انڈیا میں اکثر لوگ کسی دوسرے مذہب میں شادی کی مخالفت کرتے ہیں: پیو سروے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لیبو دیسکو
- عہدہ, نامہ نگار
ایشا اور اُن کے شوہر راہول ایک نوبیاہتا خوش و خرم جوڑا دکھائی دیتے ہیں۔ وہ گفتگو کے دوران ایک دوسرے کی بات کی اکثر تائید کرتے ہیں اور جب کبھی ایشا کو لگتا ہے کہ اُن کے شوہر بات کرتے ہوئے موضوع سے ہٹ گئے ہیں تو وہ بڑی شائستگی اور محبت سے انھیں احساس دلائے بغیر موضوع کی طرف واپس لے آتی ہیں۔
وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ ان کی شادی کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کا ایک ہی مذہب یعنی ’ہندو مت‘ سے تعلق رکھنا ہے۔
ایشا کا کہنا ہے کہ ایک ہی مذہب سے ہونا بہت سی جگہوں پر کام آتا ہے۔ ’ہمیں نئی چیزوں کو سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہمیں صرف ایک دوسرے کو سمجھنا پڑتا ہے جو ہمیں اچھا لگتا ہے۔‘
رائے عامہ کے جائزے کرنے والی عالمی تنظیم ’پیو ریسرچ سینٹر‘ کے مذہب کے حوالے سے ایک سروے کے مطابق انڈیا بھر میں مذہبی رواداری یا برداشت کو انڈین لوگ اپنے معاشرے کا اہم ستون تصور کرتے ہیں لیکن دوسری جانب انڈیا کے تمام بڑے مذاہب کے پیروکاروں کو اس بات کا احساس ہے کہ ان میں بہت کم قدریں مشترک ہیں۔
پیو ریسرچ سینٹر نے سنہ 2019 اور 2020 کے دوران انڈیا کی 26 ریاستوں اور رفاق کے زیر انتظام تین علاقوں میں 17 مختلف زبانیں بولنے والے 30 ہزار لوگوں سے بات کی۔
سوال جب باہمی رشتوں کا آیا تو ہندو، سکھ اور مسلمان سب اس بات پر متفق تھے کہ ان کے لیے اولین ترجیح مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان شادیوں کے سلسلے کو روکنا ہے۔ مسلمانوں میں 80 فیصد اور ہندوؤں میں 56 فیصد لوگ اسی ہی انداز میں سوچتے ہیں۔
اس جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس سوچ کے باوجود لوگ مذہبی رواداری کے بارے میں بڑے پُرجوش ہیں اور ان کی خواہش یہ ہی ہے کہ وہ اپنے اپنے مذہب میں الگ الگ رہتے ہوئے ایک معاشرے میں رہیں۔
اس تجزیے سے یہ بات اخذ کی گئی کہ لوگوں میں یہ احساس یا سوچ معاشرے میں ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کرتا ہے لیکن انڈیا میں اکثریت اس کو مختلف نظر سے دیکھتی ہے اور اسے تضاد نہیں سمجھا جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہماری معاشرت ایک تھی‘

،تصویر کا ذریعہEsha & Rahool Kapoor
ایشا اور راہول کی دوستی انٹرنیٹ کے ذریعے ہوئی تھی اور آٹھ ماہ کی شناسائی کے بعد انھوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ کورونا کی وبا کے باعث ان کی شادی روایتی دھوم دھام سے جسے ایشا 'عظیم انڈین شادی' کہتی ہیں نہیں ہو سکی اور گذشتہ سال گھر پر ایک سادہ سی تقریب ہوئی جس میں گھر کے گیارہ افراد نے شرکت کی۔
ایشا کہتی ہیں کہ جب انھوں نے شوہر کی تلاش شروع کی تھی تو انھیں یہ احساس نہیں تھا کہ میاں بیوی کا ایک ہی مذہب سے ہونا کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔
انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ باغیانہ سوچ رکھتی تھیں اور یہ سمجھتی تھیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ’لیکن جب میری شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جو میری طرح ہندو تھا تو مجھے لگا کہ اس سے زندگی بڑی آسان ہو گئی۔ انڈیا میں آپ کو پورے خاندان کے ساتھ چلنا پڑتا ہے جس سے اس میں بڑی آسانی ہوئی۔‘
اپنے ہم مذہب سے شادی کرنے کی اہمیت کے بارے میں ان کے خیالات انڈیا معاشرے میں ایک غالب سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
راہول کا خیال ہے کہ شاید اس کی وجہ خاندان اور برادری کے بارے میں انڈیا میں لوگ کی سوچ ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص کے غیر مذہب میں شادی کرنے کا فیصلہ دوسرے لوگوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ انڈین معاشرے میں لوگوں کی انفرادیت کو اہمیت نہیں دی جاتی۔
'مسیحی افراد اور امریکہ جیسے ملکوں میں انفرادیت اہمیت رکھتی ہے۔ انڈین خاندانوں میں فیصلے اجمتاعی سطح پر کیے جاتے ہیں۔۔۔ آپ ایک شخص سے شادی نہیں کرتے، آپ پورے خاندان سے رشتہ بناتے ہیں۔'
رشتے کرانے والی تانہ ملہوترا سوندہی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام میں اکثر اس طرح کے خیالات کا سامنا کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTania Sondhi
ان کا کہنا ہے کہ 'ان کا واسطہ شہری لوگوں سے پڑتا ہے جو روشن خیال، پڑھے لکھے اور دنیا دیکھ چکے ہوتے ہیں۔'
اس کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ غیر مذہب میں شادیاں کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
تانیہ کہتی ہیں اس کی وجہ شاید مختلف مذاہب کے بارے میں لوگوں کی سوچ سے ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ کہ اکثر ہندوؤں کو یہ خدشہ ہوتا ہے کہ مسلمان اور مسیحی لوگ ان کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے ایک مسلمان شخص کی کہانی بیان کی۔ اس شخص نے انھیں بتایا کہ ہندو خواتین میں مسلمان مردوں سے شادی کرتے وقت یہ خوف ہوتا کہ اسلام میں مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے تو کہیں وہ دوسری شادی نہ کر لیں۔
'بے شک وہ دو شادیاں نہ کرنا چاہتا ہو لیکن کیونکہ مذہب اس کی اجازت دیتا ہے، اس لیے خواتین میں یہ خوف رہتا ہے۔'
تانیہ کو امید ہے کہ یہ خیالات تبدیل ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک شادی کا تعلق ہے اگر دو ہم خیال افراد قریب آتے ہیں تو مذہب سے فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
’یہ صرف باہمی محبت ہے‘

،تصویر کا ذریعہSumit Chauhan & Azra Parveen
سومت چوہان اور ان کی بیوی عذرا پروین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
سومت ایک ہندو خاندان سے ہیں۔ عذرا مسلمان ہیں۔
ہم ان کی شادی کی پانچویں سالگرہ کے بعد بات کر رہے تھے اور میں ان کی مسکراہٹ دیکھ سکتی ہوں جب انھوں نے سنہ 2010 میں دلی یونیورسٹی میں عذار سے اپنی پہلی ملاقات کے بارے میں بتایا۔ سومت نے بتایا کہ انھوں نے تین سال کالج میں ایک ساتھ گزارے۔
'ہماری دوستی بہت گہری تھی اور ہم ایک دوسرے سے بہت خوش تھے۔'
انھوں نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ کیونکہ وہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے شادی کا فیصلہ بہت مشکل ہو گا۔انھوں نے کہا کہ ان کے گھر والوں کو مسلمانوں کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں تھیں لیکن انھوں نے اپنی والدہ، بہن اور بھائی کو قائل کر لیا۔
'میری بیوی نے اپنے گھروں والوں کو رضامند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ہندو مرد سے شادی کرانے کے سخت مخالف تھے۔' اس ڈر سے کہ غدرا کے گھر والے کبھی اس شادی پر تیار نہیں ہوں گے، انھوں نے خفیہ طور پر ایک دوسرے سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا اور سوچا کے بعد میں بتا دیں گے۔
انڈیا میں شادیوں کے بارے میں ایک نئے قانوں کے تحت غیر مذہب میں شادی کرنے والوں کو 30 دن تک اپنی شادی کا اشتہار کسی عوامی جگہ پر لگانا پڑتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کو ایسی شادی پر اعتراض ہو تو وہ اس کو رجسٹر کرا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSumit Chauhan & Azra Parveen
انڈیا کی کچھ ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، مزید اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ مثلاً مذہب کی تبدیلی سے متعلق ایک قانون ہے جو انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں نومبر 2020 میں لاگو کیا گیا جس میں جبراً، دھوکہ دہی اور شادی کے ذریعے تبدیلیِ مذہب پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
سومت کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے اپنے فیصلے سے خوفزدہ تھے کہ کہیں اس کا پتا نہ چل جائے اور اسے رکوا دیا جائے۔
خوش قسمتی سے ان کے شادی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہوا لیکن عذرا کے خاندان والوں نے تین سال تک ان سے بات نہیں کی۔ 'اب انھوں نے بات چیت شروع کر دی ہے لیکن وہ اس شادی کو ابھی تک چھپاتے ہیں۔‘
'گذشتہ سال میری بیوی کی چھوٹی بہن کی شادی ہوئی لیکن اس شادی میں ہمیں نہیں بلایا گیا۔‘
سومت اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان جیسے جوڑوں کے لیے محبت کرنا اور شادی کرنا بہت مشکل ہے۔
لیکن ان کے خیال میں کسی سے محبت کرنے اور اس سے شادی کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کو اپنا مذہب تبدیل کرنا پڑے۔ ان کے مطابق کسی محبت کرنے والے کے ساتھ رہنا کوئی جرم نہیں۔









