شمس الرحمان فاروقی: معروف ادبی نقاد کی وفات، ادبی حلقوں اور مداحوں کا اظہارِ افسوس

شمس الرحمان فاروقی

،تصویر کا ذریعہShamsur Rahman Faruqi

اردو زبان کے معروف ادبی نقاد، ناول نگار اور شاعر شمس الرحمان فاروقی آج سہ پہر انڈیا کے شہر الٰہ آباد میں وفات پا گئے ہیں۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

وہ ایک ماہ قبل ہی کووڈ 19 سے صحتیاب ہوئے تھے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ان کے بھتیجے اور مصنف محمود فاروقی کے حوالے سے بتایا کہ وہ دلی سے اپنے گھر الٰہ آباد واپس جانے پر مصر تھے۔ 'ہم آج یہاں پہنچے اور آدھے گھنٹے بعد ان کی وفات ہوگئی۔'

انھیں انڈین حکومت کی جانب سے ان کی ادبی خدمات پر انڈیا کے اعلیٰ سول اعزاز پدما شری سے بھی نوازا جا چکا تھا۔

ان کی آخری رسومات الہٰ آباد میں ہی ادا کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

شمس الرحمان فاروقی 30 ستمبر 1935 کو اترپردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ انھیں داستان کہنے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

اپنے چھ دہائیوں پر مشتمل طویل ادبی کریئر میں انھوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں 'کئی چاند تھے سرِ آسماں'، 'غالب افسانے کی حمایت میں'، اور 'دی سن دیٹ روز فرام دی ارتھ' شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انھیں میر تقی میر پر لکھی اپنی کتاب شعرِ شور انگیز کے لیے 1996 میں سالانہ اعزاز سرسوتی سمّان سے بھی نوازا گیا تھا۔

شمس الرحمان فاروقی

اپنے ادبی کریئر کے علاوہ وہ انڈیا کے محکمہ ڈاک میں بھی خدمات سر انجام دے چکے تھے جبکہ یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے جنوبی ایشیائی علوم کے شعبے میں جز وقتی پروفیسر بھی رہے۔

ان کی وفات پر ادبی شخصیات اور ان کے مداحوں کی جانب سے دکھ کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے اور لوگ انھیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

نامور مصنفہ اور ترجمہ نگار رعنا صفوی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ علم، محبت اور ہمت افزائی کرنے میں بہت سخی تھے اور انھیں کہا کرتے تھے کہ 'پوچھ لو بیٹا میں جب تک ہوں۔'

شمس الرحمان فاروقی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@iamrana

صحافی مہتاب عالم نے ان کی وفات کی خبر دیتے ہوئے لوگوں کو ان کی کتاب پڑھنے کی تجویز دی۔

انھوں نے لکھا کہ خراجِ تحسین کے طور پر اگر آپ ان کی صرف ایک کتاب پڑھنا چاہیں تو ان کی رائے میں وہ کتاب 'اردو کا ابتدائی زمانہ' ہونی چاہیے۔

شمس الرحمان فاروقی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MahtabNama

تعلیم کے شعبے سے منسلک سواتی پرشار نے لکھا کہ ’جاتے جاتے یہ سال شمس الرحمان فاروقی کو بھی ساتھ لے گیا۔ یہ اردو شاعری اور ادبی ثقافت کا بہت بڑا نقصان ہے۔'

شمس الرحمان فاروقی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@swatipash

صارف جیکب واکر نے شمس الرحمان فاروقی کا ایک شعر پوسٹ کرتے ہوئے انھیں خراجِ تحسین پیش کیا: 'بنائیں گے نئی دنیا ہم اپنی، تری دنیا میں اب رہنا نہیں ہے۔'

شمس الرحمان فاروقی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@itsjacobwalker

صارف حسین حیدری نے کہا کہ انڈیا کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر اور گلزار پہلے محفل میں شمس الرحمان فاروقی کی موجودگی کا ذکر کرتے پھر اپنی شاعری پڑھتے۔

شمس الرحمان فاروقی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@hussainhaidry

صارف سادھیکا تیواری نے ان کی کتاب 'دی مرر آف بیوٹی' یا 'کئی چاند تھے سرِ آسماں' کے بارے میں لکھا کہ انھوں نے چھ سال قبل دورانِ تعلیم یہ کتاب پہلی مرتبہ پڑھی اور انھیں اس سے محبت ہوگئی۔ انھوں نے لکھا کہ وہ اس خوبصورت کتاب کا اختتام نہیں چاہتی تھیں۔