چین سنکیانگ سے متعلق خبروں کو کیسے کنٹرول کر رہا ہے؟

    • مصنف, جان سڈورتھ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، بیجنگ

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کے بارے میں مصدقہ خبریں پہنچانے کی کوشش کرنے والے غیر ملکی صحافیوں پر پہلے سے عائد سخت پابندیوں میں اب چین نے ایک اور پابندی کا اضافہ کیا ہے، جس میں آزادانہ کوریج کو ’فیک نیوز‘ کہا جا رہا ہے۔

سنکیانگ کی خالی شاہراؤں پر رات کے اوقات میں گھنٹوں سفر کرتے ہوئے، ہمارے پہنچنے کے لمحے سے ہی جو غیر سرکاری کاریں ہمارا پیچھا کر رہیں تھیں، ان کی رفتار تیز اور وہ خطرناک حد تک قریب آ گئیں، ان گاڑیوں کی ہیڈلائٹس پوری طرح روشن تھیں۔

ان کاروں میں سوار افراد، جنھوں نے کبھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، ہر جگہ ہمارا تعاقب کرتے۔ انھوں نے ریستورانوں اور دکانوں کے مالکان سے کہا کہ وہ ہمیں سروس فراہم نہ کریں۔ یوں انھوں نے ہمیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

ان مشکلات کے باوجود ہم نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں نئے شواہد موجود ہیں۔ اس میں زیادہ تر حصہ چین کی اپنی پالیسی دستاویزات پر مبنی ہے۔

ہمیں نئے شواہد ملے ہیں کہ کپاس کی عالمی پیداوار کا پانچواں حصہ پیدا کرنے والے اس خطے میں ہزاروں ایغور اور دیگر اقلیتوں کو کپاس چننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

لیکن چینی کمیونسٹ پارٹی کے ذریعے چلائے جانے والے ایک اخبار نے ہماری کوریج پر ایک رپورٹ تیار کی، جس میں یہ الزام عائد کیے گئے کہ بی بی سی نے چینی حکام سے متعلق بڑھا چڑھا کر خبریں نشر کیں کہ وہ انھیں پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے سے روک رہے ہیں۔

چینی میڈیا نے اپنی اس رپورٹ میں ہماری کوریج کو ’جعلی خبریں‘ پر مبنی قرار دیا۔

چائنہ ڈیلی نامی انگریزی زبان کے ایک اخبار کی جانب سے بنائی گئی یہ ویڈیو چینی سوشل میڈیا سائٹس کے ساتھ ساتھ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شائع کی گئ ہے جن پر چین میں پابندی عائد ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹٹیوٹ میں چین کے ڈیجیٹل ڈس انفارمیشن کی ماہر ہانا بیلی نے بتایا کہ انگریزی میں چینی ترجمے کے ساتھ اس طرح کے حملے اس سارے معاملے کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔

ہانا بیلی نے کہا ’یہ واضح ہے کہ اسے بین الاقوامی اور مقامی سامعین کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا، جو کسی حد تک پچھلی حکمت عملیوں سے مختلف ہے کیونکہ صرف چینی سامعین کے لیے تیار کردہ پچھلا مواد مغربی ممالک پر زیادہ تنقید اور قوم پرستی سے بھر پور تھا جبکہ بین الاقوامی سامعین کے لیے تیار کردہ مواد میں مفاہمتی لہجہ اپنایا گیا ہے۔‘

چینی اخبار کی اس رپورٹ میں کوچے شہر میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری کے سامنے گیٹ کے باہر ہونے والی زبانی تکرار کو زیادہ نمایاں کوریج دی گئی۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں منیجروں اور مقامی عہدیداروں کے ایک گروپ نے بی بی سی کی ٹیم کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

اس رپورٹ میں شامل یہ الزامات موقع پر پہنچنے والی پولیس کے باڈی کیمرا ریکارڈنگ پر مبنی ہیں، جو آسانی سے غلط ثابت کی جا سکتی ہیں۔

اور ہماری ٹیم اور پولیس افسر کے مابین شائستہ تکرار سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ بی بی سی نے رپورٹنگ سے روکنے والے حکام کے کردار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

لیکن اس ویڈیو میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہماری کچھ فوٹیج زبردستی حذف کر دی گئی تھی اور ہمیں اسی پولیس افسر کے ساتھ کسی اور جگہ جانے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ باقی تصاویر کا جائزہ لے سکیں۔

چینی رپورٹ میں مزید کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی اور بی بی سی کو اس پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا۔

سنکیانگ میں 72 گھنٹوں سے بھی کم دورانیے میں، ہمارا مستقل تعاقب کیا گیا اور پانچ علیحدہ مواقع پر لوگوں نے ہمیں روکا۔ انھوں نے کئی بار ہم پر تشدد کرکے فلمبندی سے روکنے کی کوشش کی۔

کم سے کم دو واقعات میں ہم پر ان افراد کی رازداری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، جو ہمارے کام کو روکنے کی کوششوں میں کیمرے کے سامنے چلے گئے تھے۔

ان واقعات میں ملوث پولیس افسران نے ہماری فوٹیج کو دو بار حذف کر دیا اور ایک اور موقع پر ہمیں مقامی عہدیداروں نے مختصر طور پر حراست میں لیا، جنھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم نے ایک کھیت کی تصویر لگا کر کسان کے حقوق پامال کیے ہیں۔

چین کی پروپیگنڈہ کی کوششیں اس بات کا اشارہ ہوسکتی ہیں کہ اسے یقین ہے کہ سنکیانگ کی کوریج اس کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے کتنی نقصان دہ ہے۔

لیکن عام طور پر چین میں سنسر کیے جانے والے مغربی میڈیا پر چین کے اندر حملہ کرنے میں کچھ خطرات لاحق ہیں کیونکہ اس سے ایسی کہانیوں کی جھلک سامنے آسکتی ہے جو عموماً عوام کی پہنچ سے دور رہتی ہیں۔

مئی 2019 کو سیٹیلائٹ سے لی گئی ایک تصویر میں لوگوں کے ایک بڑے گروپ کو کوچے ٹیکسٹائل فیکٹری اور ملحقہ بحالی کیمپ کے درمیان نقل مکانی کرتے دکھایا گیا ہے، اس کمپلیکس میں واچ ٹاورز اور اردگرد بڑی بڑی دیواریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین کی اس اخبار، جس نے سرکاری اصطلاح سے کیمپ کو ’پیشہ ورانہ تربیتی مرکز‘ سے تعبیر کیا ہے، کا کہنا ہے کہ تصویر لگانے کی ہماری کوشش بے معنی ہے کیونکہ اس رپورٹ کے مطابق، یہ مرکز اکتوبر 2019 میں بند ہو گیا تھا۔

اگر یہ سچ ہے تو اس سے محض یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب تصویر کھینچی گئی تھی تو کیمپ آباد تھا اور یہ بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اس مقام پر مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔

چینی اور مغربی سامعین اب غور و فکر کر سکتے ہیں کہ تصویر میں موجود افراد کون ہیں، انھیں کیمپ سے فیکٹری کیوں منتقل کیا گیا تھا یا آیا وہاں انھوں نے جو بھی کام کیا، کیا وہ مکمل طور پر رضاکارانہ تھا۔

اس پولیس افسر کے ساتھ انٹرویو میں جس نے باڈی کیمرہ ریکارڈنگ فراہم کیں، چین ڈیلی ویڈیو نے نادانستہ طور پر سنکیانگ میں صحافیوں پر منصوبہ بندی کے تحت کنٹرول کی تصدیق کردی۔

افسر نے تصدیق کی کہ ہمارے کوچے پہنچنے کے فوراً بعد ہی اس نے ’ہمارے حقوق اور پابندیوں‘ کے بارے میں انتباہ جاری کرنے کے لیے ہمیں ہوٹل کی لابی میں ایک میٹنگ کے لیے بلایا۔

دراصل ہوٹل کے عملے نے ہمیں بتایا کہ جب تک یہ میٹنگ نہیں ہوتی ہم ہوٹل نہیں چھوڑ سکتے۔

اس میٹنگ میں دو ادیبوں نے بھی شرکت کی جنھیں کوچے میں باقی وقت ہمارے ساتھ بھیجنے کی تجویز دی گئی، اور اس طرح ہمارا پیچھا کرنے والی کاروں کی لمبی لائن میں ایک اور کار شامل ہو گئی۔

ہمارے ثبوتوں کو ’فیک نیوز‘ قرار دینے اور انھیں کمزور دکھانے کے لیے کیے جانے والا پروپیگنڈہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کیا ہورہا ہے اور یہ سنکیانک سے نکلنے والی معلومات پر قابو پانے والی مشترکہ کوششوں کا بھی ثبوت ہے’۔

’یہ اس ذہنیت کا بھی عکاس ہے جس کے تحت بغیر نمبر والی کاروں میں ہمارا پیچھا کرنے والوں سے لے کر حکومت تک سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔‘

بیجنگ واپسی پر ہمیں ان عہدیداروں سے ملاقات کے لیے بلایا گیا، جنھوں نے اصرار کیا کہ ہمیں فیکٹری کے مالکان سے تصویر لینے سے پہلے اس سے اجازت حاصل کرنی چاہیے تھی۔

ہم نے بتایا کہ چین میں میڈیا کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی عوامی سڑک پر موجود کسی عمارت کی تصویر کشی پر پابندی نہیں ہے۔

چین غیر ملکی صحافیوں کے لیے توثیق کے عمل کو تیزی سے کنٹرول کے آلے کے طور پر استعمال کررہا ہے، کوریج کرنے والے صحافیوں کو کم دورانیے کے ویزا جاری کرنے اور مدت نہ بڑھانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

ہماری رپورٹ کی اشاعت کے بعد مجھے ایک اور مختصر ویزا ملا، جس کے ساتھ واضح الفاظ میں بتایا گیا کہ یہ سنکیانگ سے متعلق میری رپورٹ کا نتیجہ ہے۔

چین کی اخبار نے بی بی سی پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ہم ایک خفیہ کیمرا استعمال کررہے ہیں ، جو ہمارے پاس نہیں ہے۔

چائنا ڈیلی کی رپورٹ میں پولیس کیمرہ ریکارڈنگ کی غلط تشریح کی گئی ہے اور فیکٹری کے باہر بی بی سی کی صحافی کیتھی لانگ کے تبصرے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمارا ماننا ہے کہ ان کے پاس پوری ریکارڈنگ موجود ہے، اس لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ انھوں نے یہ غلطی کیسے کی۔

آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی ہانا بیلی کا کہنا ہے کہ چین کے اندرونِ ملک پروپیگنڈے کی طرح اس کا بین الاقوامی دباؤ بھی ’تیزی سے تنقیدی اور دفاعی‘ ہوتا جارہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’ٹوئٹر بوٹس سے لے کر سرکاری زیر کنٹرول بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس اور وولف واریر نامی سفارت کاروں تک، چین اس سے قبل بیرون اور اندرونِ ملک بحث کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف قسم کے حربوں کے استعمال کا مظاہرہ کرچکا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’غیر ملکی میڈیا کو بدنام کرنے کی کوششیں بھی اس ’ٹُول کٹ‘ کا ایک حصہ ہیں۔‘

ہم نے چینی اخبار کو ان کی رپورٹ میں غلطیوں پر تبصرہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

چین کے روزنامہ کا جواب ہمارے مخصوص سوالوں کا جواب دینے میں ناکام رہا۔ چینی اخبار کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ سنکیانگ کا دورہ کرنے اور انٹرویوز کرنے کے بعد، انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’سنکیانگ میں جبری مشقت نہیں لی جا رہی۔‘

اس ویڈیو کے آخر میں کوچے میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں کارکن سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ وہاں کیوں موجود ہے۔۔۔

اس کارکن کو بھی بخوبی پتا ہو گا یہ سوال چینی کمیونسٹ پارٹی کے براہ راست کنٹرول میں آنے والے نمائندوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

اس نے انھیں بتایا ’میں نے اپنی مرضی سے یہاں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔‘