گلوبل ہنگر انڈیکس: بھوک سے دوچار ممالک کی عالمی فہرست میں انڈیا کے درجے میں مزید تنزلی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
معاشی سست روی اور کووڈ بحران کے درمیان انڈیا میں بھوک اور غیر متوازن غذائیت کی صورتحال مزید خراب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس (جی ایچ آئی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق انڈیا پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی پیچھے ہے۔
اس 116 ممالک کی فہرست میں انڈیا 101ویں مقام پر ہے۔ اس سے قبل سنہ 2020 میں انڈیا 94 ویں مقام پر تھا۔
اس فہرست میں پاکستان 92ویں، نیپال اور بنگلہ دیش 76ویں نمبر پر ہیں جبکہ چین، برازیل اور کویت سمیت 18 ممالک سرفہرست ہیں جن کا جی ایچ آئی سکور پانچ سے کم ہے۔
گلوبل ہنگر انڈیکس یہ ظاہر کرتا ہے کہ مختلف ممالک میں لوگوں کو کیسے اور کتنا کھانا ملتا ہے۔ یہ انڈیکس ہر سال تازہ ترین اعداد و شمار کے ساتھ جاری کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے دنیا بھر میں بھوک کے خلاف جاری مہم کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی بھی عکاسی کی جاتی ہے۔
یہ رپورٹ آئرلینڈ کی امدادی ایجنسی کنسرن ورلڈ وائڈ اور جرمنی کی تنظیم ویلٹ ہنگر ہلفے نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ رپورٹ میں انڈیا میں بھوک کی سطح کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔
سال 2020 میں انڈیا 107 ممالک کی فہرست میں 94ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا کا جی ایچ آئی سکور نیچے آیا ہے۔ سال 2000 میں یہ 38.8 تھا جو 2012 اور 2021 کے درمیان کم ہو کر 28.8-27.5 رہ گیا۔
اس سکور کا تعین چار اشاروں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے: غذائیت کی کمی، بچوں کا کمزور ہونا، بچے کے قد کا چھوٹا ہونا اور بچوں کی اموات۔
بلند جی ایچ آئی کا مطلب ہے کہ بھوک کا مسئلہ اس ملک میں زیادہ ہے۔ اسی طرح اگر کسی ملک کا سکور کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں کی صورتحال بہتر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا انڈیا میں بھوک کی اتنی شدت ہے؟
نئی دہلی کی امبیدکر یونیورسٹی کی پروفیسر دیپا سنہا بھوک سے متعلق معیشت پر مہارت رکھتی ہیں۔ اُن کے مطابق ’گلوبل ہنگر انڈیکس‘ میں صرف رینک کو دیکھنا مشکوک اور نا مکمل ہو گا کیونکہ اس میں ممالک کی فہرست اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انڈیا کا رینک ضرور خراب ہوا ہے تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ سالانہ تبدیلیاں لازمی طور پر ’ہنگر انڈیکس‘ میں خرابی کی طرف اشارہ کر رہی ہوں کیونکہ اس انڈیکس کا دو تہائی حصہ غذائیت کی شرح اور شرح اموات پر مبنی ہے جو کہ سرکاری ذرائع سے آتے ہیں اور وہ سالانہ طور پر جمع نہیں کیے جاتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا میں کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کا لوگوں پر شدید اثر ہوا ہے۔‘
سنگھ کہتی ہیں کہ ’ممکن ہے کہ یہ رینک کووڈ کی وجہ سے بدتر ہوئے ہوں، جیسا کہ کئی چھوٹے مطالعے بھی ظاہر کرتے ہیں لیکن اعداد و شمار کو مزید قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی ایک اہم وجہ کووڈ وبا ضرور ہے لیکن یہ صرف اس وبائی بحران تک محدود نہیں بلکہ ایک سماجی اور ساختی مسئلہ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دیہی اور قبائلی علاقوں میں بھوک اور غذائیت کے مسئلوں پر کام کرنے والی تنظیم ’رائز اگینسٹ ہنگر‘ کے سربراہ ڈولا موہاپاترا کہتے ہیں کہ ’لوگ اس کی وجہ کووڈ اور اس کی وجہ سے لوگوں کا روایتی پیشے سے محروم ہونے کو سمجھتے ہیں لیکن اگر آپ سطح کو تھوڑا بھی کھرچیں تو معلوم ہو گا کہ ہم اس مسئلے پر کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں اور کئی برسوں سے اس کے اشارے مل رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’لہٰذا یہ صرف وبائی مرض یا خشک سالی جیسی عارضی صورتحال کے بارے میں نہیں بلکہ کھانے کی غیر مساوی تقسیم اور رسائی کے مسائل بھی ہیں۔‘
جنوبی ایشیا اور افریقہ کے کچھ حصوں میں غذائی قلت طویل عرصے سے عام ہے لیکن انڈیا میں بہت سے افریقی ممالک سے بھی بدتر صورتحال کی وجہ روایتی جنسی کردار، پیدائش کی بلند شرح اور غذائیت سے محروم بچوں اور ماؤں کی صحت، صفائی ستھرائی اور ناقص معیار کی خوراک جیسے مسائل ہیں۔
موہاپاترا اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جب وہ دیہی اور قبائلی علاقوں میں جاتے ہیں، جہاں پر بھوک کی شدت اور غذائیت کے مسئلوں کی شرح زیادہ ہے تو دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں کئی طرح کی مذہبی اور سماجی ممانعت ہیں جس کی وجہ سے وہ بہتر غذا سے محروم ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ان دیہی علاقوں میں غذائیت سے بھرپور سبزیاں دستیاب ہیں لیکن لوگوں میں اُنھیں کھانے کا رواج نہیں۔ وہ گائیں پالتے ہیں لیکن اس کا دودھ نہیں پیتے بلکہ اسے فروخت کر دیتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ہنگر انڈیکس پر اثرانداز ہونے والا غذائیت کا مسئلہ مڈل کلاس میں بھی ہے بھلے ہی ان کی معاشی حالت بہتر کیوں نہ ہو۔
وہ کہتے ہیں ’آپ کسی بھی گھر میں دیکھیں، یہاں تک کہ اپنے یا ہمارے گھر میں دیکھیں، ہم سبھی کی پلیٹس میں غذائیت کی زبردست کمی آئی ہے۔ جو ہم 20 سال پہلے کھاتے تھے وہ اب نہیں کھاتے ہیں۔‘












