آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
1971 کی جنگ: جب انڈین پائلٹ کو جان بچانے کے لیے تالاب میں چھپنا پڑا
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ گذشتہ برس اکتوبر میں شائع کی گئی تھی، جسے آج قارئین کے لیے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
چار دسمبر 1971 کی صبح، 14 سکواڈرن کے دو ہنٹر طیاروں نے کولکتہ کے ’دم دم ائیر بیس‘ سے اڑان بھرنے کے بعد ڈھاکہ کے تیز گاؤں ايئرپورٹ پر حملہ کیا۔
ایک ہنٹر طیارے میں سکواڈرن لیڈر کنولدیپ مہرا سوار تھے جبکہ دوسرے ہنٹر کو فلائٹ لیفٹیننٹ سنتوش مونے اڑا رہے تھے۔
جب وہ تیز گاؤں کے ایئرپورٹ سے گزرے تو انھیں پاکستانی لڑاکا طیارے نظر نہیں آئے کیونکہ پاکستانیوں نے انھیں چاروں طرف پھیلا رکھا تھا۔ جب مہرہ اور مونے کچھ دوسرے ٹھکانوں پر بم گرانے کے بعد واپس آنے لگے تو وہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔
سب سے پہلے مونے کی نظر کچھ فاصلے پر پاکستان کے دو سیبر جیٹ طیاروں پر پڑی۔ کچھ ہی سیکنڈ کے اندر دو سیبر جیٹ انڈین ہنٹر طیاروں کے تعاقب میں لگ گئے۔ اچانک مہرا نے محسوس کیا کہ ایک پاکستانی سیبر جیٹ طیارہ اُن کے پیچھے آ رہا ہے۔
مہرہ نے بائیں طرف مڑ کر مونے سے اس کی پوزیشن کے بارے میں پوچھا۔ انھیں مونے کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ سیبر نے مہرا کے ہنٹر پر لگاتار کئی فائر کیے۔ مہرہ نے مونے سے کہا کہ وہ سیبر پر پیچھے سے فائر کرے تاکہ وہ ان کا تعاقب کرنا چھوڑ دے۔ لیکن مہرا کو اندازہ نہیں تھا کہ مونے کے ہنٹر کے پیچھے بھی ایک سیبر ہے۔
کاک پٹ میں دھواں بھر گیا
اس وقت مونے کے ہنٹر کی رفتار 360 ناٹس تھی یعنی 414 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ مونے اپنا طیارہ بہت نیچے لے آئے اور پوری رفتار کے ساتھ دم دم کی طرف اڑنا شروع کر دیا اور اس دوران پاکستانی طیارے ان پر مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔
تاہم کنولدیپ مہرا اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ پاکستان کے فلائنگ آفیسر شمس الحق اپنے شکار پر مسلسل گولیاں چلا رہے تھے۔ وہ صرف 100 فٹ کی بلندی پر اڑ رہے تھے جب ان کے طیارے میں آگ لگ گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی دوران سیبر نے مہرا کے ہنٹر کو پیچھے چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گيا۔ مہرا اس پر نشانہ لگانا چاہتے تھے لیکن لگا نہیں سکے، کیونکہ ان کا کاک پٹ دھویں سے بھر گيا تھا اور انھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ آہستہ آہستہ آگ ان کے کاک پٹ تک پہنچنے لگی۔
پی وی ایس جگن موہن اور سمیر چوپڑا اپنی کتاب ’ایگلز اوور بنگلہ دیش‘ میں لکھتے ہیں کہ ’مہرا نے تاخیر کیے بغیر اپنی ٹانگوں کے درمیان موجود ایجیکشن بٹن دبایا۔ لیکن پیراشوٹ جو مائیکرو سیکنڈ میں کھلتا تھا وہ نہیں کھلا۔ طیارے کے اوپر لگی کینوپی ضرور الگ ہو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہوا کا ایک زوردار جھونکا آیا کہ مہرا کے گوگلز اور گھڑی ٹوٹ کر ہوا میں اڑ گئے۔ صرف یہی نہیں ان کا دایاں ہاتھ اتنی تیزی سے مڑا کہ ان کا کندھا اکھڑ گیا۔'
جگن موہن اور چوپڑا اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں ’کسی طرح مہرا نے پیراشوٹ لیور کو دوبارہ اپنے بائیں ہاتھ سے دبایا۔ اس بار پیراشوٹ کھل گیا اور مہرا ہوا میں اڑتے چلے گئے۔ جیسے ہی مہرا گرے، بنگالی دیہاتیوں نے انھیں لاٹھیوں سے پیٹنا شروع کر دیا۔ مگر ہجوم میں موجود دو افراد نے ہجوم کو روکا اور مہرا سے اُن کی شناخت پوچھی۔ مہرا کے سگریٹ اور شناختی کارڈ سے پتہ چلا کہ وہ انڈین ہیں۔ مہرا خوش قسمت تھے کہ وہ مکتی باہنی کے جنگجوؤں کے درمیان گرے تھے۔‘ (مکتی باہنی بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے پاکستان کے خلاف برسر پیکار تھی۔)
مہرا 'ایکشن میں لاپتہ' قرار
گاؤں والوں نے مہرا کو اٹھایا۔ ان کے کپڑے بدلے اور انھیں لنگی پہننے کے لیے دی۔ ایک مکتی واہنی جنگجوؤں نے ان کی پستول ان سے لے لی۔ مہرا اس قدر زخمی تھے کہ وہ اپنے پیروں پر نہیں چل سکتے تھے۔ انھیں سٹریچر پر لٹا کر قریبی گاؤں لے جایا گیا۔ لیکن راستے میں مہرا بے ہوش ہو گئے۔
گاؤں پہنچنے کے بعد گاؤں والوں نے مہرا کو ناشتہ کروایا۔ یہ ان کا دن کا پہلا کھانا تھا کیونکہ مہرہ صبح سویرے اپنے طیارے سے حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ جب انڈین فضائیہ کو کچھ دنوں تک مہرا کی خبر نہیں ملی تو انھیں 'مسنگ ان ایکشن' قرار دیا گیا۔
بعد ازاں پاکستانی فلائنگ آفیسر شمس الحق نے پاک فضائیہ کے میگزین شاہین میں ایک مضمون لکھا جس میں اس لڑائی کی تفصیل تھی۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے کس طرح سکواڈرن لیڈر کے ڈی مہرا کے ہنٹر پر فائرنگ کی تھی۔ ڈھاکہ کے قریب ہی وہ اپنے طیارے سے ایجکٹ ہوئے۔ مکتی باہنی کی مدد کی وجہ سے پاکستانی فوجی انھیں پکڑ نہ سکے اور وہ بعد میں بحفاظت انڈیا واپس ہوئے۔
زخمی مہرا اگرتلا کے قریب انڈین ہیلی پیڈ پر پہنچے
اس واقعے کے نو دن بعد ایک انڈین ہیلی کاپٹر خطے کے سرحدی علاقے اگرتلا میں ایک ہیلی پیڈ پر اترا۔ انڈین فوج کا ایک جنرل اس ہیلی کاپٹر میں بیٹھا تھا۔ جنرل کے ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد مقامی ایئر مین اس ہیلی کاپٹر کی خدمت کر رہے تھے جبکہ اس کے پائلٹ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
وہاں کسی کا دھیان نہیں گیا کہ قمیض اور لنگی میں ایک پتلا دبلا آدمی نمودار ہوا۔ اس کا داہنا ہاتھ ایک سلنگ میں بندھا ہوا تھا۔ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور اس کے چہرے پر زخم تھے۔ اس کا بازو نیلا ہو چکا تھا اور اس میں گینگرین شروع ہو چکی تھی۔ ایک نظر میں وہ شخص ان مہاجرین کی طرح دکھائی دیتا تھا جو ان دنوں پورے اگرتلا میں پھیلے ہوئے تھے۔
فضائیہ کے پائلٹ بہت حیران ہوئے جب اس شخص نے بلند آواز سے ’ماما‘ پکارا۔ ان میں سے ایک کا عرفی نام ’ماما‘ تھا۔ لیکن انڈیا کے کئی علاقوں میں لوگ اس لفظ کو بطور تخاطب استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے سوچا کہ شاید کوئی انھیں اسی طرح پکار رہا ہے۔ ویسے بھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ جنگ کے دوران کوئی بھکاری انھیں پریشان کرے۔ چنانچہ ان سے چھٹکارا پانے کے لیے، اس نے انتہائی ترش لہجے میں پوچھا ’ کیا ہے؟'
مہرا نے 100 میل کا فاصلہ طے کیا
پی وی ایس جگن موہن اور سمیر چوپڑا لکھتے ہیں: 'اس آدمی نے پائلٹ کا ہاتھ تھام کر کہا: ارے، کچھ تو پہچانو۔ پائلٹ نے بے رخی سے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے کہا ’مجھے مت چھونا۔‘ پھر اجنبی نے پوچھا کیا تمہارا کوئی دوست ہے جس کا نام کے ڈی ہے؟ پائلٹ نے جواب دیا ’جی سکوارڈن لیڈر کے ڈی مہرا۔ لیکن وہ تو مر گئے۔ اس آدمی نے جواب دیا، ’نہیں، وہ میں ہوں۔‘ تب ہی پائلٹ کو احساس ہوا کہ اس کے سامنے بھکاری نظر آنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ سکواڈرن لیڈر کے ڈی مہرا ہے، جس کا طیارہ آٹھ دن پہلے ڈھاکہ کے قریب مار گرایا گیا تھا۔ کے ڈی مہرا 'ایکشن میں غائب' تھا اور اسے مردہ سمجھا گیا تھا۔ مکتی واہنی کی مدد سے مہرا تقریبا 100 میل کا راستہ طے کرنے کے بعد اس مقام پر پہنچے تھے۔'
یہ بھی پڑھیے
چار دسمبر کو طیارہ گرنے کے بعد مکتی باہنی کے جنگجوؤں نے مہرا کی دیکھ بھال کی تھی۔ انھیں کھانا دیا تھا۔ ان کی مرہم پٹی کی تھی اور ان کی پوری دیکھ بھال کی گئی تھی۔ مکتی باہنی کے ایک نوجوان سپاہی شعیب نے مہرا کو لنگی اور قمیض پہنا کر انڈین اڈے تک پہنچانے میں مدد کی۔ اس سے قبل اس نے اپنا فلائنگ سوٹ اور آئی اے ایف شناختی کارڈ جلا کر تباہ کر دیا۔
مہرہ کو تالاب کے پانی کے نیچے رکھا گیا
ونگ کمانڈر ایم ایل بالا اپنی کتاب ’الیکٹرانک وار فیئر آف دی انٹولڈ سٹوری آف 1971‘ میں لکھتے ہیں: 'مہرا کے مکتی باہنی کے ساتھ رہنے کی خبر انڈین فوج کو پہنچائی گئی تھی لیکن اس خوف کے باعث اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر نہیں کی گئی کہ کہیں پاکستانی ان کی تلاش شروع نہ کر دین۔ مہرا کے 14 سکواڈرن کا دو دن کے بعد پتا چلا لیا گیا اور کہا گيا کہ پائلٹ شاید کے ڈی مہرا تھے۔
ایم ایل بالا لکھتے ہیں: 'مہرا کو مختصر طور پر اس گاؤں میں رکھا گیا جہاں ان کا طیارہ گرا تھا۔ پھر انھیں جھونپڑی سے نکال کر ایک تالاب میں پانی کے نیچے چھپا دیا گیا۔ انھین پائپ دیا گیا تاکہ وہ سانس لے سکیں۔ مہرا نے پوری دوپہر تالاب کے نیچے پانی میں گزاری۔ جب شام کو اندھیرا ہوا تو گاؤں والے آئے اور انھیں پانی سے باہر نکال لیا۔ پاکستانی فوجی جو مہرہ کو ڈھونڈنے نکلے تھے انھوں نے پورے گاؤں میں انھیں ڈھونڈا لیکن کسی نے بھی مہرہ کی خبر نہیں دی۔ گاؤں والوں نے مہرا کو پانچ دن تک اپنے پاس محفوظ رکھا۔
انڈین طیاروں نے پاکستانی گن بوٹس سے بچایا
کے ڈی مہرا نے ڈھاکہ کے مغرب میں پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی تھی۔ مکتی باہنی نے انھیں مشورہ دیا کہ ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ مشرق کو اگرتلہ کی طرف جائيں۔
پی وی ایس جگن موہن اور سمیر چوپڑا لکھتے ہیں: 'مہرا نے شعیب کے ساتھ ماہی گیروں کی کشتی میں میگھنا دریا عبور کیا۔ پھر مکتی واہنی کا ایک اور جنگجو سرور بھی ان کے ساتھ آیا۔ دریا عبور کرتے ہوئے ایک وقت ایک بڑا خطرہ سامنے تھا جب پاکستان کا ایک گن بوٹ قافلہ ان کے سامنے نمودار ہوا۔ مہرا اور اس کے محافظوں نے پاکستانی گن بوٹس سے دور رہنے کی پوری کوشش کی۔ اگر پاکستانی کشتی نے انھیں پکڑ لیا تو ان کی موت یقینی تھی۔'
وہ مزید لکھتے ہیں: 'پاکستانی کشتی آگے بڑھتی آ رہی تھی اور مہرا اور ان کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو بدترین حالات کے لیے تیار کر لیا تھا۔ پھر اچانک بھارتی فضائیہ کے چار طیارے نیچے آئے اور پاکستانی گن بوٹ پر حملہ کیا اور ان کی طرف سے گرائے گئے بموں کی وجہ سے کشتی میں آگ لگ گئی۔ مہرا اور ان کے ساتھیوں کی جان میں جان آئی اور وہ مشرق کی طرف بڑھتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے ایک اور پاکستانی کشتی دیکھی۔ لیکن یہ لوگ فورا ساحل پر پہنچ گئے اور لمبے لمبے گھاس کی آڑ لے لی جس کی وجہ سے پاکستانی انھیں نہیں دھونڈ سکے۔
ایئر انڈیا ہیڈ کوارٹرز کو پیغام
میگھنا دریا کے مشرقی کنارے پر اترنے کے بعد انھوں نے اگرتلہ تک تیس میل کا فاصلہ سڑک سے طے کیا۔ چوٹ اور درد کے باوجود مہرا گھنٹوں چلتے رہے۔
آخر وہ اس سڑک پر پہنچ گئے جس پر انڈین فوج کی گاڑیاں چل رہی تھیں۔ انھوں نے ہاتھ دے کر ایک جیپ روکی۔ مہرا انڈین فوجیوں کو اپنی آپ بیتی بتانے میں کامیاب ہو گئے۔
ان تینوں کو ایک فوجی جیپ میں لاد کر فوجی کیمپ لے جایا گیا جہاں ان سے تفتیش کی گئی۔ مہرا کے اصرار پر ایئر فورس ہیڈ کوارٹر کو ایک پیغام بھیجا گیا اور پھر وہاں سے معلومات ملی کہ مہرا کو لینے کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجا جا رہا ہے۔ دریں اثنا بھارتی فوج کے ایک ڈاکٹر نے مہرا کو کچھ درد کش دوائيں دیں۔
مہرا نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا: 'اس رات میں پہلی بار سکون سے سو سکا کیونکہ میں نے پچھلے آٹھ دنوں میں پہلی بار خود کو محفوظ محسوس کیا۔ میں ان تمام دنوں کبھی آرام سے نہیں رہ سکا تھا، کیونکہ میں ایسے علاقے میں تھا جو پاکستان کے کنٹرول میں تھا۔
12 دسمبر کو فوج کے کمانڈنگ افسر نے مہرا کو بتایا کہ ایک ہیلی کاپٹر ایک جنرل کو لے کر وہاں پہنچنے والا ہے۔ مہرا مکتی باہنی کے سپاہیوں کے ساتھ سکوٹر سے اس ہیلی پیڈ تک پہنچے۔ جب مہرا نے ہیلی کاپٹر اور پائلٹوں کو دیکھا تو انھوں نے فورا پائلٹ اور اپنے جونیئر 'ماما' کو پہچان لیا۔
مہرا نے فضائیہ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی
کے ڈی مہرا کو پہلے اس ہیلی پیڈ سے اگرتلا اور پھر وہاں سے شیلانگ لے جایا گیا جہاں انھیں ملٹری ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور ان کا علاج کیا گیا۔ ابتدائی علاج کے بعد انھیں ڈکوٹا طیارے سے دہلی لایا گیا۔ مہرا کا علاج کئی ماہ تک جاری رہا۔ ایک موقعے پر ان کا ہاتھ کاٹنے کی بات آئی۔ بعد میں ان کا ہاتھ بچ گیا لیکن دیگر صحت کے مسائل کی وجہ سے ان کے طیارہ اڑانے پر پابندی عائد کردی گئی۔
وہ جنگ کے خاتمے کے پانچ سال بعد فضائیہ سے قبل از وقت ریٹائر ہو گئے اور پھر چار ستمبر سنہ 2012 کو سکواڈرن لیڈر کنولدیپ مہرا نے 73 سال کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔