چین کا بین الاقوامی کمپنی ایچ اینڈ ایم کو پیغام: اگر سنکیانگ کی کپاس کو نہ خریدی تو چین میں کاروبار نہیں کر سکیں گے

چینی حکومت نے کپڑنے بنانے والی عالمی کمپنی ایچ اینڈ ایم کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انھوں نے سنکیانگ خطے میں اگنے والی کپاس کو خریدنا بند کیا تو وہ چین میں کاروبار کی مد میں ’پیسے نہیں کما سکیں گے۔‘

ایچ اینڈ ایم اور مغربی ممالک کی کئی دیگر کمپنیوں کو اپنے ان فیصلوں کے بعد چین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے جس میں ان کمپنیوں نے سنکیانگ میں اگنے والی کپاس کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ کپاس کی فصل تیار کرنے میں جبری مشقت سے مزدوری کرائی جا رہی ہے۔

چین پر الزام ہے کہ وہ سنکیانگ خطے میں اکثریتی اویغور مسلمانوں برادری کے افراد سے جبری محنت کروا رہا ہے۔

چینی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے جبکہ کئی اہم برانڈ کا چین میں بائیکاٹ کیا گیا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

سنکیانگ حکومت کے ترجمان نے پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ غیر مناسب بات ہے کہ کوئی کمپنی اپنے معاشی رویے کو سیاست کی نظر کر دے۔ کیا ایچ اینڈ ایم چینی مارکیٹ سے اب پیسے بنا سکتی ہے؟ ایسا اب نہیں ہو گا۔‘

ترجمان نے کہا کہ ان کمپنیوں نے سنکیانگ کی کپاس کو خریدنے سے انکار کیا ہے ان کا فیصلہ غیر مناسب ہے اور انھوں نے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے میں گر جائیں۔

بی بی سی نے ایچ اینڈ ایم کمپنی سے اس معاملے پر ان کا مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا تاہم اس مد میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

چینی حکومت کی جانب سے اس بیان کے بعد سویڈن سے تعلق رکھنے والی اس کمپنی کے چین میں کاروباری مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

یہ بیان اس جانب بھی عندیہ دیتا ہے کہ چینی حکومت اپنے صارفین کی جانب سے ان بین الاقوامی کمپنیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کر رہی ہے۔

یہ بائیکاٹ پہلے جوتے بنانے والی کمپنی نائیکی اور ایچ اینڈ ایم کے خلاف تھا لیکن اب یہ سلسلہ بربری، ایڈیڈاس، کون ورس اور کئی دیگر کمپنیوں کے خلاف پھیل گیا ہے۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کئی مغربی ممالک نے چین پر اویغور مسلمانوں کے خلاف مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات میں اضافہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ چین پر سنکیانگ خطے میں اویغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

سنکیانگ خطہ کیا ہے اور اویغور کون ہیں؟

سنکیانگ چین کا سب سے بڑا خطہ ہے اور یہ دنیا میں کپاس کا پانچواں حصہ پیدا کرتا ہے۔ کہنے کو تو یہ خطہ خود مختار ہے لیکن حقیقت میں اسے چینی حکومت کی جانب سے شدید پابندیوں کا سامنا ہے جن میں حالیہ برسوں میں صرف اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سنکیانگ میں لاکھوں کی تعداد میں رہنے والے اویغور مسلمان خود کو نسلی اور ثقافتی طور پر وسطی ایشیا کے ممالک سے زیادہ قریبی سمجھتے ہیں۔

لیکن حالیہ کچھ برسوں سے ہان نسل کے مقامی چینی جو کہ ملک کی آبادی کا اکثریتی حصہ ہیں، نے سنکیانگ میں نقل مکانی کرنا شروع کر دی ہے اور مقامی اویغوروں سے ان کے تعلقات خراب ہوتے گئے اور خطے میں تشدد کے واقعات سامنے آئے۔

اس کے باعث چینی حکومت نے خطے میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا اور ریاستی طور پر نگرانی کا نظام قائم کیا جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ وہاں کے اویغوروں کے انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے۔

دوسری جانب چینی حکومت کا موقف ہے کہ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ علیحدگی پسند عناصر اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کو ’تربیتی کیمپس‘ میں رکھا جاتا ہے جہاں مبینہ طور پر ان کے ساتھ تشدد کیا جاتا ہے، جبری مزدوری کرائی جاتی ہے اور ان کے خلاف مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔

چین ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ ان ’تعلیمی کیمپس‘ کا مقصد ہے کہ اویغوروں کو غربت سے نکالا جائے۔