دیوندر سنگھ: انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے معطل پولیس اہلکار دیوندر سنگھ کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا

انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں حکومت نے معطل پولیس اہلکار دیوندر سنگھ کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔

جموں و کشمیر کے محکمہ جنرل انتظامیہ نے جمعرات کے روز اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کیا اور ’ریاست کی سلامتی‘ کے لیے دیوندر سنگھ کو نوکری سے ہٹا دیا۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق دو سرکاری اساتذہ کو بھی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دیوندر سنگھ کو گذشتہ سال جنوری میں شدت پسندوں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

دیوندر سنگھ کی گرفتاری کے بعد ان کے بہت سے ساتھیوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے لیکن ہر بار وہ ڈرامائی انداز میں تمام الزامات سے بری ہو جاتے تھے۔

ایک افسر نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ دیوندر سنگھ نے سنہ 1990 کی دہائی میں ایک شخص کو بڑی مقدار میں افیون کے ساتھ گرفتار کیا تھا لیکن بعد میں اس شخص کو رہا کر دیا اور افیون فروخت کر دی گئی۔ اس معاملے میں دیوندر سنگھ کے خلاف شروع ہونے والی تحقیقات کو جلد ہی روک دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 311 ٹو سی کے تحت منظور کردہ اس آرڈر کے ذریعے حکومت کو کسی بھی ملازم کو انکوائری کمیٹی بنائے بغیر نوکری سے برخاست کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس برس اپریل کے مہینے میں جموں کشمیر کی حکومت نے ’ریاست کی سلامتی‘ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی۔

اس خصوصی ٹاسک فورس کا کام سرکاری ملازمین سے متعلق مقدمات کی چھان بین کرنا ہے۔

دیوندر سنگھ کی گرفتاری کیسے ہوئی تھی؟

پولیس کے مطابق دیوندر سنگھ کو سرینگر جموں شاہراہ کے قریب واقع شہر قاضی گنڈ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دیوندر جموں جا رہے تھے۔ ان کی کار میں حزب المجاہدین تنظیم کے کمانڈر سید نوید اور ان کے ساتھ آصف راتھیر اور عمران نامی شخص بھی اسی گاڑی میں موجود تھے۔

پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پولیس چیک پوائنٹ پر ڈی آئی جی اتل گوئل اور دیوندر سنگھ کے درمیان بحث ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق جب ان کی گاڑی روکی گئی تو دیوندر سنگھ نے شدت پسندوں کا تعارف اپنے باڈی گارڈز کے طور پر کرایا لیکن جب گاڑی کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے پانچ ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوئے اور ایک رائفل بھی برآمد ہوئی تھی۔

57 برس کے دیوندر سنگھ کشمیر میں شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پیش پیش رہے ہیں۔ 90 کی دہائی میں وادی کشمیر میں شدت پسندوں نے حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی تھی۔

دیوندر سنگھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ترال علاقے کے رہنے والے ہیں۔ ترال کو شدت پسندوں کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں کشمیر میں شدت پسندانہ کارروائیوں کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کا چہرہ بننے والے برہان وانی کا تعلق بھی ترال سے تھا۔

دیوندر سنگھ کے ساتھ کام کرنے والے کئی اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ سنگھ کی کارروائیوں کے خلاف متعدد بار تفتیش ہوئی لیکن ہر بار ان کو اعلیٰ اہلکاروں کی جانب سے کلین چٹ ملی۔

دیوندر سنگھ اور افضل گرو

90 کی دہائی میں دیوندر سنگھ کی پولیس لاک اپ میں افضل گورو سے ملاقات ہوئی۔

الزام ہے کہ دیوندر سنگھ نے افضل گورو کو اپنا مخبر بنانے کی کوشش کی۔ افضل گورو کو 13 دسمبر 2001 کو انڈین پارلیمان پر ہونے والے حملے کا قصوروار قرار دیا گیا اور 9 فروری 2013 کو انھیں پھانسی دے دی گئی۔

اسی سال افضل گورو کی جانب سے تحریر شدہ ایک خط منظر عام پر آیا۔ سپریم کورٹ میں اپنے وکیل کو لکھے اس خط میں افضل گورو نے کہا تھا کہ وہ اگر جیل سے رہا ہو بھی گئے تو دیوندر سنگھ انھیں پریشان کرتے رہیں گے۔

اسی خط میں افضل گورو نے لکھا تھا ’دیوندر نے مجھے ایک بیرونی شدت پسند کو اپنے ساتھ دلی لے جانے کے لیے مجبور کیا۔ پھر مجھ سے انھیں ایک کمرہ کرائے پر دلانے اور پرانی کار خریدنے کے لیے کہا۔‘