چین میں 24 برس تک اغوا شدہ بیٹے کی تلاش کرنے والے باپ کو بچھڑا ہوا بیٹا مل گیا

Guo Gangtang and a picture of his missing son

،تصویر کا ذریعہWeibo

،تصویر کا کیپشنبیٹے کی تلاش میں گوو گنگ تینگ نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر ڈالی اور جب پیسے ختم ہو گئے تو انھیں بھیک مانگتے اور پلوں کے نیچے سوتے دیکھا گیا

ایک چینی شخص کو 24 سال کی تلاش کے بعد اپنا بچپن میں اغوا کیے جانے والا بیٹا دوبارہ مل گیا ہے۔ اس دوران انھوں نے اپنے بیٹے کی تلاش میں پورے ملک میں موٹر سائیکل پر پانچ لاکھ کلومیٹر کا سفر کیا۔

گوو گنگ تینگ کے بیٹے کو دو سال کی عمر میں انسانی سمگلروں نے صوبہ شانڈونگ میں ان کے گھر کے سامنے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان کے بیٹے کی گمشدگی پر سنہ 2015 میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی جس کے اداکاروں میں ہانگ کانگ کے سپر سٹار اینڈی لاؤ بھی شامل تھے۔

چین میں بچوں کا اغوا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور ہر سال ہزاروں بچے اغوا کر لیے جاتے ہیں۔

چین کی وزارت برائے عوامی تحفظ کے مطابق، پولیس ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے ان کے بیٹے کا پتہ لگانے میں کامیاب رہی۔ گلوبل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد میں دو مشتبہ افراد کا کھوج لگا کر انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

چائنہ نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمان جو اُس وقت ایک دوسرے کو ڈیٹ کر رہے تھے، انھوں نے رقم کے عوض بچے کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

گوو گنگ تینگ کے بیٹے کو ان کے گھر کے باہر اکیلے کھیلتا دیکھنے کے بعد، مشتبہ خاتون نے اسے پکڑا اور بس سٹیشن لے گئی جہاں اس کا ہو نامی ساتھی پہلے سے انتظار میں موجود تھا۔

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2015 میں لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق چین میں ہر سال 20 ہزار بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثریت کو اندورنِ اور بیرون ملک گود لینے والے افراد کو فروخت کر دیا جاتا ہے

اس کے بعد یہ جوڑا قریبی صوبے ہنان جانے کے لیے انٹرسٹی کوچ پر سوار ہوا اور وہاں انھوں نے اس بچے کو فروخت کر دیا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گو گنگ تینگ کا بیٹا اسی صوبے میں رہ رہا تھا۔ گوو نے نامہ نگاروں کو بتایا ’اب جب مجھے میرا بیٹا واپس مل گیا ہے، اس کے آگے سب اچھا ہو گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

سنہ 1997 میں بیٹے کے اغوا کے بعد گوو نے اس کی تلاش میں موٹر سائیکل پر ملک کے 20 سے زیادہ صوبوں کا سفر کیا۔

اس دوران کئی مرتبہ ٹریفک حادثات میں ان کی ہڈیاں ٹوٹیں اور کئی شاہراہوں پر ڈاکوؤں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ان کی دس موٹر سائیکلیں بھی ٹوٹ گئیں۔

بیٹے کی تصویر والے بینر لٹکائے، اس کی تلاش میں گوو گنگ تینگ نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر ڈالی، اور جب پیسے ختم ہو گئے تو انھیں بھیک مانگتے اور پلوں کے نیچے سوتے دیکھا گیا۔

ماؤ اور ان کے والدین

،تصویر کا ذریعہCCTV

،تصویر کا کیپشنسنہ 2020 میں ماؤ یِن 32 برس بعد اپنے والدین سے ملے۔ ماؤ کو سنہ 1988 میں ایک ہوٹل سے اغوا کر لیا گیا تھا

اس دوران وہ چین میں لاپتہ افراد کے لیے بنائی تنظیموں کے ایک ممتاز ممبر بھی بن گئے اور کم از کم سات والدین کو ان کے اغوا کیے گئے بچوں کے ساتھ دوبارہ ملانے میں مدد دی۔

جیسے ہی یہ خبر نشر ہوئی کہ گوو کا بیٹا مل گیا ہے، چینی سوشل میڈیا ان کے لیے خوشیوں بھرے حمایتی پیغامات سے بھر گیا۔

ایک شخص نے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم ویبو پر لکھا ’بہت سے والدین شاید سالوں پہلے امید چھوڑ چکے ہوتے۔ لیکن گوو بہت حیرت انگیز انسان ہیں اور میں واقعتاً ان کے لیے خوش ہوں۔‘

چین میں کئی دہائیوں سے بچوں کے اغوا اور ان کی سمگلنگ ایک مسئلہ رہا ہے.

2015 میں لگائے گئے ایک اندازے کے مطابق چین میں ہر سال 20 ہزار بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثریت کو اندورنِ اور بیرون ملک گود لینے والے افراد کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔