آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں جاری کسان احتجاج پر تنمنجیت سنگھ کا بورس جانسن سے سوال: برطانوی وزیراعظم لاپرواہ یا بے خبر؟
انڈیا میں کسانوں کی تحریک اور احتجاج کا معاملہ اب غیرملکی پارلیمانوں میں بھی اٹھ رہا ہے۔ بدھ کو برطانیہ میں لیبر پارٹی کے سکھ ممبر پارلیمان تنمنجیت سنگھ نے ایک بار پھر اس مسئلے کو برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔
تنمنجیت سنگھ نے برطانوی وزیراعظم جانسن سے جب اس بارے میں سوال اٹھایا تو وہ پوری طرح اس معاملے سے انجان نظر آئے۔ انھیں لگا کہ یہ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق کوئی معاملہ ہے اور کہا کہ دونوں ممالک کو اسے آپس میں بات چیت سے سلجھانا چاہیے۔
واضح رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں سے انڈیا میں کسان مودی حکومت کے نئی زرعی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انھیں خطرہ ہے کہ یہ قانون ان کی روزی روٹی متاثر کریگا۔
تنمنجیت سنگھ برطانیہ میں مودی سرکار کی پالیسیوں پر کئی بار تنقید کر چکے ہیں۔ انھوں نے برطانوی پارلیمان میں انڈیا کے شہریت کے ترمیمی ایکٹ سی اے اے کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کے دن بورس جانسن کی موجودگی میں انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کے کئی علاقوں اور خاص طور پر پنجاب کے کسان جو پر سکون احتجاج کر رہے تھے، ان پر واٹر کینن اور آنسو گیسں کے استعمال کی ویڈیوز پریشان کن ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’کیا برطانوی وزیراعظم انڈین وزیراعظم کو اس بارے میں ہمیں لاحق تشویش سے آگاہ کرینگے؟ ہم امید کرتے ہیں کہ موجودہ پیشرفت کا کوئی حل نکلے گا۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ پرسکون مظاہرہ سبھی کا بنیادی حق ہے۔‘
جب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اس حوالے سے جواب دینا شروع کیا تو یہ محسوس کیا گیا کہ وہ اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔
انھوں نے کہا: ’ظاہر ہے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو بھی ہو رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ یہ ایک متنازعہ معاملہ ہے اور دونوں حکومتوں کو ملکر حل نکالنا ہو گا۔‘
تنمنجیت سنگھ وزیراعظم کا یہ جواب سن کر حیرت کے مارے کچھ بھی نہ کہہ سکے۔
تنمنجیت سنگھ اںڈین کسانوں کو لے کر برطانیہ میں کافی سرگرم رہے ہیں۔ انھوں نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں 35 دیگر ممبر پارلیمان سے ایک خط پر دستخط بھی کرائے ہیں۔
انھوں نے ٹوئٹر پر بورس جانسن کے جواب پر تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’اچھا ہوتا اگر ہمارے وزیراعظم کو پتا ہوتا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘
برطانیہ میں ایک سکھ گروپ کے رہنما گر پتونت سنگھ نے برطانوی اخبار دی گارڈین کو بتایا: ’ہم اس بات سے انتہائی مایوس ہیں کہ ہمارے وزیراعظم انڈیا میں کسانوں کے احتجاج اور انڈیا پاکستان کے درمیاں سرحدی تنازعے کے بارے میں وضاحت نہیں رکھتے۔ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور وزیراعظم کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ کسانوں کے مظاہرے کو طاقت کے استعمال سے کچلا جا رہا ہے۔‘
برطانوی حکومت نے انڈیا میں جاری کسان احتجاج پر کوئی بھی ردعمل دینے سے انکار کیا ہے۔ فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈیویلپمنٹ آفس نے اسے انڈیا کا اندرونی معاملہ کہا ہے۔
دوسری جانب انڈین صحافی سہاسنی حیدر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ برطانوی حکومت کے ترجمان نے اس معاملے پر وضاحت دی ہے۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نے آج پارلیمنٹ میں واضح طور پر اس سوال کو غلط انداز میں سنا۔ دفتر خارجہ (انڈیا) میں احتجاج کے اس معاملے کو انتہائی قریب سے دیکھ رہا ہے۔‘
برطانوی وزیر اعظم کے جواب کی خبر وہاں کے اخباروں میں شائع ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کسانوں کے احتجاج پر انڈین سکیورٹی فورسز کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی حکومت ہمیشہ سے پرسکون مظاہروں کی حمایت کرتی رہی ہے۔
جسٹن ٹرڈو کے بیان پر انڈیا کی وزارت خارجہ نے سخت تنقید کی اور وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے انکے بیان کو غیر تصدیق شدہ اورسچائی سے دور بتایا۔ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا بیان غیر ضروری اور ایک جمہوری ملک کے اندرونی معاملے میں مداخلت کرنے جیسا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم نے گرونانک دیو کے یوم پیدایش پر ایک آن لائن پیغام میں کہا تھا کہ اگر وہ انڈیا میں جاری کسانوں کے مظاہرے کا نوٹس نہیں لے گیں تو یہ ان کی لاپرواہی ہو گی۔ واضح رہے کہ کینیڈا میں تقریباً پانچ لاکھ سکھ آباد ہیں۔
جسٹن ٹروڈو نے کہا: ’صورتحال تشویشناک ہے۔ ہم مظاہرین کے اہلخانہ اور دوستوں کے لیے فکرمند ہیں۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں گا کہ کینیڈا ہمیشہ سے پر امن احتجاج کے حق میں رہا ہے۔ ہم مذاکرات کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نے انڈین عہدیداروں سے اس معاملے پر بات کی ہے۔‘
ٹروڈو کے بیان پر انڈین سوشل میڈیا میں کافی بحث ہوئی۔ بہت سے لوگوں نے اسکی تعریف کی تو کئی افراد نے اسے دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
سینیئر صحافی ویر سنگھوی نے جسٹس ٹروڈو کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے لکھا: ’کسانوں کے مظاہرے کو لے کر میری رائے جو بھی ہو لیکن مجھے جسٹس ٹروڈو کا بیان پسند نہیں آیا۔ جسٹن ٹروڈو کو معلوم ہے کہ ایک ملک کے رہنما کے طور پر ان کے بیان سے عالمی سطح پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ وہ اپنے سکھ حامیوں کو خوش کر رہے ہیں۔‘
برطانیہ کے پارلیمان کے علاوہ انڈین کسانوں کے اس احتجاج پر برطانیہ کی سڑکوں پر بھی بات ہو رہی ہے۔
اسی ہفتے سکھ مظاہرین نے لندن میں انڈین سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ انڈین سفارتخانے نے اس کی شدید مذمت کی۔
برطانیہ میں مختلف جماعتوں کے 36 رہنماؤں نے ملک کے وزیر خارجہ ڈامینک راب سے کہا ہے کہ وہ انڈین وزیر خارجہ سے بات کریں اور انھیں بتائیں کہ انڈیا میں زرعی قانون کے خلاف جاری مظاہرے سے برطانوی پنجابی متاثر ہو رہے ہیں۔
ان ممبران پارلیمنٹ نے گذشتہ جمعے کو ایک خط جاری کیا تھا۔ اس خط کو تنمنجیت سنگھ نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا تھا۔