ریاست پٹودی: ہندو مسلم بھائی چارے کی صدیوں کی تاریخ پر ’ہندوتوا‘ کا سایہ؟

مہا پنچایت کی ایک تصویر

،تصویر کا ذریعہUGC

،تصویر کا کیپشندہلی سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع پٹودی شہر میں منعقدہ مہا پنچایت کی ایک تصویر
    • مصنف, دلنواز پاشا
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی

جب ہماری گاڑی دہلی سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹودی کی تنگ گلیوں میں ایک دکان کے سامنے رکی تو وہاں کھڑے نوجوانوں نے کہا: 'ہم نے کار پر لکھے پریس کو دیکھ کر ہی سمجھا لیا تھا کہ رپورٹر مہا پنچایت پر بات کرنے آئے ہیں۔'

ایک نوجوان جس کے گلے میں زعفرانی رنگ کا یعنی بھگوا کپڑا تھا اس نے کہا: 'ہم مہا پنچایت کے بارے میں کھل کر بات کریں گے، اپنے خیالات رکھیں گے۔ لیکن ابھی یہاں نہیں، تنہائی میں۔۔۔'

اس گروسری سٹور کے باہر سات آٹھ نوجوان بات چیت کر رہے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے گلے میں زعفرانی رنگ کا کپڑا تھا اور ماتھے پر تلک تھا (جو کہ انڈیا میں ہندوتوا کی علامت بنا ہوا ہے)۔ نوجوانوں کا یہ گروہ 04 جولائی کو پٹودی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ مہا پنچایت میں بھی شامل تھا۔

پٹودی میں حال ہی میں قائم کیے جانے والے دھرم رکشا منچ (مذہب تحفظ فورم) نے اس پنچایت کا اہتمام کیا تھا۔ اس میں پٹودی اور آس پاس کے دیہات کے لوگوں کے علاوہ باہر سے آنے والے ہندو کارکنوں اور سنتوں نے بھی شرکت کی تھی۔ مقامی انتظامیہ نے اس پنچایت کے لیے اجازت نہیں دی تھی۔

ایس ڈی ایم پردیپ کمار کے مطابق ہندو تنظیموں نے پنچایت کے لیے اجازت طلب کی تھی لیکن درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

اس پنچایت میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد اور اشتعال انگیز نعرے بازی کی گئی۔ ایک منتظم کے مطابق پنچایت کا مقصد 'لَو جہاد، اراضی جہاد اور تبدیلی مذہب کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ہندو مفادات کے تحفظ کے لیے لوگوں کو متحد کرنا تھا۔'

پٹودی
،تصویر کا کیپشنپٹودی کا سائن بورڈ

پٹودی کا سماجی تانا بانا

قومی دارالحکومت دہلی سے تقریباً 60 کلومیٹر اور گروگرام (گڑگاؤں) سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹودی اپنی نوابی تاریخ کے لیے معروف ہے۔ یہاں کی تقریباً بیس ہزار آبادی میں زیادہ تر ہندو ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں چار سے پانچ ہزار مسلمان رہتے ہیں۔

انگریزوں کے دور میں قائم ہونے والی پٹودی ریاست پٹودی اور آس پاس کے 52 دیہاتوں پر مشتمل تھی جس میں اکثریت ہندو کی تھی لیکن اقتدار مسلم نوابوں کے ہاتھ میں تھا۔ معروف کرکٹر نواب منصور علی خان پٹودی اور ان کے بیٹے اور بالی وڈ اداکار سیف علی خان اس نواب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔

آزاد ہندوستان میں نوابی تو ختم ہو گئی لیکن پٹودی کا فرقہ وارانہ بھائی چارہ قائم رہا۔ یہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں۔ پٹودی کے لوگوں کے مطابق یہاں کبھی بھی کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔

سینیئر صحافی اوم پرکاش کا کہنا ہے 'پٹودی ایک پُرامن شہر ہے، یہاں تقریباً 25 فیصد مسلمان آباد ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں گہرا بھائی چارہ ہے۔ نوابی تاریخ بھی ہندو مسلم اتحاد کی ہی ہے۔ پٹودی میں رام لیلا کا آغاز یہاں کے نواب نے کیا تھا۔ پٹودی میں کبھی کوئی بڑا مذہبی تناؤ یا فساد نہیں ہوا ہے۔‘

چار جولائی کو منعقدہ مہا پنچایت بھی اسی رام لیلا میدان میں منعقد ہوئی تھی۔ پنچایت میں شامل ایک ہندتوا کے کارکن نے کہا: 'پٹودی کی ایک تاریخ یہ ہے کہ یہاں رام لیلا کی بنیاد نواب نے ڈالی تھی اور اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ہمیں ہندو مفادات کے تحفظ کے لیے یہاں مہاپنچایت کرنی پڑ رہی ہے۔ مہاپنچایت کے باوجود ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، یہ اس کا ثبوت ہے کہ اب بھی بھائی چارہ برقرار ہے۔'

ہندوتوا کے نظریات کے حامل ان نوجوانوں کے گروہ کے پاس بیٹھی ایک معمر خاتون نے کہا کہ 'یہاں سب مل جل کر رہتے ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو شادی بیاہ میں بھی بلایا جاتا ہے۔ انھیں ہم سے کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔'

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشادی کی علامتی تصویر

مہا پنچایت کے بعد مسلمانوں میں خوف و ہراس

پٹودی میں مسلمانوں کی آبادی شہر کی جامع مسجد کے آس پاس کے علاقے تک محدود ہے۔ یہاں کے لوگ کیمرے کو دیکھ کر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ 'پٹودی کا ماحول اچھا ہے، مہاپنچایت کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا، اگر ہم کچھ کہتے تو اس سے ماحول خراب ہوگا۔'

70 سالہ محمود پٹودی کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ وہ باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ ان کی کپڑے کی دکان ہے۔ محمود کہتے ہیں: 'مسلمانوں کے خوف کی وجہ یہ ہے کہ پنچایت میں مسلمانوں کو کھلی دھمکیاں دی گئیں۔ ہندوؤں سے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کو یہاں سے بے دخل کردیں، ان سے دکانیں اور مکانات خالی کروا لیں۔'

محمود کہتے ہیں: 'صرف پٹودی میں ہی مسلمان رہتے ہیں، چاروں طرف ہندو کے گاؤں ہیں۔ آج مسلمان کو ہندو نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ زیادتی ہے لیکن ہم اس کے خلاف کیا کر سکتے ہیں؟ ہمیں نعرے بازی سے بہت دکھ پہنچا، لیکن ہم خاموش رہے، ہم نے کچھ نہیں کیا۔'

محمود کہتے ہیں کہ یہاں سب ایک ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں لیکن مہاپنچایت کے بعد تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پٹودی کے آس پاس کے ہندو اکثریتی دیہاتوں میں پھیری کرنے والے یا کسی کام سے آنے جانے والے مسلمانوں کے ساتھ روک ٹوک ہوئی اور مار پیٹ کے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔

محمود کہتے ہیں: 'اگر مسلمان قریبی کسی گاؤں میں سامان بیچنے جاتے ہیں تو وہ ان پر الزام لگاتے ہیں۔ اگر کسی مسلمان بزنس مین کا آس پاس کے گاؤں میں کوئی قرض ہے تو وہ اس کا مطالبہ کرنے بھی نہیں جا سکیں گے۔ اگر پھیری والے مسلمان آس پاس کے گاؤں میں نہیں جا سکتے تو ان کے گھروں میں فاقے کی نوبت آ جائے گی۔'

دوسری جانب حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقلیتی مورچا کے ضلعی صدر راجو خان کا کہنا ہے کہ 'پٹودی میں صدیوں سے قائم بھائی چارہ ہے۔ ہندو مسلمانوں کے لیے کھڑے ہیں اور مسلمان ہندوؤں کے لیے کھڑے ہیں۔ پتا نہیں کہ یہ کیوں منعقد کیا گیا۔'

راجو کا کہنا ہے کہ 'پنچایت میں اشتعال انگیز نعرے بازی باہر سے آنے والے لوگوں نے کی تھی۔ اس کے باوجود ہر کوئی پٹودی میں پر سکون ہے۔'

جبکہ 70 سالہ حاجی عبد الرشید کہتے ہیں: 'ہمیں نہیں معلوم کہ باہر والے یہاں آکر یہاں کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔ پٹودی کے ہندوؤں نے کبھی ہمیں پریشان نہیں کیا۔ پنچایت میں نعرے بازی کے باوجود ہمیں خوف نہیں ہے کیوں کہ ہمیں یہاں کے لوگوں پر بھروسہ ہے۔'

راجو خان
،تصویر کا کیپشنراجو خان بی جے پی کے اقلیتی امور کے ضلع سطحی صدر ہیں

کیا 'لَوجہاد' کے معاملات بڑھ رہے ہیں؟

انڈیا میں ہندو تنظیموں کا الزام ہے کہ مسلمان نوجوان اپنی مذہبی شناخت کو چھپا کر اور ہندو کی حیثیت سے خود کو پیش کر کے ہندو لڑکیوں کو اپنے دام محبت میں پھنساتے ہیں۔ ہندو تنظیمیں اس کو 'لَو جہاد' کہتی ہیں۔ بہر حال اس کے بارے میں کوئی ٹھوس ڈیٹا یا شواہد موجود نہیں ہیں۔

پٹودی میں منعقدہ ہندو دھرم رکشا سنگٹھن کی مہاپنچایت بھی اس طرح کے معاملات کے خلاف احتجاج میں تھی۔ پنچایت میں شامل مقررین نے دعویٰ کیا تھا کہ پٹودی کے علاقے میں اس طرح کے بہت سے معاملات منظرعام پر آئے ہیں۔ کچھ مقررین نے کہا تھا کہ پٹودی اور آس پاس کے دیہاتوں میں اس طرح کے 18 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

تاہم جب بی بی سی نے ہندوتوا تنظیموں سے ایسے معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ایک بھی کیس کی معلومات نہیں دی گئی۔

اور مانیسر کے ڈی سی پی ورون سانگلہ نے بی بی سی کو بتایا: 'حالیہ مہینوں میں پٹودی اور آس پاس کے علاقوں میں ایسا کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔'

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا پٹودی یا گروگرام پولیس نے 'لَو جہاد' کے معاملات درج کیے ہیں تو انھوں نے کہا: 'ہم اس طرح کا کوئی ڈیٹا نہیں رکھتے ہیں۔'

ہندو دھرم رکشا منچ سے وابستہ سنجیو یادو جانولا نے مہا پنچایت کا انعقاد کیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جانولا نے کہا: 'مہاپنچایت میں نہ صرف دور دراز کے دیہاتوں اور شہروں سے لوگ اور سادھو سنت آئے تھے بلکہ پٹودی کے علاقے میں لو جہاد، لینڈ جہاد، تبدیلی مذہب جیسی برائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے یہ پنچایت کی گئی تھی۔'

وہ کہتے ہیں: 'پٹودی کے علاقے میں برسوں سے پرامن ماحول چلا آرہا ہے، ہم نے انتباہ کیا ہے کہ کسی بھی جہادی کو اس امن کو خراب کرنے کا کام نہیں کرنا چاہیے۔'

پنچایت میں پرتشدد نعرے بازی کے سوال پر جانولا نے کہا: 'اس طرح کی نعرے بازی غلط تھی، ہم نے پنچایت کے سامنے فیصلہ کیا تھا کہ ہم صرف ہندو مفاد اور ہم آہنگی کی پیروی کریں گے۔ کسے کاٹنا ہے، کسے جلا دینا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

جانولا کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیم کو حالیہ دنوں میں پٹودی کے علاقے میں لَو جہاد کے 18 واقعات ملے ہیں۔ تاہم وہ کسی ایک معاملے کے بارے میں ٹھوس معلومات دینے کے قابل نہیں ہیں۔

جب ہم نے ان سے اس طرح کے واقعات میں 'متاثرہ خاندانوں' کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: 'جس کی بیٹی یا بہن کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آتاہے تو اس کا کنبہ ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ ہمارے سامنے کہتے ہیں کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے لیکن اسے عوامی طور پر تسلیم نہیں کرتے ہیں۔'

جب ہم نے اصرار کیا کہ جس معاملے پر مہاپنچایت ہورہی ہے، اس خطے کا امن خطرے میں ڈالا جا رہا ہے، اس کی کم از کم ایک مثال تو پیش کریں تو جانولا کہتے ہیں: 'اس طرح کے معاملات کی مکمل رپورٹ ہماری کمیٹی کے پاس ہوگی۔ جب ضرورت پیش ہوگی تو اس کو ظاہر بھی کریں گے۔ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہندو معاشرے کے متاثرین آگے آنے سے گھبراتے ہیں۔ معاشرے کے خوف کی وجہ سے وہ بولنے سے قاصر ہیں۔'

انڈیا کا آئین بالغ شہریوں کو اپنی مرضی سے شادی کا حق دیتا ہے۔ مختلف مذاہب کے لوگوں کے مابین بھی شادی کرنے کی آزادی ہے۔ پھر ہندو رکشا منچ جیسی تنظیمیں اس طرح کی شادیوں کی مخالفت کیوں کرتی ہیں؟ اس پر جانولا نے کہا: 'مجھے نہیں معلوم کہ آئین کس کس چیز کی اجازت دیتا ہے، بھارت کا جو قانون بنایا گیا ہے کیا وہ صرف ہندوؤں پر ہی نافذ ہوتا ہے۔'

جانولا کا کہنا ہے کہ 'جب بھی بین المذہبی شادیاں ہوں گی، ہم ان کی مخالفت کریں گے، خواہ یہ شادیاں شناخت ظاہر کرکے ہی ہو رہی ہوں۔ ہندو بیٹی کی شادی صرف ایک ہندو سے ہی ہوگی۔ ہم کسی مسلمان کے گھر ہندو بیٹی کو نہیں جانے دیں گے۔'

جانولا کہتے ہیں: 'مسلمان اپنا نام ہندو رکھ کر گاؤں کے اندر گھومتے ہیں اور ہماری بھولی بھالی ہندو لڑکیوں کو دھوکے سے اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔

'یہ جہادی کچھ وقت انھیں اپنے پاس رکھتے ہیں پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ عامر خان (بالی وڈ اداکار) نے بھی ابھی ایسا ہی کیا ہے۔ یہاں ایک قسم کا جہاد چھوٹے سے اعلیٰ سطح تک ہو رہا ہے۔

'ہندو مت میں اگر کوئی اپنی بیوی کو چھوڑتا ہے تو دوسری شادی آسانی سے نہیں ہوتی۔ لیکن مسلمانوں میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا آسان ہے۔'

سینیئر صحافی اوم پرکاش کا کہنا ہے کہ 'اگر دو افراد محبت کرتے ہیں، تو میں اسے لَو جہاد نہیں سمجھتا۔ لیکن ہدف بنا کر، ہندو لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرکے پھانسنا غلط ہے۔ میرے علم میں پٹودی میں اب تک ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔'

اوم پرکاش کا کہنا ہے کہ 'حال ہی میں لو جہاد جیسا ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا لیکن اس میں بھی لڑکی اور لڑکے کے مابین معاہدہ ہوا تھا۔ کوئی شکایت نہیں درج کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے واقعات ہوئے ہیں لیکن میری اپنی معلومات کے مطابق نہیں ہوئے ہیں۔ دائیں اور بائیں سے اس طرح کے معاملات کی اطلاعات ہیں، اس کے بارے میں سن رہے ہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہوگا۔'

پٹودی میں نواب خاندان کے محل کی دیوار کے سایہ میں کچھ لوگ تاش کھیل رہے ہیں۔ یہاں بیٹھے بزرگ دھرمپال بترا کہتے ہیں: 'میں مہاپنچایت میں نہیں گیا تھا۔ تبدیلی مذہب اور لو جہاد کے بارے میں ہمارے پاس کے 52 گاؤں میں ایک مہاپنچایت ہوئی تھی۔ لیکن ہمارے علاقے میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے۔'

مبینہ لَو جہاد کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بترا کا کہنا ہے کہ 'لڑکا اور لڑکی دونوں ساتھ رہتے ہیں جب معاملات غلط ہوجاتے ہیں تو وہ اسے لو جہاد قرار دیتے ہیں۔'

پنچایت میں اشتعال انگیز نعرے بازی پر بترا نے کہا: 'ہر طرح کے لوگ پنچایت میں آتے ہیں، اپنی زبان بولتے ہیں۔ اس سے ماحول خراب ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں کوئی بڑا فرق نہیں پڑا ہے۔ ہر کوئی پٹودی میں ساتھ مل جل کر رہتا ہے۔'

پھر یہ اشتعال انگیز نعرہ بازی کیوں ہوئی ہوگی؟ اس پر بترا کہتے ہیں: 'کچھ لوگ اپنی شہرت کے لیے یہ پنچایت کر رہے ہیں۔ پٹودی 52 دیہات کی ایک ریاست ہے، لہذا یہاں پنچایت ہوئی۔ آس پاس کے دیہات میں مسلمان نہیں ہیں مسلمان صرف یہیں ہیں، اس لیے یہاں پنچایت رکھی گئی ہوگی۔'

تاہم بترا کا کہنا ہے کہ پنچایت کی وجہ سے ہندو مسلم اتحاد کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

رام بھکت گوپال
،تصویر کا کیپشنرام بھکت گوپال دہلی میں گولی چلانے کے واقعے سے مشہور ہوئے تھے

پولیس نے ایف آئی آر درج کرلی

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ڈیڑھ سال قبل ہونے والے احتجاج کے دوران گولی چلانے کی وجہ سے سرخیوں میں آنے والے رام بھکت گوپال نامی ہندو کارکن نے بھی مہاپنچایت میں پرتشدد تقریر کی۔ گروگرام پولیس نے اتوار کے روز اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد رام بھکت گوپال کو گرفتار کرلیا ہے۔

ایک مقامی ہندو تاجر کی شکایت پر پولیس نے رام بھکت گوپال عرف گوپال شرما کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153 اے اور 295 اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ مہا پنچایت کے دوران،کرنی سینا کے سربراہ اور ہریانہ بی جے پی کے ترجمان سورج پال امو نے بھی اشتعال انگیز تقریر کی تھی لیکن ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

گوپال کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے گروگرام پولیس کے ترجمان سبھاش بوکن نے بی بی سی کو بتایا: 'اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، متعلقہ شخص کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔'

حراست میں لئے جانے سے قبل بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رام بھکت گوپال نے کہا تھا: 'میری تقریر میں کچھ الفاظ تھے جو میں استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا، زیادہ گرمی اور ہجوم کی وجہ سے میرے منہ سے لاعلمی میں کچھ ایسے الفاظ نکلے تھے۔ اٹھا لینے کے بجائے میں شادی کرکے لانے کی بات کررہا تھا۔'

گوپال نے کہا: 'میں نے وہاں بہنوں اور بیٹیوں کو سناتن دھرم میں لانے کی بات کی ہے۔ میرے خون میں شری رام اور پرشورام کے سنسکار شامل ہیں، جو مجھے کسی بہن بیٹی کی توہین کرنا نہیں سکھاتے۔'

جب بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ ان کی تقریر سے تشدد بھڑک سکتے تھے تو انھوں نے کہا: 'میں آئین پر مکمل طور پر یقین رکھتا ہوں، میں نہ تو تشدد کو حل سمجھتا ہوں اور نہ ہی اس کی حمایت کرتا ہوں۔ میں صرف ہندوؤں کو اپنے دفاع کے لیے سمجھاتا ہوں۔'

گوپال نے اپنی تقریر میں ہندو نوجوانوں سے اشارتا ہتھیار رکھنے کے لیے کہا تھا۔

جبکہ گوپال نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نوجوانوں سے بھگوا جھنڈے ہاتھ میں لینے کی اپیل کر رہا تھا۔ باقی آپ سمجھتے ہیں۔ آئین ہمیں اپنے دفاع کے لیے ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسلحہ اور شاستر بہترین مرکب ہیں۔ اپنے دفاع کے لیے میں ہندوؤں کو ترغیب دیتا رہوں گآ۔ میں صرف ملک کے مفاد اور ملک کے وقار کی بات کرتا ہوں۔'

کیا انھیں خوف نہیں آتا؟ اس سوال پر وہ کہتے ہیں: 'مجھے سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جاتا ہے، مجھے دھمکیاں ملتی ہیں، لیکن جب تک ہمارے مہاراج یوگی جی یوپی کی گدی (وزیر اعلی) پر ہیں مجھے کسی بھی قسم کا خوف نہیں ہے۔ ہم کوشش کریں گے کہ وہ دہلی کے تخت پر بھی بیٹھیں۔ جب تک یوگی جی موجود ہیں رام بھکت گوپال کو کوئی خوف نہیں۔'

پٹودی کے ہندوتوا حامی نوجوانوں میں گوپال کی حمایت واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ نوجوان کہتے ہیں کہ گوپال نے جو کہا وہ درست ہے۔

جتیندر کمار نامی ایک مقامی ہندو کارکن نے کہا: 'ہم لو جہاد کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اسے جڑ سے ختم کردیں گے۔'

جیتیندر کمار
،تصویر کا کیپشنجیتیندر کمار کا خیال ہے کہ گوپال نے کوئی غلط بات نہیں کہی

بزرگ عورت کی تشویش

جو ہندتوا حامل نوجوان ہم سے کھل کر بات کرنا چاہتے تھے وہ اس چوپال پر قفل ڈال کر چلے گئے جہاں انھوں نے ہمیں بلایا تھا۔

شہر کے آپسی بھائی چارے کی بات کرنے والی معمر خاتون کہتی ہیں: 'پٹودی کا ماحول اب بہت گندا ہوچکا ہے، لڑکے دکانوں پر کھڑے رہتے ہیں، کوئی بہن اور بیٹی باہر نہیں جاسکتی۔ بیٹیوں کو گھر میں بند رکھنا پڑتا ہے۔ دکانوں پر جتھے کے جتھے کھڑے رہتے ہیں۔'

وہ کہتی ہیں: 'جب بیٹیاں گھر سے باہر نہیں نکل پاتیں، وہ گھروں میں قید ہیں تو پھر وہ کس طرح چست درست رہیں گی۔ سارے پہرے بیٹیوں پر ہی ہیں۔'