی کے سابق ترجمان اشونی اپادھیائے نے ٹوئٹر پر اپ لوڈ کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ گزشتہ روز صرف آدھے گھنٹے کے لیے تقریب میں گئے تھے۔

اپادھیائے کو اگست میں دارالحکومت دہلی میں ایک ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جہاں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔

سینئر پولیس اہلکار اشوک کمار نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات غلط ہیں، اس لیے ہم نے ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بلاک کرنے کا بھی کہا ہے۔

لیکن سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے سوال کیا ہے کہ پولیس نے کسی بھی مقرر کے خلاف کیس کیوں درج نہیں کیا اور اپنی رپورٹ میں صرف تیاگی کا نام ہی کیوں لیا ہے؟

تیاگی ایک ایسے بورڈ کے متنازعہ سربراہ تھے جو شیعہ مسلمانوں کی جائیدادوں کا انتظام کرتا تھا اور اس ماہ کے شروع میں، انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے مذہب اسلام ترک کر کے ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔

پولیس اہلکار کمار نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ مقدمہ ایک مقامی رہائشی کی شکایت موصول ہونے کے بعد درج کیا گیا تھا جس میں صرف تیاگی کا نام لیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ دوسروں کی شناخت نہیں کر سکے۔

بی بی سی نیوز کی انڈیا کی نامہ نگار یوگیتا لمایے نے جمعرات کو اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’انڈیا میں ایک مسلم کمیڈین ایک لطیفے پر جیل بھیج دیا گیا۔ ایک ہندو رہنما جو لوگوں کو یہ نصیحت کرتی نظر آتی ہیں کہ مسلمانوں کو مار دیں اور پھر چینل این ڈی ٹی وی پر یہ کہتی ہیں کہ آئین غلط ہے، انھیں نہیں پکڑا جاتا۔ پولیس کہتی ہے کہ کسی نے شکایت درج نہیں کرائی ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

آل انڈیا ترنامول کانگریس کے ترجمان ساکتے گوکھلے کے مطابق انھوں نے ہری دوار کے علاقے جوالا پور میں 17 دسمبر سے لے کر 20 دسمبر تک ہونے والی اس تقریب میں نفرت آمیز تقاریر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ اگر 24 گھنٹوں میں اس تقریب کے منتظمین اور مقررین کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو وہ جوڈیشیئل مجسٹریٹ کو اپنی شکایت پیش کریں گے۔

انھوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا کہ ان لوگوں کو آرام سے جانے نہیں دیا جانا چاہیے۔ انھوں نے اترا کھنڈ انتخابات میں حصہ لینے والی دوسری جماعتوں کو بھی کہا کہ ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیئے

گوکھلے نے جو شکایت درج کرائی اس میں کہا گیا تھا کہ اس تقریب میں ہندو رکشا سینا کے پرابودھا آنند گیری، بی جے پی کی خواتین کے دھڑے کی رہنما اُدتا تیاگی اور بی جے پی رہنما آشونی اپادھیائے نے بھی شرکت کی تھی۔ یاد رہے کہ اپادھیائے پہلے ہی نفرت انگیز تقریر کے ایک مقدمے میں ضمانت پر ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اسی تقریب کی ایک اور ویڈیو میں ایک خاتون مذہبی رہنما کو کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے ’اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔۔۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔۔۔‘

انڈیا کے متعدد اخباروں نے بھی ان ویڈیوز پر غم و غصے کی خبریں چلائی ہیں۔

سوشل میڈیا پر جن بڑے ناموں نے ان کی شدید مذمت کی ہے ان میں رانا ایوب، نیدھی رازدان، نیہا کھنا اور ٹینس کی سابق عالمی چیمپیئن مارٹینا نیورٹیلووا شامل ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

نیدھی رازدان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا کہ ’انڈیا کی سپریم کورٹ کو آگے بڑھ کر عمل کرنا چاہیئے۔ نفرت کنارے پر رہ کر نہیں بلکہ مین سٹریم (مرکزی دھارے) سے ہے، جس کی حوصلہ افزائی اسٹیبلشمنٹ کی خاموشی، عدلیہ، اور لچکدار پریس کا ایک بڑا حصہ کر رہا ہے۔ ہم سب کو اب بولنے کی ضرورت ہے۔‘

رانا ایوب نے صحافی برادری سے کہا کہ وہ اس پر خاموش نہ بیٹھیں اور اپنی آواز اٹھائیں کیونکہ یہ صرف کچھ لوگ نہیں ہیں۔ انھوں نے صحافی اور ریسرچر محمد زبیر کے مختلف ٹویٹس کا ایک تھریڈ بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لگایا جس میں ہری دوار میں ہونے والی مذہبی تقریب میں شامل افراد نے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر کی تھیں اور ہندو برادری کے جذبات کو ابھارا تھا۔