آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیم مانکشا: 1971 کی جنگ کے انڈین ہیرو ٹرینڈ کیوں کر رہے ہیں؟
انڈین فوج کے سابق سربراہ فیلڈ مارشل سیم مانکشا کی وفات کے گیارہ برس بعد ان کی زندگی پر فلم بنائے جانے کے اعلان کی وجہ سے ان کا نام سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔
مانکشا کو انڈیا میں سب سے عمدہ آرمی جرنیل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
وہ سنہ 1971 میں انڈیا اور پاکستان کی جنگ کے دوران انڈین فوج کے سربراہ تھے۔
یہ بھی پڑھیے
مانکشا پہلے انڈین فوجی افسر تھے جنہیں فیلڈ مارشل کا درجہ حاصل ہوا۔
مانکشا کی زندگی پر مبنی فلم کی پہلی جھلک ان کی برسی کے موقع پر ریلیز کی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم کے پوسٹع میں وکی کوشل کا حلیہ اور ان کی مانکشا سے غیر معمولی مشابہت حیران کن ہے۔
فلم ساز میگھنا گلزار نے انڈین نیوز ایجینسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ یہ فلم ان کی زندگی سے متاثر ضرور ہے لیکن بایوپِک نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک شخص، اس کی زندگی اور اس کے دور کے بارے میں ہے۔‘
بالی وڈ اداکار وکی کوشل نے بھی تصویر کے ساتھ لکھا کہ وہ مانکشا کا کردار ادا کرنے کی وجہ سے ’فخر‘ محسوس کر رہے ہیں اور یہ ان کے لیے ’اعزاز‘ کی بات ہے۔
فیلڈ مارشل سیم مانکشا کون تھے؟
سیم مانکشا کی پیدائش سنہ 1914 میں ہوئی تھی۔ ان کے والدین پارسی تھے۔ مانکشا کے فوجی کریئر کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی انڈین آرمی کے دور میں ہوا تھا۔
تقریباً چار دہائیاں اور پانچ جنگیں دیکھنے کے بعد سنہ 2008 میں ان کی وفات ہو گئی۔ انھیں ان کی بہادری کے لیے اکثر سیم بہادر کے نام سے بھی پکارا گیا۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان سنہ 1971 کی جنگ میں سیم مانکشا کی کارکردگی کے باعث انھیں اس جنگ کے انڈین ہیرو کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
مانکشا کو انڈیا کے دو بڑے قومی اعزازوں ’پدم وبھوشن‘ اور ’پدم بھوشن‘ سے بھی نوازا گیا۔
فلم کے پروڈیوسر رونی سکرووالا نے انڈین میڈیا سے کہا کہ ’سیم مانکشا کا نام تاریخ میں انڈیا کے بہترین فوجی کے طور پر درج کیا جائے گا۔‘