انڈیا: گنگا میں بہتی 21 روز کی بچی کی جان بچانے پر ملاح کو گھر کا انعام

بچی

،تصویر کا ذریعہAnil Kumar

انڈیا کی ریاست اُتر پردیش میں ایک کشتی والے کی تعریف کی جا رہی ہے اور وجہ یہ ہے کہ انھوں نے حال ہی میں دریائے گنگا میں بہتے لکڑی کے ایک ڈبے میں موجود لاوارث نوزائیدہ بچی کی جان بچائی ہے۔

گلو چوہدری نامی اُس شخص کا کہنا ہے کہ دریا میں انھیں ایک بچی کے رونے کی آواز آئی۔ بعدازاں انھوں نے دیکھا کہ ہندو مذہب کے دیوتاؤں سے سجے ایک لکڑی کے ڈبے میں ایک بچی لال کپڑے میں لپٹی ہوئی ہے اور بہہ رہی ہے۔

اس بچی کو ہسپتال لے جایا گیا اور اب اس کی صحت مانیٹر کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق صحتیابی کے بعد اسے کسی پناہ گاہ بھیج دیا جائے گا۔

حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ بچی دریا میں پہنچی کیسے۔ انھوں نے اس بچی کے دریا میں چھوڑے جانے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے تاہم انڈیا میں صنفی تعصب کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ خواتین کو اکثر سماجی طور پر مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے اور چند خاندانوں میں لڑکیوں کو مالی بوجھ سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ جب لوگوں کو لڑکیاں نہیں چاہیے ہوتیں تو وہ غیر قانونی اسقاطِ حمل کروا لیتے ہیں تاہم نومولود بچوں کے قتل یا انھیں پھینک دینے کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

بچی

،تصویر کا ذریعہAnil Kumar

،تصویر کا کیپشننومولود بچی اس لکڑی کے ڈبے میں تھی

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈبے میں بچی کا زائچہ موجود تھا جس میں اس کی پیدائش کی تاریخ اور وقت لکھا تھا اور اس کا نام گنگا بتایا گیا تھا۔

ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس بچی کی دیکھ بھال کا خرچہ خود اٹھائے گی۔ وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ اس کشتی سوار کو بھی بچی کی جان بچانے پر بطور انعام گھر دیا جائے گا کیونکہ اس نے انسانیت کا بےمثال ثبوت دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ بچی ضلع غازی پور کی حدود سے ملی ہے اور وہاں کے حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ ضلعی میجسٹریٹ نے بھی بچی کی عیادت کی ہے اور ضلعی حکام اُس کشتی سوار سے بھی ملے ہیں۔

گلو چوہدری نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ جب دریا کے کنارے لوگوں نے بچی کی آوازیں سُنیں تو کوئی آگے نہیں بڑھا۔ ’میں اس کی جانب بھاگا۔ جب میں نے ڈبہ کھولا تو بچی مجھے ملی۔‘

اس واقعے کے بعد موجود لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔ موقعے پر بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کشتی سوار نے بچی کو ڈبے سے نکل کر اپنی گود میں اٹھا لیا۔

اسے کے بعد وہ بچی کو اپنے گھر لے گیا اور پھر پولیس اس بچی کو لے گئی اور پھر بچوں کی فلاح و بہود کے حکام اسے ہسپتال لے گئے۔