بابری مسجد: ایودھیا میں نئی مسجد کا ڈیزائن جاری، سوشل میڈیا صارفین کا ملا جلا ردِ عمل

بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہTwitter/@IndoIslamicCF

انڈیا میں اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے ایودھیا میں تعمیر ہونے والی مسجد کا خاکہ یا بلیوپرنٹ عوامی طور پر پیش کر دیا ہے۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں آرکیٹیکٹ ایس ایم اختر نے مسجد اور ہسپتال کے ڈیزائن کو پیش کیا۔

اس مسجد میں بیک وقت 2000 لوگ نماز پڑھ سکیں گے جبکہ خواتین نمازیوں کے لیے بھی یہاں ایک الگ جگہ بنائی جائے گی جبکہ مسجد کے احاطے میں ہی ایک ہسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا۔ ایک کمیونٹی کچن اور انڈو اسلامک ثقافت ریسرچ سینٹر بھی مسجد کے قریب بنایا جائے گا۔

تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس مسجد کا نام بابری مسجد ہوگا یا کچھ اور۔

یہ بھی پڑھیے

فاؤنڈیشن کے مطابق اس مسجد میں ایمازون کے برساتی جنگلات اور آسٹریلیا میں آگ سے متاثر ہونے والے جنگلات سمیت انڈیا کے مختلف جغرافیائی خطوں سے پودے لا کر لگائے جائیں گے۔

بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہTwitter/@shobhit81

وقف بورڈ کے حوالے سے اخبار نے کہا ہے کہ اسلام میں بھومی پوجا یعنی سنگِ بنیاد رکھنے کے وقت خصوصی عبادت کا تصور نہیں ہے لہٰذا مسجد کے لیے اس طرح کا کوئی پروگرام نہیں ہوگا۔ تاہم مسجد کی بنیاد 26 جنوری 2021 یا 15 اگست 2021 کو رکھی جائے گی۔

رام جنم بھومی اور بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے انڈو اسلامی ثقافت فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ٹرسٹ تشکیل دیا تھا جس کی ذمہ داری ایودھیا کے قریب مسجد تعمیر کرنا ہے۔

بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SalmanNizami_

یہ مسجد بابری مسجد سے چار گنا بڑی ہوگی اور اس میں تین سو بستروں والا ہسپتال ہوگا۔

انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن نے مسجد کے خاکے کی تصویر اور ویڈیوز ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہیں جن پر لوگوں کا مختلف ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

لوگ اس مسجد کی خوبصورتی اورانوکھے انداز کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف پوجا اوستھی لکھتی ہیں یہ رواتی مساجد کی طرح نہیں لگ رہی، اس میں نہ مینار ہوں گے اور نہ ہی گنبد۔

ایک اور صارف آکاش بینرجی نے ممکنہ رام مندر اور نئی مسجد کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’خوبصورت فنِ تعمیر کے نمونے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ایک صارف اندرجیت کور نے لکھا کہ ’ایودھیا مسجد ہسپتال کے ساتھ۔ اسے کہتے ہیں دانشمندانہ فیصلہ اور ایک زبردست آغاز۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ وہ ایودھیا مندر کے لیے بھی یہی چاہتی تھیں۔ انھوں نے مسجد کے مجوزہ منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے اسے انسانیت اور خدا دونوں کی خدمت قرار دیا۔

بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہTwitter/@inderjeet_kore

تاہم تمام لوگ اس نئے ڈیزائن سے خوش نظر نہیں آتے۔

ایک صارف نے لکھا کہ وہ اس نئے ڈیزائن سے خوش نہیں ہیں اور اسے بابری مسجد جیسا ہی ہونا چاہیے تھا۔ تاہم انھوں نے لکھا کہ اس سے مسلمانوں کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ ایودھیا میں متنازع بابری مسجد کو ہندو شدت پسند گروہوں نے 6 دسمبر 1992 کو منہدم کر دیا تھا اور اس کے بعد ہی اس قطعہ زمین کی ملکیت کے حوالے سے ایک مقدمہ الہٰ آباد کی ہائیکورٹ میں درج کروایا گیا تھا۔

28 سال کی طویل عدالتی جنگ کے بعد انڈیا کی سپریم کورٹ نے اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیا تھا۔

بابری مسجد

،تصویر کا ذریعہPraveen Jain/BBC

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے ایک بینچ نے مندر مسجد کے اس تنازعے کا متفقہ طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم فریق کو ایودھیا کے اندر کسی نمایاں مقام پر مسجد کی تعمیر کے لیے ایک متبادل پانچ ایکڑ زمین دی جائے۔

عدالت نے مرکز اور اتر پردیش کی ریاستی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس متبادل زمین کا انتظام کریں۔