چین میں مردے کی روایتی تدفین کے لیے دوسرے شخص کا اغوا اور قتل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں لاشوں کے تبادلے کے ایک منصوبے کے تحت ڈاؤن سنڈروم (جسمانی اور ذہنی معذوری) میں مبتلا ایک شخص کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔
چین کے بہت سے حصوں میں مرنے والوں کو دفنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے مرنے والے کے لواحقین نے ایک شخص کو اجرت پر مقرر کیا کہ وہ ایک متبادل لاش کا انتظام کرے جسے وہ اپنے مردے کے بدلے جلا کر قانون کی گرفت سے بچ سکیں۔.
مگر ان کے علم میں نہیں تھا کہ انھیں فراہم کی گئی لاش در اصل ایک ایسے شخص کی ہے جسے اسی مقصد کے لیے اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ قتل سنہ 2017 میں کیا گیا تھا لیکن اس کا انکشاف گزشتہ ہفتے ایک آن لائن آرٹیکل میں ہوا۔
متبادل لاش فراہم کرنے کا یہ کام جس شخص کو دیا گیا تھا، اور جسے ہوانگ کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، اسے گوانگ ڈانگ کی ہائر پیپلز کورٹ نے موت کی معطل سزا سنائی ہے۔
متبادل مردے کی تلاش
عدالتی دستاویزات کے مطابق ہوانگ کو سنہ 2017 میں ایک خاندان نے ایک لاش کے بدلے اجرت دینے کی پیشکش کی تھی۔ یہ خاندان اپنے مردے کو روایتی طریقے سے دفن کرنا چاہتا تھا۔
مگر صوبہ گوانگ ڈانگ کے شہر شانوائی میں، جہاں یہ خاندان رہائش پذیر ہے، تمام مردوں کو جلانے کا قانون نافذ ہے۔
خاندان والوں کا خیال تھا کہ اجرتی شخص کوئی مردہ فراہم کر دے گا جسے جلا کر وہ حکام کی آنکھوں میں دھول جھونک دیں گے اور اپنے مردے کی خاموشی کے ساتھی روایتی انداز میں تدفین کر دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر ہوانگ نے معاہدے کی تکمیل کے لیے ایک شخص کو اغوا کے بعد قتل کر ڈالا۔
ڈاؤن سنڈروم میں مبتلا مقتول گلی میں کوڑا چن رہا تھا جب ہوانگ نے اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا اور پھر اسے اس وقت تک شراپ پلائی کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔
پھر انھوں نے اس معذور شخص کی لاش کو ایک تابوت میں بند کر کے مذکورہ خاندان کے حوالے کر دیا اور اپنی اجرت وصول کر لی۔
اس سودے کے لیے 16300 ڈالر کی ادائیگی کی گئی جس میں سے تقریباً 13780 ڈالر ہوانگ کو ملے جبکہ بقیہ رقم ایجنٹ نے وصول کی۔
تابوت کا تبادلہ
مذکورہ خاندان نے لاش ملنے کے بعد اسے اپنا مردہ ظاہر کر کے جلا دیا جبکہ اپنے اصل مردے کو خفیہ طور پر روایتی طریقے سے دفنا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مقتول کے اہل خانہ نے سنہ 2017 میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔
پولیس کو یہ معمہ حل کرنے میں دو برس سے زیادہ لگے مگر وہ بالآخر ملزم تک پہنچ گئی۔
ستمبر 2020 میں ہوانگ کو معطل شدہ سزائے موت سنائی گئی، جس کے خلاف انھوں نے اپیل کی۔ دسمبر 2020 میں گوانگ ڈانگ کی اعلیٰ عدالت نے ان کی سزا برقرار رکھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ سزا سنائے جانے کے دو سال کے اندر کوئی جرم نہیں کرتے تو ان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا جائے گا۔
جس خاندان نے ہوانگ کی مدد حاصل کی تھی اسے لاش کی بے حرمتی کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے، مگر قید کی سزا نہیں سنائی گئی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسے جرمانہ کیا جائے گا یا نہیں۔
اس خبر کا حال ہی میں اس وقت زیادہ چرچا ہوا جب ایک جریدے نے مقتول کے اہلِ خانہ سے گفتگو پر مشتمل مضمون شائع کیا۔
چین میں تدفین کے خلاف مہم
چین میں روایتی تدفین کو پسند کیا جاتا ہے اور لوگ تجہیز و تکفین اور تابوتوں پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اس طرح وہ اپنے آباؤ اجداد کی تکریم کرتے ہیں۔
لیکن حکومت مرنے والوں کی تدفین کے خلاف سرگرم مہم چلایا رہی ہے اور بعض علاقوں میں تو مردے کو دفنانے پر بالکل پابندی عائد ہے۔
اس کا مقصد زمین کو بچانا اور تدفین کے لیے مہنگی تقریبات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
سنہ 1997 کے ایک ریگولیشن میں کہا گیا ہے کہ 'گنجان آباد علاقوں میں، جہاں زمین نسبتاً کم ہو اور سفر کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا ہو، وہاں مردوں کو جلایا جائے۔
'جو علاقے ان شرائط پر پورا نہیں اترتے وہاں مردوں کو دفن کرنے کی اجازت برقرار رہے گی۔'
چین میں لاشیں بدلنے کے واقعات غیر معمولی نہیں ہیں، اور خاص طور سے دیہی علاقوں میں یہ زیادہ مقبول ہے کیونکہ وہاں مردوں کو روایتی انداز میں دفنانے پر زور دیا جاتا ہے۔










