احمد رشید: ’افغان سوچتے ہیں کہ پاکستان طالبان کو چابی دے کر چلا رہا ہے لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے‘

اسلام آباد میں طالبان کا وفد

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنملا برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کا وفد پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے مذاکرات کر رہا ہے
    • مصنف, محمد ابراہیم
    • عہدہ, صحافی

گذشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کے علاوہ افغانستان میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ فون کال ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ملا برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کا ایک وفد اسلام آباد میں موجود ہے جہاں اس کی وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

تاہم اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے طالبان وفد سے ملاقات کے بعد یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں تشدد میں کمی کی ذمہ داری صرف طالبان پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

پچھلے کئی ماہ سے افغان امن عمل بظاہر جمود کا شکار دکھائی دیتا ہے اور جس تیزی سے رواں برس کے اوائل میں اس سلسلے میں پیش رفت دیکھنے میں آ رہی تھی اب دکھائی نہیں دیتی۔

یہ بھی پڑھیئے

ایسے میں یقیناً یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پاکستان کا افغان امن میں کیا کردار ہے اور کیا اب بھی طالبان حلقوں میں پاکستان کی حکومت کی بات کو وہی اہمیت دی جاتی ہے جو کچھ برس پہلے تک دی جاتی تھی؟

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور طالبان اور افغانستان پر متعدد کتابوں کے مصنف احمد رشید کے مطابق افغان عوام بھی ابھی تک یہ سوچتے ہیں کہ پاکستان طالبان کو چابی دے کر چلا رہا ہے لیکن ’میرے خیال میں یہ ایک غلط فہمی ہے۔‘

کابل بم حملے کے بعد کا منظر

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنحالیہ دنوں میں افغانستان میں شدت پسندوں نے حملے بھی کیے ہیں

احمد رشید نے گذشتہ ماہ بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوحہ امن عمل میں کوئی پیش رفت نہ ہونا افسوس ناک ہے اور اس بارے میں مختلف حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں یہ کہوں گا کہ اب پاکستان کا وہ جنگی اثر رسوخ نہیں ہے مگر ابھی تک بہت سا اثر و رسوخ پھر بھی باقی ہے۔ پاکستان کو یہ دباؤ ضرور ڈالنا چاہیے کہ افغان شہریوں کو ایک ڈیڈ لائن دیں کہ آپ اور کتنے عرصے تک یہاں رہیں گے لیکن اب پاکستان اس سے زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ’تین مہینے سے اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ہر خطے کے لوگ اس بارے میں بڑے پریشان ہیں۔ ایک بات پر تقسیم اس لیے ہے کہ طالبان جنگ بندی پر نہیں مان رہے اور افغان حکومت جنگ بندی کی حامی ہے۔

احمد رشید کہتے ہیں کہ کابل میں اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملے اب بھی جاری ہیں اور ان حملوں کے پیچھے طالبان اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ دونوں کا ہاتھ ہے۔

انھوں نے مذاکرات میں طالبان کے مؤقف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ طالبان کس قسم کی حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں اور افغان حکومت کے ساتھ کس قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں۔ انھوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ آئین نہیں مانتے، وہ صرف اسلامی نظام مانتے ہیں لیکن کون سا اسلامی نظام، کہاں سے آئے گا اسلامی نظام؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’1990 میں جو آپ کا اسلامی نظام تھا وہ افغان شہریوں کو ابھی تک یاد ہے اور لوگ ڈرتے ہیں طالبان سے۔ پورے ملک میں طالبان کی حمایت بہت ہی کم ہے۔ اکثریت میں لوگ یہی چاہ رہے ہیں کہ امن آئے، آئینی حکومت بنے اور جنگ بندی ہو لیکن ہم ہر قدم پر دیکھ رہے ہیں کہ یہ بہت پیچیدہ صورتحال بن گئی ہے۔‘

طالبان کے علاوہ دیگر جنگجو گروپ کس حد تک افغانستان میں امن کو متاثر کر سکتے ہیں؟

احمد رشید نے افغانستان کی پیچیدہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہت سے طالبان گروہ ہیں جو ابھی تک پاکستان میں بسے ہوئے ہیں۔ طالبان نے ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ اگر بات چیت چلتی ہے تو اس معاہدے میں امریکہ کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان جو اب ان گروہوں کو پناہ دے رہے ہیں، مستقبل میں نہیں دیں گے۔

انھوں نے ان گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’وسطی ایشیا کے گروہ ہیں، چین کے عسکریت پسند گروہ ہیں، پاکستان کے درجنوں گروہ ہیں وہاں، القاعدہ ہے وہاں۔ تو افغاستان ابھی ان سارے گروہوں کا ایک اڈہ بنا ہوا ہے اور طالبان کو اس معاملے کو حل کرنا ہو گا، جو انھوں نے ابھی تک نہیں کیا۔‘

انھوں نے القاعدہ اور طالبان کے درمیان معاملات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کو جو تحفظ طالبان نے 25 برس دیا ہے وہ ایک منٹ میں ختم نہیں کر سکیں گے۔

’ظاہر ہے کہ القاعدہ جو افغانستان میں بس رہا ہے ان کے لوگوں کو بھی تو طالبان سے تحفظ مل رہا ہو گا اور القاعدہ یقیناً طالبان کی کچھ مدد بھی کرتا ہو گا، جنگ میں، لڑائی میں اور ٹریننگ میں۔‘