کووڈ کی دوسری لہر: انڈیا میں جاری کووڈ 19 کی دوسری لہر میں کتنی شدت ہے؟

انڈیا کووڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شروتی مینن
    • عہدہ, بی بی سی ریئلٹی چیک

انڈیا اس وقت کورونا وائرس کی تباہ کن دوسری لہر کی گرفت میں ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اب کچھ علاقوں میں اس کا پھیلاؤ کم ہوتا نظر آ رہا ہے۔

انڈیا میں مارچ کے وسط میں انفیکشن کی تعداد میں اضافہ نظر آنا شروع ہوا اور انتہائی سرعت سے ہر جانب پھیل گیا اور اپریل کی 30 تاریخ کو ملک میں یومیہ چار لاکھ سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی۔

اگلے چند دنوں میں یہ تعداد آہستہ آہستہ گھٹ کر تین مئی کو تین لاکھ 60 ہزار کے قریب گر گئی اور یہ امید ہو چلی تھی کہ اس لہر کا عروج ہو چکا ہے لیکن آنے والے دنوں میں یہ تعداد ایک بار پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہے اور چھ مئی کو نیا یومیہ ریکارڈ قائم ہوا جب 24 گھنٹوں میں 414000 سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کووڈ

کیا ٹیسٹس کی تعداد کو برقرار رکھا جا رہا ہے؟

وائرس کے پھیلاؤ کا صحیح اندازہ صرف وسیع پیمانے پر ٹیسٹس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انڈیا میں ہر دن تقریبا بیس لاکھ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ مئی کے آغاز میں یہ تعداد کم ہو کر پندرہ لاکھ ہو گئی تھی، تاہم بدھ پانچ مئی کو ایک بار پھر لگ بھگ بیس لاکھ ٹیسٹ کیے گئے۔

مئی کے آغاز میں یومیہ کیسز کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ اس عرصے میں ٹیسٹس کی تعداد میں کمی بھی ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹیسٹنگ کی شرح ایک سی نہیں ہے، کچھ علاقوں میں یہ شرح بہت گر گئی ہے۔

انڈیا کووڈ

عالمی ادارہ صحت کے کنسلٹنٹ اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ریجو جان کہتے ہیں کہ، 'پچھلے سال ستمبر میں بھی جب کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، تو ایسا ہی ہوا تھا۔ جب یومیہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے والی تھی تو ٹیسٹنگ کی شرح کم ہو گئی۔'

جب حکام یہ کہتے ہیں کہ کچھ ریاستوں میں کیسس کی تعداد کم ہوئی ہے، جیسے کہ مہاراشٹر، گجرات، تیلنگانا، تو اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ انھی ریاستوں میں ٹیسٹنگ بھی کم ہوئی ہے۔

اپریل کے وسط میں دلی میں یومیہ ایک لاکھ کے قریب ٹیسٹس کیے جا رہے تھے، اور کیسز کی تعداد 16,000 کے لگ بھگ تھی۔

تاہم اپریل کے اواخر تک جب کیسز کی تعداد 55 فیصد بڑھ گئی تو ٹیسٹنگ میں 20 فیصد کمی ہوئی تھی، جس سے انفیکشنز کی شرح میں اضافے کا اشارہ ملتا ہے۔

گجرات اور تیلنگانا میں بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں۔

انڈیا کووڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر جان کہتے ہیں کہ پورے نظام پر اتنا زیادہ بوجھ ہے کہ لوگ ٹیسٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

انڈیا میں مجموعی طور پر ٹیسٹنگ کی شرح ہزار افراد میں سے 1.3 ہے جبکہ امریکہ میں یہ تین، برطانیہ میں پندرہ ہے۔

مثبت ٹیسٹس کی شرح کیا ہے؟

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق مثبت ٹیسٹس کی شرح زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں کافی بڑی تعداد میں یہ وائرس موجود ہے، بھلے اس کی تشخیص نہ ہو سکی ہو۔

پچھلے سال عالمی ادارہ صحت نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ ٹیسٹس کے مثبت آنے کی شرح پانچ فیصد سے کم ہونے کے کم سے کم دو ہفتے بعد ہی پانبندیوں کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا جانا چاہیے۔

دلی کی اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر گوتم مینن کہتے ہیں، 'اب بھی ٹیسٹس کے مثبت آنے کی شرح، ملک بھر میں کافی زیادہ ہے، 20 فیصد سے زیادہ۔ مجھے نہیں لگتا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دوسری لہر گزر چکی ہے۔'

انڈیا کووڈ

کس طرح کے ٹیسٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے؟

انڈیا میں دو طرح کے ٹیسٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پولی میریس چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹس کو بہترین سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اب اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ وائرس کی نئی اقسام کا پتا لگانے میں کارگر ثابت نہیں ہو رہے۔

تاہم کچھ ریاستوں میں مقامی حکام ریپڈ ایٹیجن ٹیسٹس کروا رہے ہیں، جن کے نتائج جلدی تو آ جاتے ہیں، لیکن یہ زیادہ قابل اعتماد نہیں ہوتے۔

ریپڈ ایٹیجن ٹیسٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریپڈ ایٹیجن ٹیسٹس کے نتائج جلدی تو آ جاتے ہیں، لیکن یہ زیادہ قابل اعتماد نہیں ہوتے

دلی میں اپریل میں ہونے والے ٹیسٹس میں سے 35 فیصد ریپِڈ ایٹیجن ٹیسٹس ہیں۔ انڈین کاوسل فار میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے اب موجودہ صورتحال میں ان ٹیسٹس کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی سفر کرنے سے پہلے پی سی آر ٹیسٹس بھی اب لازمی نہیں رہے۔