نریندر مودی کو مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی کی للکار: 'مسٹر من کی بات پرائم منسٹر، آپ ہم کو ڈرا نہیں سکتے'

ممتا بنرجی

،تصویر کا ذریعہTwitter

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

خلیج بنگال میں اٹھنے والا 'یاس' نہ صرف مشرقی ساحلی علاقوں میں طوفان کا سبب بنا بلکہ اس نے مغربی بنگال کی ریاستی حکومت اور انڈیا کی مرکزی حکومت کو ایک بار پھر آمنے سامنے کر دیا ہے اور اس مشرقی ریاست کی وزیر اعلی نے گذشتہ روز ملک کے وزیر اعظم کو کھلا چیلنج دے دیا۔

ممتا بینرجی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ 'مجھے خوفزدہ نہیں کر سکتے، کبھی بھی نہیں۔'

اس کے بعد سے انڈیا میں سوشل میڈیا پر 'بنگالی پرائم منسٹر' ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔

پیر کی شام کو ممتا بینرجی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: 'مسٹر پرائم منسٹر، مسٹر بزی پرائم منسٹر، مسٹر من کی بات پرائم منسٹر، آپ ہم کو ڈرا نہیں سکتے۔ نیور ایور' (جنابِ وزیراعظم، جنابِ مصروف وزیراعظم، جنابِ من کی بات وزیراعظم، آپ ہم کو ڈرا نہیں سکتے۔ کبھی بھی نہیں)۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے ان تمام ریاستوں سے اپیل کی جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے کہ وہ ساتھ آئیں اور ان کی لڑائی میں شامل ہوں۔ اور تو اور، ممتا نے تو تمام سرکردرہ رہنماؤں، آئی اے ایس افسروں اور این جی اوز سےبھی اس مہم میں ان کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

ممتا بینرجی نے الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اپنی شکست کو ہضم نہیں کر پا رہی اور وہ بدلے کی کارروائی کر رہی ہے۔ جبکہ بی جے پی یا وزیر اعظم مودی کی جانب سے اس کے متعلق ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

آلاپن بندوپادھیائے

،تصویر کا ذریعہSANJAY DAS/BBC

،تصویر کا کیپشنآلاپن بندوپادھیائے اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور وہ 1987 بیچ کے آئی اے ایس افسر تھے

اصل معاملہ کیا ہے؟

دراصل سمندری طوفان ’یاس‘ کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعظم مودی نے جمعے کو مغربی بنگال کے ویسٹ مدناپور ضلعے کے ایئرفورس بیس میں ایک میٹنگ بلائی تھی، جس میں ریاست کے چیف سیکریٹری آلاپن بندوپادھیائے غیر حاضر رہے جبکہ وزیر اعلی ممتا بنرجی دیر سے پہنچیں۔

کولکتہ سے صحافی پربھاکر منی ترپاٹھی بتاتے ہیں کہ اس کے بعد انتظامی اور سیاسی حلقوں میں یہ موضوع بحث بن گیا۔ اگرچہ حکمران جماعت بی جے پی نے اسے انتظامی معاملہ بتا کر کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن پارٹی نے ممتا بنرجی اور چیف سیکریٹری پر پروٹوکول کی خلاف ورزی اور وزیر اعظم کی بےعزتی کرنے کے الزمات لگائے۔

تاہم ممتا بینرجی نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ یہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی میٹنگ نہیں تھی کیونکہ اس میں دوسرے لوگوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا، اس لیے پروٹوکول توڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جبکہ اس کے بعد چیف سیکریٹری کو 28 مئی کو ایک خط بھیجا گیا جس میں انھیں 31 مئی تک دہلی میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا۔

لیکن ممتا بینرجی نے موجودہ صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں رخصت دینے سے انکار کر دیا اور مرکز کے نام ایک خط میں لکھا کہ حکم نامے پر دوبارہ غور کیا جائے۔

وزیراعلی ممتا بنرجی کا مرکز کے نام خط

،تصویر کا ذریعہGOVT. OF WEST BENGAL

،تصویر کا کیپشنوزیراعلی ممتا بنرجی کا وزیر ا‏عظم نریندر مودی کے نام خط

واضح رہے کہ آلاپن بندوپادھیائے کو 31 مئی کو ریٹائر ہونا تھا لیکن کورونا وبا اور یاس طوفان کے خطرات کے پیش نظر ریاستی حکومت نے ان کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کی درخواست دی تھی جسے 24 تاریخ کو قبول کر لیا گیا۔

لیکن بدلے ہوئے منظرنامے میں آلاپن بندوپادھیائے کو گذشتہ روز 31 مئی کو ہی ریٹائر قرار دیا گیا اور انھیں فوراً تین سال کے لیے وزیر اعلی کا مشیر مقرر کر دیا گیا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ریاست اور مرکز کے درمیان سیدھا ٹکراؤ ہے اور مرکز اس بات کو آسانی سے جانے نہیں دے گی۔

چنانچہ اس کے بعد شام کو مرکز کی جانب سے چیف سیکریٹری کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس میں اس بات کی وضاحت طلب کی گئی کہ وہ یاس طوفان کے حوالے سے ہونے والی وزیر اعظم کی میٹنگ سے کیونکر غیر حاضر رہے۔

بہر حال، گذشتہ روز کی ممتا بنرجی کی پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثہ نظر آیا اور ہیش ٹيگ 'بنگالی پرائم منسٹر' کے ساتھ ممتا بنرجی ٹرینڈ کرنے لگيں۔

مودی اور ممتا بنرجی

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

معروف صحافی مرنال پانڈے نے ایک تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے اسے کھیلا-2 کہا۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ دو مئی کو اسمبلی انتخابات کے نتائج میں ممتا بنرجی نے توقعات کے برخلاف تاریخی کامیابی حاصل کی تھی اور بی جے پی کو ہزیمت کا سامنا رہا تھا۔

اس سے قبل انتخابات کے دوران ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے زوردار مقابلے کی بات کرتے ہوئے کہا تھا 'کھیلا ہوبے' اور اسی نسبت سے مرنال پانڈے نے اس مقابلے کو 'کھیلا-2' کا نام دیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

بہر حال ممتا بنرجی نے اپنی پریس کانفرنس میں بالی وڈ کی معروف فلم 'شعلے' کا معروف ڈائیلاگ 'جو ڈر گیا سو مرگیا' کو اپنے انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا 'جو ڈرتے ہیں، وہ مرتے ہیں۔۔۔ اور میں ڈرنے والی نہیں۔' خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق انھوں نے مرکز پر ہٹلر اور سٹالن جیسے آمر کی طرح سلوک کا الزم بھی عائد کیا ہے۔

معروف وکیل اور سرگرم سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے ممتا بنرجی کی پریس کانفرنس کا ایک کلپ شيئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'من کی بات کے وزیر اعظم پر بنگال کی شیرنی کی دہاڑ'۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

اس ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے ممتا بنرجی کے حامیان نے لکھا ہے کہ 'انڈیا کو اسی دہاڑ کی ضرورت ہے۔'

بھیمو بھائی نامی ایک صارف نے لکھا ہے کہ 'خواتین کی حفاظت، سیکورٹی اور انھیں بااختیار بنانا ہماری ترجیحات ہیں اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ممتا بنرجی ملک کی قیادت کریں۔'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

جبکہ منو باجپئی نے لکھا: 'مجھے آج بھی یاد ہے جب وہ مودی مخالف ریلی میں لکھنؤ آئی تھیں تو لوگ کہہ رہے تھے کہ بنگال سے پاگل آئی ہے۔ وہ نندی گرام میں ہار چکی ہیں اور پھر بھی سوچتی ہیں کہ اک دن نریندر مودی کو شکست دیں گی۔ مجھے بھی اس طرح کا کانفیڈنس لیول چاہیے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

اسی طرح ایک صارف نے بنگالی پرائم منسٹر ہیش ٹیگ کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ 'یہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔'

ترنمول کانگریس سے رکن پارلیمان مہوا موئترا نے بنگال کے چیف سیکریٹری کے ریٹائرمنٹ اور چیف ایڈوائزر بنائے جانے کی خبر کی ایک شہ سرخی کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: 'شہ اور مات'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/MahuaMoitra

دیبرتا بھٹاچاریہ نامی ایک صارف نے لکھا: 'کالی گھاٹ کی کچی آبادی سے اٹھنے والی ایک خبطی عورت نے بی جے پی کے خلاف جنگ کی رہنمائی کی۔ گلیوں میں لڑائی سے لے کر بیلٹ کی لڑائی تک، گولی کھانے سے لے کر حزب اختلاف کی تنقید تک ممتا نے سب کچھ دیکھا ہے۔ اب ایک بنگالی کے وزیر اعظم بننے کا وقت آ گیا ہے۔'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

سمرپن چٹرجی نے لکھا کہ 'جملہ نہیں، انڈیا کو مجموعی ترقی چاہیے سنہ 2024 میں وزیر اعظم دیدی چاہیے۔'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/ChatterjeeSama3

ماہی نامی ایک صارف نے لکھا: 'بی جے پی اور مودی کو سنہ 2024 تک زبردست دباؤ میں رکھنے کے لیے ایک خاتون کافی ہے۔'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

بہت سے صارفین نے لکھا ہے کہ بنگال نے انڈیا کو کئی معاملے میں رہنمائی کی ہے اور اب بنگالی وزیر اعظم کا وقت ہے۔ اسی ضمن میں راہل نیندی نے لکھا: 'بنگال نے ملک نیتا جی (سبھاش چندر بوس) جیسی عظیم شخصیت دی، ملک کو پہلا نوبل (انعام یافتہ) دیا، بہت سے معاملے میں بنگال نے سب کو راہ دکھائی۔ ہم سنہ 2024 میں بنگال کا راستہ دکھائیں گے۔ بی جے پی کو ہٹانے کا راستہ۔ بنگال بی جے پی کو آنے والے پارلیمانی انتخابات میں شکست دے گا۔'

ایک مقامی رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ممتا بنرجی نے مرکز کی حکم عدولی کر کے نہ صرف وفاق کو چیلنج کیا ہے بلکہ بیوروکریسی کو ایک پیغام دیا ہے کہ ان کی لیڈر ان کے ساتھ ہیں۔

واضح رہے کہ ممتا نے گذشتہ روز یہ بھی کہا کہ جس طرح سے مرکز نے ان کے چیف سیکریٹری کو دہلی طلب کیا ہے اگر اسی طرح مغربی بنگال اپنے اپنے بنگال کیڈر یعنی بنگال کے اعلی افسران کو مرکز سے ریاست میں طلب کرلے تو کیا ہوگا۔

ان تمام انتظامی ضابطے کی کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ریاست مغربی بنگال کے مرکز سے رشتے مزید تلخ ہوں گے۔