افغانستان: کابل میں سکول کے قریب دھماکہ،ہلاکتیں 60 ہو گئیں، طالبات کی تدفین کر دی گئی

افغانستان، کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

سنیچر کے روز دارالحکومت کابل میں ایک سیکنڈری سکول کے باہر ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والے طلبہ کی تدفین کر د ی گئی۔ اس حملے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔

کسی نے بھی تنظیم نے اس حملہ کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ علاقہ اکثر سنی اسلام پسند عسکریت پسندوں کے زیر اثر رہتا ہے۔

افغان حکومت نے اس حملے کا الزام طالبان عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے لیکن اس گروپ نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔

سنیچر کے روز ہونے والی خونریزی کا اصل ہدف واضح نہیں ہے۔ مغربی کابل کے اس محلے میں جہاں یہ دھماکے ہوئے ہیں ان میں ہزارہ اقلیتی طبقہ کے بہت سے افراد آباد ہیں ، جو منگولیا اور وسطی ایشیائی نسل کے ہیں اور زیادہ تر شیعہ مسلمان ہیں۔

دھماکہ اس وقت ہوا جب طلبہ سکول کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔ وزارت تعلیم کے مطابق زخمیوں میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے 11 ستمبر تک افغانستان سے اپنے تمام فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کابل میں اس وقت سے سکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان نے ملک بھر میں پُرتشدد حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کابل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تدفین کے دوران جذباتی مناظر

مرنے والوں کی تدفین ’شہداء قبرستان‘ میں ہوئی جہاں ہزارہ متاثرین کو سپرد خاک کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ، لکڑی کے تابوت میں بچیوں کی لاشوں کو قبروں میں اتارے جانے پر سوگوار افراد غم سے نڈھال تھے۔

اے ایف پی کو ایک مقامی شخص نے بتایا گیا ہے: ’میں جائے وقوعہ پر پہنچا اور خود کو لاشوں کے بیچ میں پایا۔‘

’یہ سب لڑکیاں تھیں۔ ان کی لاشیں ایک دوسرے کے اوپر ڈھیر ہوگئیں۔‘

زہرہ نامی ایک زندہ بچی نے صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے ہوتے ہی وہ سکول سے نکل رہے تھی۔

’میری ہم جماعت کی موت ہوگئی۔ چند منٹ بعد ہی ایک اور دھماکہ ہوا ، اور پھر ایک اور سب چیخ رہے تھے اور ہر طرف خون تھا۔‘

افغانستان، کابل

،تصویر کا ذریعہEPA

سنیچر کو ہونے والے حملے کی تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔ انھوں نے حملے کی مذمت کی ہے۔

متعدد تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہلاک اور زحمی ہونے والے بچوں کے بستے سڑک پر پڑے ہیں۔

یہ حملہ کابل کے مغربی حصے میں پیش آیا ہے جہاں کثیر تعداد میں شیعہ مسلمان آباد ہیں۔ گذشتہ برسوں میں نام نہاد دولت اسلامیہ نے یہاں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

روئٹرز کے مطابق وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ اس سکول میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں پڑھتے ہیں۔ تدریسی عمل تین شفٹوں میں جاری رکھا جاتا ہے جبکہ دوسری شفٹ میں طالبات پڑھتی ہیں۔

حملے میں زخمی ہونے والوں میں اکثر طالبات شامل ہیں۔

افغانستان میں یورپی یونین کے مشن نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ 'یہ خوفناک حملہ دہشتگردی ہے۔'

'اس سے بنیادی طور پر سکول میں پڑھنے والی لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس طرح یہ حملہ افغانستان کے مستقبل پر کیا گیا ہے۔'