'دنیا کے سب سے بڑے خاندان' کے سربراہ زیونا چانا کی انڈین ریاست میزورام میں وفات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کے سب سے بڑے کنبے کے سربراہ مانے جانے والے 76 سالہ زیونا چانا کی انڈیا کی شمال مشرقی ریاست میزورام میں وفات ہوگئی ہے۔
ایک سے زیادہ شادیوں میں یقین رکھنے والے مذہبی فرقے کے سربراہ زیونا چانا کی وفات اتوار کو ہوئی۔ انھوں نے پسماندگان میں 38 بیویاں، 89 بچے اور 36 پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں چھوڑے ہیں۔
ان کی موت کی تصدیق میزورام کے وزیر اعلی زورامتھنگا نے کی اور انھوں نے ٹوئٹر پر 'دکھی دل' کے ساتھ ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔
چانا مبینہ طور پر ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا تھے۔
ڈاکٹروں نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ چانا کی حالت ان کے گاؤں بکتاونگ تلانگنوام میں ان کے گھر میں ابتر ہونے لگی تھی۔ انھیں اتوار کی شام ہسپتال لایا گیا جہاں پہنچتے ہی انھیں مردہ قرار دیا گیا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا واقعی چانا دنیا کے سب سے بڑے کنبہ کے سربراہ ہیں کیوں کہ دوسرے بھی ایسے لوگ ہیں جو اس اعزاز کا دعویٰ کرتے ہیں۔
چانا کے کنبے کے صحیح سائز کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان کی کم از کم 39 بیویاں، 94 بچے، 33 پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں اور ایک پڑپوتا بھی ہے اور اس طرح ان کے خاندان میں کل 181 افراد شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بہر حال مختلف مقامی رپورٹس میں ان کا ذکر اس طرح کے بڑے خاندان کا ’ورلڈ ریکارڈ‘ رکھنے والے کے طور پر کیا گيا ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ یہ عالمی ریکارڈ کون سا ہے۔ بڑے پیمانے پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس خاندان کو مشہور ٹی وی شو ’رپلیز بیلیو اٹ اور ناٹ' میں دو بار دکھایا گيا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عالمی ریکارڈ کے حامل ہوں یا نہ ہوں لیکن چانا اور ان کا کنبہ مقامی سطح پر کسی عجوبے سے کم نہیں اور ان کی وجہ سے دنیا بھر سے سیاح شمال مشرقی انڈیا میں واقع ان کے گاؤں پہنچتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
اور چانا کی دلچسپ زندگی نے گذشتہ برسوں میں متعدد سرخیاں حاصل کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بہت بڑا کنبہ ایک ساتھ ایک چار منزلہ مکان میں رہتا ہے جس کا نام 'چوار تھان رن' یا نئی نسل کا گھر ہے اور اس میں 100 کمرے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان کی بیویاں چانا کے نجی بیڈ روم سے ملحق ایک بڑے سے ہال میں رہتی ہیں۔
یہ حویلی ریاست میں سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح اس خاندان کی روز مرہ کی زندگی کی جھلک دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چانا کی پیدائش سنہ 1945 میں ہوئی تھی۔ ان کی اپنی سب سے پہلی بیوی سے اس وقت ملاقات ہوئی جب وہ 17 سال کے تھے اور ان کی اہلیہ ان سے تین سال بڑی تھیں۔
یہ خاندان ایک مسیحی فرقے چانا پاؤل میں عقیدہ رکھتا ہے اور اس کے قریب دو ہزار پیروکار ہیں۔ یہ تمام افراد میزورام کے دارالحکومت آئزول سے تقریباً 55 کلومیٹر (34 میل) دور بکتاونگ تلانگنوم نامی گاؤں میں چانا کے گھر کے آس پاس رہتے ہیں۔
اس فرقے میں مردوں کے لیے ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے اور اس کی بنیاد چانا کے دادا نے سنہ 1942 میں رکھی تھی۔













