انڈیا سے برآمد ہونے والے حلال گوشت سے ’حلال‘ کا لفظ کیوں ہٹایا گیا؟

،تصویر کا ذریعہPA Media
- مصنف, سلمان راوی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی
انڈین وزارت تجارت و صنعت کے محکمہ ایگریکلچر اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (اپیڈا) نے حلال گوشت سے متعلق ہدایت نامے سے لفظ ’حلال` کو ہٹا دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ گوشت برآمد کرنے والی سبھی کمپنیوں کو اب حلال سرٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ صرف ان کمپنیوں کو ہو گی جو مسلم ممالک کو گوشت برآمد کرتی ہیں۔
نئے ہدایت نامے کے مطابق اب برآمد کیے جانے والے گوشت پر لکھا جائے گا کہ ’جانوروں کو درآمد کرنے والے ممالک کے قواعد کے مطابق ذبح کیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ گوشت سے متعلق اس ہدایت نامے میں پہلے لکھا جاتا تھا کہ ’تمام جانوروں کو اسلامی شریعت کے مطابق جمیعت العلمائے ہند کی نگرانی میں ذبح کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی جمیعت حلال سرٹیفیکٹ دیتی ہے۔`
اس تبدیلی کے بعد اپیڈا نے واضح کیا ہے کہ ’حلال‘ کا سرٹیفکیٹ دینے میں کسی بھی سرکاری محکمے کا کوئی کردار نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
واضح رہے کہ انڈیا میں جانوروں کو دو طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے: حلال اور جھٹکا۔ کئی قومیں جھٹکا گوشت کو ترجیح دیتی ہیں جس کے تحت حلال طریقے کے برعکس جانور کو ایک جھٹکے میں ذبح کیا جاتا ہے۔
حلال ریگولیشن فورم نامی ایک تنظیم نے ہدایت نامے میں تبدیلی کا سہرا لیتے ہوئے کہا ہے کہ اپیڈا قواعد کے مطابق کوئی بھی قصاب خانہ اس وقت تک نہیں چل سکتا تھا جب تک اس میں حلال طریقے سے جانور نہیں ذبح کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حلال اور جھٹکا کے سوال پر یہ تنظیم ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک حلال کا تعلق ہے تو گوشت کی تصدیق کر کے حلال کا سرٹیفیکیٹ دینا کسی سرکاری تنظیم کا نہیں بلکہ نجی اداروں کا کام ہے۔
انڈیا سے گوشت کی درآمدگی میں چین سرفہرست
حلال ریگولیشن فورم کے ہریندر سکا کا کہنا ہے کہ ’گیارہ ہزار کروڑ روپے کے گوشت کی برآمد کا کاروبار منتخب لوگوں کی لابی کے ہاتھ میں ہے۔ مذبح خانوں کا معائنہ بھی نجی اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ایک خاص مذہب کے رہنماؤں کی تصدیق کے بعد ہی حکومت اس کی رجسٹریشن کرتی ہے۔‘
حلال ریگولیشن فورم کے علاوہ سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشاد بھی حلال سرٹیفیکیشن کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گوشت کی سب سے بڑی مقدار چین کو برآمد کی جاتی ہے جہاں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گوشت حلال ہے یا جھٹکے والا ہے۔
وشوا ہندو پریشاد کے ونود بنسل نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھ مذہب میں حلال گوشت کھانا منع ہے۔ سکھ مذہب کے لوگ وہی گوشت کھا سکتے ہیں جس میں جانور کو جھٹکے سے کاٹا گیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں ’یہ تو ایک مذہب کے نظریہ کو مسلط کرنا ہوا۔ ہم حلال کھانے والوں کے حق کو چیلنج نہیں کررہے ہیں لیکن جو لوگ حلال نہیں کھانا چاہتے ہیں ان پر یہ کیوں مسلط کیا جا رہا ہے؟ ہم اسی بات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے اور سبھی کو کاروبار کرنے کے مساوی حقوق ملنے چاہیے۔‘
ہریندر سکا کے مطابق حلال سب پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فائیو سٹار ہوٹلوں سے چھوٹے ریستورانوں، ڈھابوں، ٹرینوں اور مسلح افواج تک کو فراہم کیا جاتا ہے۔
لیکن حلال ریگولیشن فورم کو اس سے زیادہ اعتراض گوشت کے علاوہ دیگر مصنوعات کو حلال تصدیق کرنے کے نظام سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہHINDUSTAN TIMES VIA GETTY IMAGES
حلال گوشت کے تاجروں کا کاروبار پر قبضہ؟
حلال ریگولیشن فورم کے پون کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معاملہ صرف گوشت کو حلال کے طور پر تصدیق کرنے تک ہی محدود نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں ’اب تو نمکو، سیمنٹ، کاسمیٹکس اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کو بھی حلال کی تصدیق کرنا فیشن بن گیا ہے۔ جیسے دال، آٹا، میدہ، چنے کا آٹا وغیرہ۔ اس میں بڑے برانڈز شامل ہیں۔ ٹھیک ہے، انھیں اپنی مصنوعات کو اسلامی ممالک میں بھیجنا ہے اور وہیں بیچنا ہے۔ وہ انھیں الگ سے پیک کر سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن انڈیا میں نمکو پیکٹ کو حلال کے طور پر تصدیق یا صابن کو حلال کے طور پر تصدیق کرنا مناسب نہیں۔‘
واضح رہے کہ جمیعت کے علاوہ اور بھی تنظیمیں حلال سرٹیفیکٹ دیتی ہیں اور جمیعت خود گوشت کے علاوہ متعدد اشیا کو حلال سرٹیفیکٹ دیتی ہے جو انڈیا کے علاوہ مسلم ممالکوں میں فروخت ہوتے ہیں۔
جمیعت نے گزشتہ برس نریندر مودی کے قریب سمجھے جانے والے پتانجلی گروپ کو بھی حلال سرٹیفیکٹ دیا تھا جس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔ تنقید کرنے والوں کا الزام تھا کہ پتانجلی اپنی مصنوعات میں گائے کے پیشاب کا استعمال کرتا ہے۔
’جھٹکا میٹ ویوپاری سنگھ‘ بھی حلال کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس تنظیم کا کہنا ہے کہ گوشت کی تجارت میں جھٹکا تاجروں کو کوئی جگہ نہیں ملتی۔ حلال گوشت کے تاجروں نے تمام تجارت پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ سکھوں اور شیڈول کاسٹ اور قبیلوں کی ایک بڑی تعداد جھٹکا گوشت کو ترجیح دیتی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ برابر کی حصے داری اس وقت ہو گی جب حلال کے ساتھ ساتھ جھٹکے کا بھی سرٹیفکیٹ دیا جائے۔
تاہم جنوبی دلی میونسپل کارپوریشن نے تمام گوشت فروشوں اور ہوٹل ڈھابہ آپریٹرز کے لئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اپنی دکان، ہوٹل یا ڈھابے کے باہر لکھیں کہ وہ کون سا گوشت فروخت کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو انتخاب کرنے میں آسانی ہو۔
ہریندر سکا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کسی پر بھی کوئی چیز مسلط نہیں ہو گی اور لوگ اپنی پسند کے مطابق کھانا کھا سکیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں انڈیا میں گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں متعدد لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشاد کا الزام
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2019 اور 2020 مالی سال کے دوران تقریباً 23 ہزار کروڑ روپے کا ’ریڈ میٹ یعنی بھینس کا گوشت انڈیا سے برآمد کیا گیا۔ اس میں سے سب سے زیادہ گوشت ویتنام کو برآمد کیا گیا۔
اس کے علاوہ بھینس کا گوشت ملائیشیا، مصر، سعودی عرب، ہانگ کانگ، میانمار اور متحدہ عرب امارات کو بھی برآمد کیا گیا تھا۔
تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اسلامی ممالک کو چھوڑ دیا جائے تو بھی صرف ویتنام کو ہی تقریبا 7600 کروڑ کا گوشت برآمد کیا گیا۔ جو گوشت ویتنام اور ہانگ کانگ بھیجا جاتا ہے اس کا حلال ہونا لازمی نہیں کیونکہ وہاں سے یہ چین جاتا ہے جہاں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گوشت حلال ہے یا نہیں۔
ہریندر سکا کے مطابق ویتنام اور ہانگ کانگ جیسے ممالک کو جھٹکے کا گوشت بھی بھیجا جا سکتا تھا جس سے جھٹکے کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو بھی کمانے کا موقع ملے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث برسوں سے جھٹکے کے گوشت کے تاجروں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔
وشوا ہندو پریشاد کا کہنا ہے کہ حلال کے سرٹیفیکٹ دینے کے پورے نظام کی تحقیق ہونی چاہیے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ اس نظام کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے جس سے قومی سلامتی کو خطرہ پیدا کرنے والے عناصر اور تنظیموں کو فائدہ پہنچتا رہا ہے۔



