بابری مسجد: لکھنؤ کی عدالت نے 28 برس بعد مسجد انہدام کیس میں نامزد تمام 32 ملزمان کو بری کر دیا

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انڈیا میں لکھنؤ کی ایک خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کیس میں نامزد تمام 32 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔
بی بی سی ہندی کے مطابق خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ 28 برس قبل بابری مسجد کا انہدام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا اس لیے تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے۔
خصوصی عدالت کے جج کا مزید کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نامزد ملزمان کے اس معاملے میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں۔
یاد رہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے لگ بھگ 28 برس بعد آج اس کیس کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔
قانون کے مطابق عدالت کی جانب اس کیس کا فیصلہ سنانے کے وقت اِس مقدمے میں نامزد تمام 32 ملزموں کو عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن کورونا کی وبا کے سبب بیشتر ملزمان، جن کی عمریں زیادہ ہیں، ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کا فیصلہ سنا۔
اس مقدمے کے ملزمان میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے شریک بانی اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق مرکزی وزرا مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت کئی سینیئر سیاستدان شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ ہندو مذہب کی فتح ہے‘
عدالتی کارروائی کے بعد بری ہونے والے ملزمان نے احاطہ عدالت سے باہر نکل کر میڈیا کو اس فیصلے پر اپنا اپنا ردعمل دیا ہے۔
بری ہونے والے ملزم ایل کے اڈوانی کے وکیل ومل سریواستو نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’تمام ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے، اتنے شواہد موجود نہیں تھے کہ الزمات ثابت ہو سکتے۔‘
اسی مقدمے میں دوسرے ملزم جے بھگوان گویل نے ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مندر توڑا تھا، ہمارے اندر سخت غصہ تھا، ہر کارسیوک کے اندر ہنومان جی سما گئے تھے۔ ہم نے مسجد توڑی تھی، اگر عدالت سے سزا ملتی تو ہم خوشی سے اس سزا کو قبول کر لیتے۔ عدالت نے سزا نہیں دی۔ یہ ہندو مذہب کی فتح ہے، ہندو قوم کی فتح ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN
احاطہ عدالت کے باہر موجود افراد نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور جئے شری رام کے نعرے لگائے۔
دوسری جانب بابری مسجد اراضی مقدمے میں ایک فریق ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے کہا ’ہم قانون کی پاسداری کرنے والے مسلمان ہیں، اچھا ہے اگر عدالت نے بری کر دیا ہے تو ٹھیک ہے۔ کیس بہت طویل عرصے سے التوا میں تھا اب ختم ہوگیا ہے۔ اچھا ہوا۔ ہم چاہتے تھے کہ اس کا جلد فیصلہ ہوجائے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘
انڈیا کے مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے ایک ٹویٹ میں فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور لکھا ’دیر سے ہی سہی انصاف کی جیت ہوئی۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’بابری مسجد انہدام کیس میں لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے ذریعہ مسٹر ایل کے ایڈوانی، مسٹر کلیان سنگھ، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، اما جی سمیت 32 افراد کے کسی بھی سازش میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ اس فیصلے سے ثابت ہوا ہے کہ دیر سے ہی سہی انصاف کی جیت ہوئی ہے۔‘
بابری مسجد انہدام کیس کیا تھا؟
ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے دو مقدمے عدالت میں زیر سماعت تھے۔
ایک مقدمہ زمین کی ملکیت کا تھا جس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے گذشتہ برس نومبر سناتے ہوئے یہ قرار دیا کہ وہ زمین جہاں بابری مسجد تھی وہ مندر کی زمین تھی۔ اسی مقام پر دو مہینے قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک پُرشکوہ تقریب میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔
دوسرا مقدمہ بابری مسجد کے انہدام کا ہے۔ چھ دسمبر 1992 کو ایک بڑے ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ یہ مسجد پانچ سو برس قبل انڈیا کے پہلے مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔ ہندو کارسیوکوں کا ماننا ہے کہ یہ مسجد ان کے بھگوان رام چندر کے جائے پیدائش کے مقام پر تعمیر کی گئی تھی۔
بابری مسجد کے انہدام کے بعد ایودھیا کی انتظامیہ نے دو مقدمے درج کیے تھے۔
ایک مقدمہ مسجد پر یلغار کرنے والے ہزاروں نامعلوم ہندو رضاکاروں کے خلاف درج ہوا تھا اور دوسرا مقدمہ انہدام کی سازش کے بارے میں تھا۔ اس مقدمے میں ایل کے اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی، سادھوی رتھمبرا اور وشو ہندو پریشد کے کئی رہنما اور ایودھیا کے کئی مہنت ملزم بنائے گئے۔
ابتدائی طور پر 48 لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ تین عشروں سے جاری اس کیس کی سماعت کے دوران 16 ملزمان انتقال بھی کر چکے ہیں۔
بابری مسجد کے انہدام کے یہ دونوں مقدمے پہلے رائے بریلی اور لکھنؤ کی دو عدالتوں میں چلائے گئے مگر بعد میں انھیں سپریم کورٹ کے حکم پر یکجا کر دیا گیا اور ان کی سماعت لکھنؤ کی سیشن اور ضلعی عدالت میں مکمل کی گئی۔ تقتیش اور مقدمے کی سماعت کے دوران ایسا بھی مرحلہ آیا تھا جب تفتیشی بیورو نے اڈوانی، جوشی اور دوسرے سینیئر رہنماؤں کے خلاف انہدام کی سازش کا مقدمہ واپس لے لیا تھا لیکن بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اسے دوبارہ بحال کیا گیا۔
اس مقدمے میں ملزمان کے خلاف سی بی آئی کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے 500 سالہ تاریخی بابری مسجد کو گرانے کی سازش تیار کی اور ہندو کارسیوکوں کو مسجد کے انہدام کے لیے مشتعل کیا۔ جبکہ اپنے دفاع میں ملزمان کی دلیل ہے کہ انھیں قصوروار ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہدام کے وقت دلی میں برسر برقتدار کانگریس کی حکومت نے سیاسی انتقام کے طور پر انھیں اس مقدمے میں شامل کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ نومبر میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کا حتمی فیصلہ اگرچہ ہندو فریق کے حق میں دیا تھا لیکن بابری مسجد کے بارے میں یہ مشاہدہ دیا گیا تھا کہ مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ فعل تھا۔
ماضی میں ہونے والے اس طرح کے ہجوم کی جانب سے کیے جانے والے تشدد اور تخریب کاری کے واقعات میں عموماً کسی کو سزا نہیں مل پاتی تھی۔ آج کے فیصلے میں جو پہلو اہم ہو گا وہ یہ ہے کہ آیا عدالت یہ مانتی ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی سازش رچی گئی تھی اور یہ کہ کیا اس سازش کے ذمہ دار ایڈوانی اور ان کے ساتھی تھے؟
اس مقدمے کے فیصلے سے انڈیا کی سیاست یا ہندو مسلم رشتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ گذشتہ نومبر میں مسجد، مندر تنازع کا حتمی فیصلہ آنے کے بعد ایک مسلم فریق نے تجویز پیش کی تھی کہ مصالحت اور خیر سگالی کے اظہار کے طور پر مسجد کے انہدام کے مقدمے کو واپس لے لیا جائے۔ لیکن چونکہ مقدمہ تب تک اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا اس لیے اس تجویز کو زیادہ اہمیت نہ مل سکی۔
چھ دسمبر 1992 کو ایودھیا میں لاکھوں ہندو کارسیوک پورے ملک سے جمع ہوئے تھے۔ بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعیمر کرنے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کے کی غرض سے بی جے پی کے سینیئر رہنما ایل کے اڈوانی نے اپنی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے اشتراک سے ایک ملک گیر رتھ یاترا شروع کی تھی۔
اڈوانی نے بابری مسجد کو ’قومی کلنک‘ قرار دیا تھا۔ اس وقت دلی میں کانگریس کی حکومت تھی نرسمہا راؤ وزیر اعظم تھے۔ اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت تھی اور کلیان سنگھ وزیر اعلی تھے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کو ایک بیان حلفی میں یقین دہانی کرائی تھی کہ لاکھوں کارسیوکوں کی موجودگی کے باوجود بابری مسجد پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔

،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBC
مرکزی حکومت نے انہدام کے خدشے کے پیش نظر چھ دسمبر سے کئی روز قبل ہی ایودھیا اور اس سے متصل شہر فیض آباد میں نیم فوجی دستے تعینات کر دیے تھے۔
بابری مسجد ایک اونچے ٹیلے پر بنی ہوئی تھی۔ اس کے گرد خاردار تاروں اور ٹین کا حصار بنا ہوا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکار اس کی حفاظت پر مامور تھے۔ ایودھیا میں کارسیوک کئی روز سے جمع ہو رہے تھے۔ ان کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔
چھ دسمبر کو سینکڑوں کارسیوک بیلچوں اور ہتھوڑوں کے ساتھ مسجد کی طرف بڑھے جس کے باعث پولیس اور نیم فوجی دستے پیچھے ہٹتے گئے۔ دوپہر تک بابری مسجد کے تینوں گنبد مسمار کیے جا چکے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملک کی کئی ریاستوں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق کم از کم دو ہزار افراد مارے گئے۔
ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں رام جنم بھومی کی تحریک نے انڈیا میں منتشر اور اور بکھری ہوئی ہندو قوم کو پہلی بار اجتماعی قوم پرستی کا شعور بخشا۔ 80 فیصد سے زیادہ ہندو آبادی والی اس جمہوریت میں قوم پرستی اور انڈیا کی تہدیبی وراثت کو مختلف مذاہب کی ملی جلی وراثت سے تعبیر نہ کر کے اسے ہندو ریاست سے منسلک کیا گیا۔ ہندو احیا کی اس تحریک کی بدولت بی جے پی کی مقبولیت بڑھتی گئی اور وہ چھ برس کے اندر وہ مرکز میں اقتدار میں آ گئی۔
انڈیا کی سیکولر جمہوریت رفتہ رفتہ ہندو مائل جمہوریت میں بدلنے لگی۔ ایڈوانی جب نائب وزیراعظم تھے، اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ مودی کے سیاسی گرو تصور کیے جاتے تھے۔ گجرات کے فسادات کے سلسلے میں جب مودی کو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی نکتہ چینیوں کا سامنا تھا اس وقت ایڈوانی نے ہی مودی کا دفاع کیا تھا اور وہ ہر مرحلے پر مودی کے ساتھ کھڑے تھے۔
لیکن غالباً پاکستان کے بانی محمد علی جناح کو سیکولر ماننے کے سبب اڈوانی سے مودی کے گہرے اختلافات پیدا ہو گئے۔ وزیر اعظم مودی نے آزاد انڈیا کے غالباً سب سے فعال سیاست داں کو مکمل طور پر علیحدگی اور گمنامی میں دھکیل دیا ہے۔
ہندو قوم پرستی کو اجتماعی شعور تک پہنچانے والے اڈوانی اور ان کے ساتھی مرلی منوہر جوشی آج سیاسی تنہائی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جس ہندو قوم پرستی کی انھوں نے بنیاد رکھی آج اسی کی بنیاد پر نریندر مودی اپنی مقبولیت کی بلندی پر ہیں۔
اڈوانی نے ہندوؤں کے غلبے والے جس ہندوستان کا تصور کیا تھا وہ خواب مکمل تکمیل کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی ہندوستان میں لکھنؤ کی سیشن عدالت اگر انھیں ایک مسجد کے انہدام کی سزا دیتی تو یہ ان کے ساتھ تاریخ کی ستم ظریفی ہوتی۔











