انڈیا میں ’چوروں کو لوٹنے والے‘ چار پولیس اہلکار گرفتار

    • مصنف, دلنواز پاشا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی

ایک کہاوت ہے کہ ’چور چور موسیرے بھائی‘ لیکن اگر اتر پردیش کے ضلع فیروز آباد کی بات کریں تو وہاں چور اور پولیس کے موسیرے بھائی یعنی خالہ زاد بھائی ہونے کی خبر آئی ہے۔

پولیس نے ان پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے جنھوں نے رشوت لے کر چوروں کو علاقے سے باہر نکلنے میں ان کی مدد کی۔

پندرہ اکتوبر کو علاقے میں سامان پہنچانے والے ایک رکشہ سے ایک لاکھ دس ہزار روپے چوری ہوئے تھے۔

رکشہ ڈرائیور گورو نے جب گھر پہنچ کر دیکھا تو آٹو سے پیسے غائب تھے۔ گورو نے رسول پور تھانے میں اس واقعے کی رپورٹ درج کرائی۔

’پولیس نے ہم سے پیسے لے لیے‘

فیروز آباد کے سینئیر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کمار کے مطابق ’اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی گئی۔ جس میں چور رکشے سے پیسے نکالتے ہوئے دیکھے گئے۔ ہم نے پورے ضلع کو الرٹ کیا اور ناکہ بندی کر کے چیک کرایا۔‘

18 اکتوبر کو دونوں چوروں کو گرفتار کیا گیا۔

ایس ایس پی اشوک کمار کا کہنا ہے کہ ’جب چوروں سے پیسوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ پیسے تو ہم سے پولیس نے لے لیے۔‘

پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ چوکی پر تعینات پولیس افسر اور ان کی ٹیم نے چوروں سے چوری کی رقم لینے کے بعد اپنی گاڑی میں انھیں حفاظت سے ضلع فیروز آباد کی سرحد عبور کرا دی۔

پولیس نے چوروں کو لوٹنے والے پولیس اہلکار کی پوری ٹیم کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا اور ان سے رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

مقامی صحافی مکیش بگھیل کے مطابق چار پولیس اہلکاروں کو جیل بھیجنے کا یہ واقعہ علاقے میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور اب پولیس اہلکار پہلے سے کہیں زیادہ چوکس نظر آرہے ہیں۔

گرفتار ہونے والے پولیس اہلکار

جن چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں ایک ایس آئی، دو کانسٹیبل اور ایک ڈرائیور شامل ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ واقعہ پولیس کی شبیہ کو مزید خراب کرے گا، اشوک کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس کی شبیہ پر اس داغ کو صاف کرنے میں محنت کرنا ہو گی۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کارروائی سے پولیس کی شبیہ بہتر ہو گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’عام طور پر فرض کیا جاتا ہے کہ پولیس اپنے اہلکاورں کے جرائم کو چھپاتی ہے لیکن ہم نے اس تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی اور یہ واضح پیغام دیا کہ مجرم جو بھی ہوں ان کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ 'اسی طرح کی سخت کارروائی سے بدعنوان پولیس اہلکاروں کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے مزید نے کہا کہ ’اگر پولیس خود جرائم کرنا شروع کر دے تو معاشرے کو بہت غلط پیغام جاتا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں بھی ہم نے چار پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کیا اور ان کے خلاف شراب مافیا سے رشوت لینے پر مقدمہ درج کیا اور انھیں جیل بھیجا گیا۔‘

اشوک کمار کہتے ہیں کہ ’پولیس کا کام جرم کو روکنا ہے، جرائم میں ملوث ہونا نہیں۔ اگر مستقبل میں اس طرح کا کوئی اور کیس ہمارے ضلع میں آیا تو ہم سخت کارروائی کریں گے۔‘

پولیس اہلکار قتل کے الزام میں گرفتار

حال ہی میں اترپردیش کے گورکھپور ضلع میں ایک ہوٹل پر چھاپے کے دوران کانپور کے ایک تاجر کے قتل کے سلسلے میں چھ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں ایک ایس ایچ او اور ایک سب انسپکٹر شامل ہیں۔

گورکھپور کیس میں اس سے قبل مقامی انتظامیہ اور پولیس نے متاثرہ خاندان پر مقدمہ درج نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن اس واقعہ کے بعد متاثرہ شخص کا خاندان دھرنے پر بیٹھ گیا۔ اس معاملے پر حزب اختلاف کی جماعتوں اور میڈیا میں بھی کافی بحث ہوئی جس کے نتیجے میں ملزم پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔

ریاست میں امن و امان کا مسئلہ

اتر پردیش میں سنہ 2022 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات میں امن و امان ایک اہم موضوع بن سکتا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ریاست میں جرائم میں کمی آئی ہے اور عام لوگ پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

لیکن پولیس کے ہاتھوں قتل اور ڈکیتی جیسے واقعات نے امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔