افغانستان میں طالبان کا قبضہ: کابل میں جیٹ طیاروں کی نیچی پروازیں، ایئرپورٹ کی دیوار پھلانگنے پر مجبور خواتین اور فائرنگ سن کر روتے بچے

    • مصنف, ملک مدثر
    • عہدہ, بی بی سی، کابل

کابل اور افغانستان بھر پر طالبان کے قبضے کے بعد پہلا جمعہ گزرا۔ آج سارا دن جیٹ طیارے نچلی پروازیں کرتے رہے اور جب انھوں نے ساؤنڈ بیرئیر توڑا تو آواز اتنی شدید تھی کہ ہم کمرے سے نکل کر اوپر چھت کی جانب بھاگے کہ شاید دھماکہ ہو گیا ہے۔

شاہراؤں پر ٹریفک جمعے کے روز بھی کچھ کم نظر آئی اور وزارت دفاع کی عقبی شاہراہ پر ایک شخص اسلامی امارات یعنی طالبان کے جھنڈے بیچ رہا تھا۔

وہاں سے ہوتا ہوا میں مکریان کے علاقے سے گزرا۔ وہاں روسی دور میں بنے اپارٹمنٹس کی بیرونی دیواروں پر خانہ جنگی کے دوران لگنے والی گولیوں کے نشان اب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ائیر پورٹ کی جانب جاتے میں سوچ رہا تھا چالیس سال کی مسلسل جنگ اور بدامنی کے بعد آخر یہاں فائرنگ اور بم دھماکوں کی آوازیں کب بند ہوں گی۔

چھ دن پہلے میں کابل کے حامد کرزئی ائیر پورٹ پر اسلام آباد سے پہنچا تھا۔ اس کے بعد ہر روز میں ائیر پورٹ آتا رہا ہوں لیکن شدید رش، طالبان، غیر ملکی فوجیوں کی فائرنگ اور لوگوں کو روکنے کی وجہ سے اندر نہیں جا پایا۔

لیکن آج ایک ایسا واقعہ ہوا کہ ایک پندرہ دن کی بچی اور اس کے خاندان کو ائیر پورٹ کے اندر لے جانے میں مدد کے دوران میں خود بھی ائیرپورٹ کا عقبی گیٹ پار کرتے ہوئے وہاں کے افغان شہریوں کے کیمپ میں پہنچ گیا۔

یہ خاندان ان لوگوں میں شامل تھا جن کے پاس دیگر ملکوں کا ویزا اور پاسپورٹ تو تھا لیکن انھیں ہزاروں لوگوں کی وجہ سے اندر نہیں جانے دیا جا رہا تھا۔

وردی میں ملبوس فوجیوں کی چیخ و پکار، فائرنگ سن کر روتے بلکتے بچے، گیٹ کے اوپر سے دیوار پھلانگنے پر مجبور خواتین اور ہر جانب موجود خوفزدہ چہرے۔۔۔

آج بھی پی آئی اے سمت متعدد پروازیں جاری رہیں جو افغان شہریوں کے انخلا میں مدد کر رہی ہیں۔

اندرون شہر کی گلیوں میں کہیں کہیں تو لگتا ہے کہ معمول کی زندگی کچھ حد تک بحال ہو گئی ہے لیکن پھر عجلت میں بیگ لیے بچوں کے ہاتھ پکڑے تیزی سے گزرتے مرد اور خواتین اس شہر میں پھیلے خوف کا پتہ دیتے ہیں۔

آج میرا گزر فروش گاہ سے بھی ہوا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تِل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی تھی لیکن اب ویسا نہیں اور یہاں ویرانی چھائی ہے۔

شہر کے کچھ حصوں میں جانے کے بعد ہم ہوٹل لوٹ آئے، جہاں دروازے پر اب ہمارا استقبال طالبان معمول کی چیکنگ سے کرتے ہیں۔

ہلمند سے آئے ایک دوست شاہ محمد (فرضی نام) سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ہلمند کی سرحد پاکستان اور ایران سے ملتی ہے اور وہاں بھی ہر جگہ طالبان کی حکومت ہے۔ ہلمند سے بہت سے لوگ علاقہ چھوڑ کر جا چکے ہیں، کچھ ابھی بھی گھروں میں خوفزدہ بیٹھے ہوئے ہیں اور حکومتی دفاتر ابھی تک فعال نہیں ہوئے۔

شاہ محمد کہتے ہیں کہ ابھی تک شرعی سختیاں تو نافذ نہیں کی گئیں لیکن ہلمند کے لوگوں نے اپنے طور پر موسیقی سننا بند کر دی ہے۔ گورنر ملا طالب نے کہا کہ ہے سکول کھول لیں، عورتیں کام کے لیے باہر آ جائیں لیکن یہاں لوگ اب بھی خوفزدہ ہیں۔ کام کرنے والی خواتین ہسپتال اور سکولوں میں تو جاتی ہیں لیکن دیگر دفتروں میں نہیں جاتیں۔

شاہ محمد کہتے ہیں کہ آگے کیا ہو گا یہ نہیں معلوم لیکن 13 دن تک ہلمند میں لڑائی ہوئی اور ہسپتال والوں کا کہنا ہے کہ 300 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے۔

’ہمیں نہیں معلوم یہ کون تھے۔۔۔ طالبان، افغان فوج کے اہلکار یا عام شہری۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’حالیہ لڑائی میں اربوں روپے کا نقصان ہوا۔۔۔ گھر جل گئے، تباہ ہو گئے اور کاروبار تباہ و برباد ہو گئے۔‘

’جب طالبان نے ہلمند پر قبضہ کیا تو ہم نہیں بتا سکتے کہ وہ تعداد میں کتنے تھے کیونکہ دیگر اضلاع سے بھی لوگ آئے ہوئے تھے۔ اب شہر میں کچھ لوگ واپس آئے ہیں۔ ہلمند کی ایک بڑی کاروباری شخصیت نے اپنے لوگوں کو کہا ہے کہ واپس آ جائیں پھر سے تعمیر شروع کرتے ہیں۔‘

شاہ محمد کی نظر میں طالبان اپنے سابقہ دور کے مقابلے میں اب مختلف دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی حکومت کا نظام بنے گا تو اصل فرق پتہ چلے گا۔

’پہلے جب طالبان قابض تھے تو وہ بچوں کو زبردستی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس زمانے میں لوگ بہت تنگ تھے۔ نہ علاقے میں تعمیر تھی نہ سہولت۔ پھر کرزئی کے پہلے دور میں لوگ خوش تھے، یہاں سکول بنے، سڑکیں بنیں لیکن کرزئی کا دوسرا دور کچھ اتنا اچھا نہیں تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

شاہ محمد کہتے ہیں کہ انھوں نے وہ دور بھی دیکھا جب لوگ خود طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

شاہ محمد کی باتیں مجھے سنہ 2015 کی یاد دلاتی ہیں، جب میں وہاں رہنے والی ایک نانی اماں سے ملا جو طالبان سے لڑتی تھیں۔ بوڑھی خاتون کے جھونپڑے میں میری ملاقات ان کے دو نواسوں سے بھی ہوئی۔ ان کی عمریں دس سے بارہ برس کے درمیان تھیں اور انھوں نے کلاشنکوف اٹھا رکھے تھے۔

اسی عرصے میں ہلمند سے برطانوی فوجی اہلکاروں کا انخلا ہوا تھا۔ برطانوی فوج کے زیادہ تر اہلکار ہلمند میں تعینات تھے۔

ہلمند کا ڈسٹرکٹ لشکر گاہ جس پر اس بار جب طالبان نے قبضہ کیا تو اسے ایک بڑی خبر کے طور پر دنیا بھر میں نشر کیا گیا یقیناً یہ طالبان کی ایک بڑی کامیابی تھی۔

امریکہ اور برطانیہ نے لشکر گاہ سمیت ہلمند کے مختلف علاقوں اور قندھار میں بہت کام کیا۔ سڑکیں، نہری نظام، ہائیڈرو پاور کی سہولت۔

لشکر گاہ کی سڑکیں دیکھ کر آپ کو اسلام آباد کے گرین بیلٹ سے مزین سڑک یاد آتے ہیں۔ امریکیوں کی جانب سے سنہ 1950 میں بننے والا نوشیرواں کا بوست قلعہ ہوٹل کے طور پر اب بھی استعمال ہوتا تھا۔ اس قلعے کے کنوئیں دیکھ کر گیم آف تھرونز کے کنوئیں یاد آتے ہیں۔

یہیں کیمپ بیسٹن بھی موجود تھا جو غیر ملکی فوجیوں کا افغانستان کے اندر دوسرا بڑا فوجی اڈا تھا اور جنگ کے دوران یہاں ائیربیس اتنی مصروف تھی کہ اسے ’منی ہیتھرو‘ کہتے تھے۔

جب برطانیہ اور دیگر فورسز نے اس کیمپ کو خالی کیا تو میرا وہاں جانا ہوا۔ یہ وسیع و عریض خالی کیمپ، جو دراصل ایک شہر کی مانند تھا، بھوتوں کا سرائے لگ رہا تھا۔

افغان فورسز اور انتظامیہ کے لیے اس کو سنبھالنا بہت بڑا چیلینج تھا جس میں وہ ناکام رہی۔ پھر جب ہلمند میں طالبان کے حملوں نے زور پکڑا تو امریکہ نے اس کیمپ کے ایک حصے کا چارج لے لیا۔

یہاں ہلمند میں بھی پوست کی کاشت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں کا ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں میں نشے کی لت ہے۔ جب برطانوی فوجیوں نے لشکر گاہ سے اپنا اڈا ختم کیا تو اسے نشے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا۔

ہلمند کے علاقے لشکر گاہ کی ایک اور اہم یاد یہ ہے کہ وہاں لوگ پاکستانی کرنسی استعمال کرتے تھے، گو کہ افغان کرنسی کی قدر ہمارے روپے سے زیادہ تھی لیکن یہاں کاروبار پاکستانی کرنسی میں ہی ہوتا تھا۔

پاکستانی کرنسی یہاں ’کالدار‘ کہلاتی ہے مگر افعان شہریوں کو اس کرنسی کے استعمال پر غصہ بھی آتا تھا۔ یہاں کے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے مجھے کبھی کبھی یہ احساس ہوتا کہ میں اپنے گھر کوئٹہ میں ہوں۔

کھیتی باڑی میں گندم اور مونگ پھلی یہاں مشہور ہے لیکن ایک سڑک کے کنارے کھائی اس کلیجی کا ذائقہ آج بھی مجھے نہیں بھول سکا۔

یہاں شیعہ ہزارہ سے بھی میری ملاقات ہوئی اور ان کی یہاں موجودگی میرے لیے باعث حیرت تھی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ادھر کیوں آئے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ ہم برطانوی فوج کو راشن سپلائی کرتے ہیں۔

شاید ان کے لیے یہ سکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ علاقہ تھا لیکن اب جب ہلمند میں اکثر لوگ خوفزدہ ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ نجانے لشکر گاہ کی یہ شیعہ آبادی اور ضلع مارجہ کی نانی خود کو بچا پائی ہوں گی یا وہ بھی کسی محفوط ٹھکانے کی تلاش میں ہوں گی۔