گائیتری دیوی: دنیا کی سب سے خوبصورت خواتین میں سے ایک، جے پور کی ’راج ماتا‘ کون تھیں؟

،تصویر کا ذریعہMaharanis: Women Of Royal India
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا میں 1960 کی دہائی میں ہنگامہ خیز سیاست کے دنوں میں سرکردہ سوشلسٹ رہنما جے پرکاش نارائن ایک محفل میں ملک سے آزادی کے خواہاں ایک قبیلے سے کیے گئے مذاکرات کے حوالے سے حاظرین کو آگاہ کر رہے تھے۔
ابھی ان کا خطاب شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک ایک مہنگے فرانسیسی پرفیوم کی مہک اٹھی اور فیروزی رنگ کی ساڑھی میں ملبوس ایک خاتون محفل میں داخل ہوئیں۔
انھوں نے اپنی بڑی، بڑی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا اور ان کی آمد پر محفل میں موجود سبھی لوگ احترام میں کھڑے ہوگئے۔
یہ تھیں جے پور کی مہارانی گائیتری دیوی، جن کا شمار دنیا کی تاریخ کے سب سے خوبصورت لوگوں میں ہوتا ہے۔
اُس محفل میں معروف مصنف خوشونت سنگھ بھی موجود تھے اور اپنی کتاب 'بک آف ان فارگیٹیبل ومین' میں لکھتے ہیں: 'انھوں نے اپنی بڑی، بادامی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا اور ہر کوئی کھڑا ہو گیا۔ جیسے کہ ہیلئیر بیلوک (انگریز مصنف اور تاریخ دان) نے کسی کے بارے میں کہا تھا، (گائیتری) کا چہرہ کسی شاہی حکم کی مانند تھا جس پر سب اپنی تلواریں نکال لیتے ہیں۔'
مہارانی نے دیر سے آنے پر معذرت کی، اپنے چہرے سے سامنے آنے والی لٹوں کو ہٹایا اور سب کو بیٹھنے کا کہہ کر خود قالین پر براجمان ہو گئیں۔
پرکاش نارائن نے دوبارہ خطاب شروع کرتے ہوئے کہا 'یہ واقعی ایک انقلاب ہے۔ ایک مہارانی عام لوگوں کے پیروں تلے بیٹھی ہیں۔'
جواباً مہارانی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور انھوں نے اپنے ہینڈ بیگ سے سونے کا ایک ڈبا نکالا اور سگریٹ سلگایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ برطانوی راج سے آزادی کے بعد انڈین حکومت قانونی طور پر شاہی اعزازوں اور سلطنتوں کو ختم کر چکی تھی لیکن گائیتری دیوی ان چند لوگوں میں سے تھیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ہمیشہ دلچسپی کا موضوع رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہی خون
ان کی والدہ بڑودہ کی شہزادی اندرا تھیں اور وہ اپنی بیٹی کو رائڈر ہیگرڈ کی کتاب 'شی: آ ہسٹری آف ایڈونچر' کی مرکزی کردار جادوگر ملکہ کے نام پر عائشہ کہہ کر بلاتی تھیں۔
دنیا کی سب سے خوبصورت خواتین کی فہرستوں میں اکثر جگہ بنانے والی گائیتری دیوی کا تعلق مشرقی انڈیا کی کوچ بہار سلطنت سے تھا۔
سلطنت کے راج کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور مغربی سماج سے متاثر ہونے کے باعث انھیں اس وقت کے حساب سے کافی آزاد خیال سمجھا جاتا تھا۔ اس سلطنت کے شہزادے اور شہزادیوں نے برطانوی سکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی اور گائیتری دیوی خود انگلینڈ اور سوئٹزرلینڈ سے پڑھی تھیں۔
ان کی آزادانہ پرورش اور مغربی طرزِ زندگی اس حیز سے جھلکتی تھی کہ اگرچہ ان کی مادری زبان بنگالی تھی لیکن وہ اس سے کہیں بہتر انگریزی اور فرانسیسی زبان میں کلام کر سکتی تھیں۔
حالانکہ ان کے سسرال جےپور میں ہندی بولی جاتی تھی لیکن وہ یہ زبان بھی بمشکل ہی بول پاتی تھیں۔ تاہم اس سے عوام کے دلوں میں ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
اکثر کہا جاتا تھا کہ ان کا ’فیشن سینس‘ اپنی کی والدہ، کوچ بہار کی مہارانی اندرا سے متاثر تھا لیکن گائیتری دیوی نے انڈین صحافی سیمی گریوال کو 1999 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کی تردید کی۔
ان کے مطابق ان کی والدہ ’ایک مختلف زمانے سے تھیں۔ وہ کہیں زیادہ نفیس تھی، میں کبھی نفیس نہیں تھی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جےپور کے مہاراجہ سے تعلق
جب جےپور کے مہاراجہ من سنگھ دوئم نے گائیتری دیوی کی والدہ سے رشتے کی بات کی تو انھوں نے یہ پیشکش مسترد کر دیا۔ کیونکہ وہ اس سے قبل دو بار شادی کر چکے تھے۔
تاہم والدہ سے اجازت نہ ملنے کے باوجود گائیتری اور مہاراجہ کا رومانس بیرونِ ملک جاری رہا۔
یہ رومانس من سنگھ کے کوچ بہار کے ایک دورے کے دوران شروع ہوا جب وہ وہاں پولو کھیلنے آئے تھے۔
اس وقت گائیتری دیوی کی عمر تقریبا 14 سال تھی اور من سنگھ 21 سال کے تھے۔
ایک برطانوی مصنف کے مطابق من سنگھ ایک 'انتہائی خوبصورت نوجوان تھے جو تین براعظموں میں ایک اعلی کھلاڑی کے طور پر مشہور تھے اور عام انڈینز کے ذہنوں میں ان وہی مقام تھا جو کہ پرنس آف ویلز کے لیے عام لوگوں کے ذہن میں تھا۔'
گائیتری دیوی نے بعد میں ایک انٹرویو میں بتایا کہ مہاراجہ 'سب ہی کو پسند تھے۔ ہر کوئی ان سے متاثر تھا، یہاں تک کہ لڑکے بھی انھیں پسند کرتے تھے۔'
وہ اپنی سوانح حیات میں لکھتی ہیں 'من سے متعلق ہر چیز ہماری توجہ کا باعث بنتی اور ہم دھیرے دھیرے ان کی زندگی کا ایک حصہ بننا چاہتے تھے۔'
جب من سنگھ ایک پولو میچ جیت کر لوٹے تو جشن میں گائیتری دیوی کی والدہ نے ان سے کہا کہ وہ ان سے 'جو چاہیں' وہ مانگ سکتے ہیں۔
گائیتری دیوی لکھتی ہیں کہ 'میں حیرت زدہ تھی جب انھوں نے فوراً کہا کہ وہ مجھے جشن منانے کے لیے کلکتہ کے ایک مشہور ریستوران میں لے جانا چاہتے ہیں اور اس سے زیادہ اس بات سے حیران ہوئی کہ ماں نے اس کی اجازت دے دی۔'
ریستوران میں انھیں تیتر پیش کیا گیا جسے وہ کاٹنا نہیں جانتی تھیں۔ 'من نے میری مدد کی۔ رات کے کھانے کے بعد ڈرائیور مجھے گھر لے آیا لیکن میرا ذہن ابھی بھی وہیں تھا اور مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سب کچھ سچ میں ہو رہا ہے۔'
لیکن جب پولو ٹیم کی جیت کے جشن کے دوران انھوں نے گائیتری دیوی کو اپنے گلاس میں شیمپین کی پیشکش کی تو گائتری نے کہا: ’میں کسی کا جھوٹا نہیں پیتی۔ پھر مجھے دوسرے گلاس میں شیمپین دیا گیا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ لکھتی ہیں کہ اس کے بعد وہ دن رات ایسے ایسے خواب دیکھنے لگیں، مثلاً یہ کہ 'مہاراجہ کے کمرے کا فرش، جو کہ میرے کمرے کے اوپر تھا، آدھی رات کو نیچے گر جائے اور وہ (معجزانہ طور پر بغیر زخم ہوئے) ہمارے ساتھ باقی رات گزاریں۔ مجھے اس کے امکانات نظر نہیں آرہے تھے لیکن میں یہاں تک سوچنے لگی تھی کی کاش میں بڑی ہو کر خوبصورت ہو جاؤں اور وہ مجھے بوسہ دیں۔'
یہ ظاہر تھا کہ من بھی ان کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ ایک بار جب گائتری دیوی کا کنبہ جےپور کے دورے پر تھا تو انھوں نے گائیتری دیوی کی والدہ سے پوچھا کہ کیا وہ ان کو گھڑ سواری کے لے جاسکتے ہیں؟
گھڑ سواری کے دوران انھوں نے کئی دفعہ گائیتری دیوی کی سیٹ اور گھوڑے کو پکڑنے کے انداز کی اصلاح کی۔
واپس آنے کے بعد گائیتری نے اپنی والدہ کو بتایا کہ ’وہ کافی اچھے گھڑ سوار ہیں لیکن جب انھوں نے مجھے کچھ مشورے دیے تو میں نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وہ لکھتی ہیں کہ ماں نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے ان کے مشورے کو کیوں نہیں سنا۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا کہ 'میں وہی کروں گی جو انھوں نے بتایا لیکن ان کی موجودگی میں نہیں۔‘
اس مرحلے تک وہ نم سے عشق میں مبتلا ہو چکی تھیں لیکن انھیں امید نہیں تھی کہ بات آگے بڑھے گی۔
وہ لکھتی ہیں کہ ان جے پور کے دورے کے فوراً بعد ہی والدہ نے انھیں بتایا کہ من نے ان سے کہا تھا کہ وہ گائیتری کے بڑے ہونے کے بعد ان شادی کرنا چاہتے ہیں اور انھوں نے جواب دیا تھا کہ 'میں نے ایسی جذباتی بکواس پہلے کبھی نہیں سنی ہے۔'
جب وہ لندن اور سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کررہی تھیں تو دونوں کی دوبارہ ملاقات ہوئی اور وہ خفیہ طور پر ملنے لگے۔ من نے ان سے شادی کی بات کی اور انھوں نے ہاں کر دیا لیکن ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنی والدہ کو اس کے بارے میں بتاسکیں۔
آخرکار ان کی بھی والدہ راضی ہوگئیں اور 1940 میں دونوں کی شادی ہوگئی۔ وہ اس وقت 28 سال کے تھے اور گائتری 21 برس کی تھیں۔
مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'میں ایک ٹوم بوائے تھی'
جے پور کوچ بہار کے مقابلے میں ایک قدامت پسند ریاست تھی اور کوچ بہار میں گائیتری کی پرورش آزادانہ ماحول میں ہوئی تھی۔
وہ خود بتاتی ہیں کہ وہ ایک 'ٹوم بوائے' کی طرح رہتی تھیں۔ انھوں نے 12 سال کی عمر میں اپنا پہلا شکار کیا، نو عمری سے ہی گھڑ سواری کرتیں اور لڑکوں کے ساتھ پولو کھیلتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ 'مجھے ساڑیاں وغیرہ پہننے سے نفرت تھی۔ میں چوڑی دار کرتہ اور پاجامہ پہنتی تھی۔'
اس کے برعکس جے پور میں رانیاں پردے میں رہتی تھیں تو یہاں انھوں نے ایک درمیانہ راستہ نکالا۔ وہ ریاستی امور کے لیے پردے کا اہتمام کرتیں لیکن دیگر معاملات میں اپنے من پسند لباس پہنتیں، چاہے وہ اپنی ٹریڈ مارک شفون ساڑی میں ہوں، ٹینس کھیل رہی ہوں، گھڑ سواری کررہی ہوں، پولو کھیل رہی ہوں، خود سے گاڑی چلارہی ہوں یا محل کے منتخب مہمانوں کی میزبانی کر رہی ہوں۔
اگرچہ 1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد شاہی ریاستوں کو انڈین یونین میں ملا دیا گیا اور شاہی القابات ختم کردیے گئے، وہ پھر بھی ایک شاہی زندگی گزار رہی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی میزبانی کی، کینیڈی کنبے کا دل لبھایا اور نیویارک اور لندن کی اعلی پارٹیوں میں بھی شریک رہیں۔
سنہ 1959 میں من سنگھ کے 'راج پرموکھ' کے رسمی عہدے کے خاتمے تک گائیتری دیوی کے لیے ایک خصوصی طیارہ مقرر تھا جسے اخراجات کم کرنے کی خاطر آخر کار فروخت کرنا پڑا۔
آہستہ، آہستہ اس شاہی خاندان کو یہ احساس ہونا شروع ہو گیا کہ ان کے ماضی کہ وہ سنہرے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔
پہلے ان کی شاہی ریاستوں کو یونین میں ضم کر دیا گیا، پھر ان کے شاہی لقبوں (مثلا مہاراجہ اور مہارانی) کو ختم کردیا گیا اور پھر ریاستی لقب (راج پرموکھ) بھی نہیں رہا۔
'یہاں دو بندر بھی ناچیں تو لوگ ان کے آس پاس جمع ہوجائیں گے'
اسی درمیان گاندھی کے قریبی ساتھی سی راجا گوپال چاری نے ایک نئی پارٹی کا اعلان کیا جو کہ نہرو کے سوشلزم کے طریقہ کار کے برعکس آزاد مارکیٹ کی حامی تھی۔
گائیتری لکھتی ہیں کہ 'جب ہم نے پہلی بار اس پارٹی کے بارے میں سنا تو اس نے مجھے اور من دونوں کو راغب کیا۔ آخر کار کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ اگر انڈیا میں جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو کانگریس پارٹی کے خلاف ایک موثر اور معقول حزب مخالف کی ضرورت ہے۔'
اس کے بعد 1961 میں وہ اس پارٹی میں شامل ہوگئیں جس سے پریس، سیاست دانوں اور عوام میں کافی تجسس پیدا ہوا۔
گائیتری لکھتی ہیں کہ ریاست کے وزیر اعلی نے اس سے قبل انھیں کانگریس میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی تاہم ان کے فیصلے کے بعد انھوں نے ریاستی اسمبلی میں ناراضگی کے ساتھ کہا تھا کہ 'جو شہزادے خود کو سیاست میں مشغول کرینگے وہ اپنے 'پریوی پرسوں' کو کھو دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
البتہ وزیر اعلی کو اسمبلی کے ایک آزاد ممبر کے سوال نے خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ کیا یہ اصول کانگریس میں شامل سابق حکمرانوں پر بھی اتنا ہی لاگو ہوگا۔
اگرچہ گائیتری ایک سیاسی جماعت میں شامل ہوچکی تھیں لیکن وہ عوامی طور پر تقریر کرنے سے خوفزدہ رہتی تھیں اور شہر جے پور میں پارٹی رہنما راج گوپالچری کو متعارف کروانے سے کئی دن پہلے سے 'ان کے منہ اور لب خشک پڑ گئے تھے'۔
گائیتری دیوی نے اپنے اس خوف کے بارے میں اعتراف کیا تو انھیں یہ کہا گیا کہ جے پور ایک ایسی جگہ ہے جہاں اگر دو بندر بھی ناچیں تو لوگ ان کے آس پاس جمع ہوجائینگے۔
آہستہ آہستہ عوامی جلسوں میں بولنے کا انکا خوف کم ہوا اور 1962 میں انھوں نے پہلے پارلیمانی انتخاب میں حصہ لیا۔
وہ انتخابی مہم کے لیے اپنی ایئر کنڈیشن رولس رائس کار میں عوام سے ملنے جاتی تھیں اور اپنے کمزور ہندوستانی زبان میں ووٹروں کو خطاب کرتی تھیں۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ جب انتخابات ہوئے تو نو لاکھ سے زیادہ ووٹوں میں سے پانچ لاکھ ووٹ انکو ملے جو کہ اس وقت کی سب سے بڑی جیت تھی۔
سیاست سے ریٹائرمنٹ سے قبل انھوں نے مزید دو بار اپنی پارلیمانی سیٹ جیتی۔
سیاست سے ریٹائرمنٹ کے فیصلے میں ان کے شوہر اور بھائی کی ایک کے بعد موت ہونا بڑی وجہ تھی لیکن سیاست کی رسہ کشی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
جب 1975 میں اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اور حزب اختلاف کے تمام اہم رہنماؤں اور نقادوں کو جیل بھیج دیا تو ایک انٹرویو میں گائیتری دیوی نے طنزاً کہا کہ انھیں یہ دیکھ کر برا لگا کہ سب کو گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن مجھے نہیں کیا گیا ہے، جیسے کہ میں کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔
وہ لکھتی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں گئیں تو سب انھیں دیکھ کر حیران ہو گئے کہ وہ گرفتار کیسے نہیں ہوئیں۔
لیکن جیسے ہی وہ دارالحکومت نئی دہلی میں اپنے سرکاری رہائش گاہ پر واپس آئیں تو پولیس اہلکار پہنچ گئے اور گائیتری دیوی کو ان کے سوتیلے بیٹے بھوانی سنگھ کے ساتھ گرفتار کر کے تہاڑ جیل میں ڈال دیا گیا۔
جب وہ جیل میں تھیں تب اندرا گاندھی حکومت نے ایک مبینہ افواہ کہ ان کے محل کے نیچے ایک بڑی رقم چھپی ہوئی ہے، کی بنیاد پر وہاں کھدائی کی اور گائیتری دیوی پر غیر اعلانیہ دولت ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
جب انھیں پانچ ماہ بعد رہا کیا گیا تو انھوں نے سیاست سے تقریباً تمام رشتے ترک کر دیے۔
کئی سالوں بعد 1989 میں، انھوں نے اپنے سوتیلے بیٹے بھوانی سنگھ کے خلاف انتخابی مہم چلائی جو کہ جے پور سے کانگریس کے امیدوار تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پھر وقت کے ساتھ ساتھ گائیتری دیوی نے عوامی زندگی سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی۔
جب ان کے خاندان میں وراثت کی خاطر ایک پیچہدہ جدوجہد جاری تھی تو اس دوران آج سے 12 برس قبل 29 جولائی 2009 کو 90 برس کی عمر میں ایک مختصر عرصے بیماری کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی گائیتری دیوی کی تصاویر جے پور کے گھروں میں ملتی ہیں اور ان کے مداحوں کے لیے وہ آج بھی 'راج ماتا' ہیں۔












