آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے کسانوں کی تحریک میں سکھ مسلم ہم آہنگی کا اظہار، میٹھے چاول کی ضیافت
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈین دارالحکومت دہلی میں داخل ہونے والے سنگھو بارڈر پر ہزاروں کی تعداد میں کسان مظاہرین تین ہفتے سے یکجا ہیں جہاں ایک جانب سخت جاڑے میں بھی وہ پر عزم نظر آتے ہیں وہیں سماج کے ہر طبقے کی جانب سے انھیں تعاون بھی دکھائی دے رہا ہے۔
اس کا اظہار سات کلو میٹر میں پھیلے دھرنے کے مقام سنگھو بارڈر پر ہوتا ہے جہاں ملک بھر کے ہزاروں کسان حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں یکجا ہیں لیکن ان میں اکثریت پنجاب کے کسانوں کی ہے۔
پنجاب کے مالیر کوٹلہ سے ایک 25 رکنی ٹیم ان کسانوں کی خدمت کے جذبے سے وہاں موجود ہے۔ گذشتہ ہفتے بی بی سی مراٹھی کے نیلیش دھوترے نے جب رات میں وہاں کا دورہ کیا تو انھوں نے دیکھا کہ رات کے دو بجے وہاں گرم گرم میٹھے چاول تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کی صبح ہماری بات مالیر کوٹلہ کے طارق منظور سے فون پر ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں 27 نومبر سے ہی 24 گھنٹے یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مالیر کوٹلہ کے مسلمان زیادہ تر تاجر ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کی تحریک ہے اور وہ اس میں اس طرح اپنا تعاون پیش کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں نہ صرف میٹھے چاول بلکہ نمکین چاول بھی پیش کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا وہ بریانی پیش کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ 'آپ اسے ویج بریانی کہہ سکتے ہیں۔'
انھوں نے بتایا کہ تمام مذاہب کے احترام میں انھوں نے ویج کا انتظام کر رکھا ہے ویسے زردہ پلاؤ مسلمانوں کی ایک اہم ڈش ہے جو خاص مواقع پر پیش کی جاتی ہے اور کسانوں کی تحریک کسی خاص موقعے سے کم نہیں۔
وہاں پر موجود دہلی کے ایک فرد نواب (انھوں نے اپنا ایک ہی نام بتانا مناسب سمجھا) نے کہا کہ وہ بھی اس میں اپنا تعاون دینے کے لیے وہاں ہیں اور مالیر کوٹلہ کی ٹیم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
نواب نے کہا کہ مسلمان ملک کے لیے ہر خدمت میں پیش پیش رہے ہیں اور یہ بھی ایک خدمت ہے۔ وہاں موجود امجد نے بتایا کہ ایک میلے کا سماں ہے۔ ہر تھوڑی دور پر کوئی نہ کوئی لنگر چل رہا ہے، کہیں جلیبیاں تلی جا رہی ہیں تو کہیں پوڑیاں۔
جب ہم نے طارق منظور سے سکھ برادری اور مالیر کوٹلہ کے مسلمانوں کے تعلق بارے میں پوچھا تو یوں لگا کہ انھیں دونوں مذاہب کے درمیان کی ہم آہنگی ازبر ہے کہ کس طرح مالیرکوٹلہ کے نواب نے سکھوں کے آخری گرو کا ساتھ دیا تھا اور کس طرح انھوں نے ایک کرپان انھیں تحفے میں دی تھی۔
سکھ مسلم اتحاد کی پرانی روایت
مالیر کوٹلہ انڈین پنجاب کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں مسلم اکثریت ہے اور اس جگہ کی اپنی ایک تاريخ ہے کہ کس طرح تقسیم ہند میں پورے مشرقی پنجاب سے بڑی تعداد میں پاکستان نقل مکانی ہوئی تھی لیکن مالیر کوٹلہ سے لوگوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔
پنجاب کے محکمۂ تعلیم میں نائب ڈائریکٹر پروفیسر محمد رفیع نے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'تقسیم کے وقت مالیر کوٹلہ خونریزی سے محفوظ رہا اور یہاں کے مسلمانوں نے کبھی نقل مکانی کے بارے میں نہیں سوچا کیونکہ سکھ قوم مالیر کوٹلہ کے نواب محمد شیر خان کی قدر کرتی ہے۔'
ان کے مطابق: 'یہ بات سنہ 1705 کی ہے جب ملک پر مغلوں کی حکومت تھی اور سرہند میں سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ کے دو معصوم بیٹوں کو دیوار میں زندہ چنوایا جا رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت نواب محمد شیر خان نے اس کی مخالفت کی تھی۔۔۔ اور تب سے ہی سکھ قوم ان کا احسان مانتی ہے۔'
طارق منظور نے بتایا کہ اسی وقت سے ہی مالیر کوٹلہ مذہبی ہم آہنگی کی مثال بنا ہوا ہے۔ سکھوں نے نواب شیر محمد خان کی یاد میں ایک گرودوارہ بھی تعمیر کیا ہے جسے 'ہا کا نعرہ' یا حق کی آواز کے نام سے جانا جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گرو گوبند سنگھ نے سکھوں کے نزدیک اہم تصور کی جانے والی چیز کرپان تحفے میں دی تھی جو ان کے ہاں آج تک محفوظ ہے۔
انڈیا کے کسان آخر چاہتے کیا ہیں؟
ستمبر کے مہینے میں حمکراں جماعت بی جے پی نے پارلیمان سے جلدی جلدی میں تین زرعی قوانیں منظور کرائے جس کی حزب اختلاف نے اور خود حکمراں اتحاد این ڈی کے کے حلیف اکالی دل والوں نے مخالفت کی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسانوں کے بھلے کے لیے لایا گیا ہے لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ اس میں ان کا نقصان ہے اور ملک کو کارپوریٹ کے ہاتھوں بیچا جا رہا ہے۔
دریں اثنا نئے زرعی قانون کی مخالفت کرنے والے کسانوں کی 30 سے زیادہ تنظیموں کے فورم نے حکومت ہند کی قانون میں ترمیم کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ در اصل انھوں اسے نو دسمبر کو ہی مسترد کر دیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان تینوں قوانین کے واپس لیے جانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
گذشتہ دنوں اس معاملے میں ملک کی عدالت عظمی نے اگر چہ دخل نہیں دیا ہے لیکن اس نے اپنی رائے دی ہے کہ کسانوں کے اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہیے لیکن ابھی تک صورت حال جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔
'شوک دیوس' یعنی یوم غم
کسانوں کا الزام ہے کہ انڈیا کی حکومت ان کی بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس تحریک میں اب تک 20 سے زائد کسانوں کی موت ہو چکی ہے اور اسی لیے انھوں نے اتوار یعنی 20 دسمبر کو 'شوک دیوس' یعنی یوم غم منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اعلان کے بعد سکھوں کے ایک مبلغ رام سنگھ سنگھڑا سے مبنیہ طور پر کسانوں کی حالت زار نہ دیکھی گئی اور انھوں نے خودکشی کر لی۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ان کے پاس سے پنجابی زبان میں لکھا ہوا ایک خط ملا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے یہ خط رام سنگھ نے لکھا تھا۔ انھوں نے خط میں لکھا ہے کہ ان سے 'کسانوں کی تکلیف نہیں دیکھی جارہی ہے۔'
اس سے قبل پی ٹی آئی کے مطابق بھارتیہ کسان یونین (سدھ پور) کے صدر جگجیت سنگھ نے کہا تھا کہ '26 نومبر سے جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے ہر روز اوسطا ایک کسان کی موت ہو رہی ہے۔ ہم 20 دسمبر کو ملک کے تمام گاؤں میں اس دوران شہید ہونے والے تمام کسانوں کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ جب ان کے نام اور تصاویر گاؤں پہنچیں گی تو زیادہ سے زیادہ لوگ ہماری جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے آگے آئیں گے۔`