انڈیا کے کسانوں کے ساتھ مودی حکومت کے خلاف محاذ کھولنے والی خواتین کی کہانیاں

    • مصنف, گرمہر کور
    • عہدہ, مصنفہ اور امن کی کارکن

سال بھر آکسفورڈ میں انڈیا، سیاست اور سیاسی ایکٹیوزم سے دور رہنے کے بعد میری انڈیا واپسی اس وقت ہوئی جب کسانوں کا احتجاج پنجاب سے ہوتا ہوا دلی کی سرحد تک آ پہنچا تھا، جہاں ایسا لگ رہا تھا کہ مسلح دلی پولیس خار دار تاروں کے پیچھے حملے کی تیاری کر رہی ہے۔

جنگ کا سا سماں تھا، پولیس اپنی چوکیوں سے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کر رہی تھی، اور ان پر واٹر کینن چلائے جا رہے تھے۔

شاید کچھ سال پہلے ایسا ہوتا تو پولیس کی اس بربریت پر انڈیا کے شہریوں کے ذہنوں میں خطرے کی گھنٹی بجتی، لیکن اب ایسا نھیں معلوم ہوتا۔

لیکن احتجاج کرنے والے بھی اس کے لیے تیار تھے۔ پچھلے سال شہریت کے متنازع قانون سی اے اے ای کے خلاف چلنے والی تحریک کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے وہ کافی کچھ سیکھ چکے تھے۔

اسی بارے میں

وہ اپنی ٹرالیاں لے کر آئے، قومی شاہراہ کو بلاک کر دیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اس مقام سے تبھی ہٹیں گے جب مودی سرکار ان متنازع نئے قوانین کو واپس لے گی۔

میں نے قرنطینہ کا وقت پنجاب میں اپنے گھر پر گزارنے کے بعد آزادی کے پہلے دن کسانوں کی ’دلی چلو‘ کی کال پر عمل کرتے ہوئے جالندھر سے دلی اور ہریانہ کے درمیان سنگھو سرحد کا رخ کیا جہاں مظاہرین دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ .

میرے آکسفورڈ سے جلدی میں واپس آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں وہاں خود کو بہت تنہا محسوس کرنے لگی تھی۔

ایک ایسی تنہائی جو برطانیہ کی برفیلی سردی کی طرح میری ہڈیوں میں اتر گئی تھی۔ اپنے وجود، اپنی زندگی کے مقصد، اپنی برادری کے بارے سوالات سے الجھتی ہوئی جب میں احتجاج کے مقام پر پہنچی تو ایسا لگا کہ جیسے مجھے گلے لگایا جا رہا ہو۔

میرے بچپن کے وہی جانے پہچانے چہرے اور آوازیں، سروں پر تاج کی طرح سجی پگڑے، ٹھیٹھ پنجابی بولتے، ہنستے مسکراتے، ایک دوسرے کو کھانا کھلاتے لوگ، جو ساتھ ساتھ حکومت سے اپنے حقوق، عزت نفس اور انصاف کے لیے جنگ کی تیاری بھی کر رہے تھے۔

مظاہرہ نہیں، کیمپ

آپ احتجاج کے مقام پر پہنچتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مظاہرے کی جگہ سے زیادہ ایک کیمپ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

جن ٹرالیوں میں بیٹھ کر یہ مظاہرین یہاں پہچے انہیں رہنے کے لیے شیلٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سڑکوں کے کنارے کھانے پینے کی اشیا، بجلی اور بیت الخلا کے لیے ٹینٹ لگائے گئے ہیں۔ دن میں چوبیس گھنٹے لنگر پکتا اور تقسیم ہوتا ہے۔

یہ کیمپ نعروں، احتجاجی گیتوں، مسالحہ چائے، ابلتی دال اور گرم گرم روٹیوں کی خوشبووں سے بھرا ہوا ہے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان تیار کھڑی نہنگ فوج

کیمپ سے دلی پولیس کے بیریکیڈ تک کا فاصلہ کوئی چار کلومیٹر ہے۔ اس پر آپ کی ملاقات نہنگ فوج سے ہوتی ہے، جو کہ سکھوں کا ایک مسلح فرقہ ہے۔

اپنے گھوڑوں اور کرپانوں کے ساتھ وہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تیار کھڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پولیس نے مظاہرین پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں پہلے نہنگ فوج سے نمٹنا ہوگا۔

ایک کسان کے لیے اس کی شناخت، اس کی زندگی کا مقصد، اس کی روزی سب کچھ اس کی زمین سے جڑا ہوتا ہے۔ ان کسانوں کے لیے یہ لڑائی صرف بقا کے لیے نہیں بلکہ اس کے وجود کے لیے ہے۔

نیلم اور جسبیر

میری ملاقات نیلم گھمن اور جسبیر کور سے ان کے نئے گھر میں ہوئی۔ وہ آٹھ دیگر خواتین کے ساتھ ایک ٹرالی میں رہتی ہیں جس کے اوپر پلاسٹک کی چھت چڑھائی گئی ہے۔

اپنے اس نئے گھر کا دروازہ انھوں نے اپنے دل کے دروازے کی ہی طرح میرے لیے کھول دیا۔

نیلم اور جسبیر سینکڑوں دیگر خواتین کے ساتھ پچھلے دو ماہ سے سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں، پہلے پنجاب میں جہاں وہ یہ کہہ کر ریل کی پٹریوں پر بیٹھ گئی تھیں کہ یا تو سرکار یہ کالے قوانین واپس لے یا پھر ان پر ٹرین چڑھا دے، اور پھر پچیس نومبر سے سنگھو سرحد پر۔

گرداسپور کی نیلم گھمن

نیلم کا تعلق گرداسپور سے ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’ہم نے ریلیاں نکالیں، میٹنگ کیں، دھرنے دیے اور جب اس سب کے بعد بھی کچھ نہ ہوا تو دلی چلو کا نعرہ بلند کیا اور یہاں آ گئے۔‘

نیلم نے مزید بتایا، ’ہمیں پتا تھا کہ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہوگی۔ ہم گھر سے یہی سوچ کر چلے تھے کہ تب تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک سرکار یہ قانون واپس نہیں لیتی۔ اس میں ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے اور دس سال بھی۔‘

نیلم نے بتایا کہ ان کے دو بچے ہیں، چودہ سال کا بیٹا اور انیس سال کی بیٹی۔ ان کے شوہر بھی ان کے ساتھ احتجاج میں شامل۔ بچوں کو ان کی دادی اور دیگر رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر آئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’بیٹا پہلے پہلے کافی دکھی تھا، اسے ہمارے کافی یاد آتی تھی، مگر اب وہ سمجھ گیا ہے۔‘

ترن تارن کی جسبیر کور

ان کے ساتھ بیٹھی جسبیر کور کا تعلق ترن تارن سے ہے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں، ’جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم کہیں نہیں جا رہے۔ دیکھیں، ہمارے پاس یہاں اپنا بیڈ ہے، چھت ہے، بجلی تک ہے، ہم کہیں کیوں جائیں؟‘

نیلم گھمن نے پچھلے سال سی اے اے کے خلاف چلنے والے شاہین باغ احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’اب تو وہ وقت آ گیا ہے کہ کوئی بھی تحریک ہو عورتیں بھی پیش پیش ہوتی ہیں۔ آپ نے شاہین باغ کو دیکھا، ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور پنجاب میں ان کے حق میں آواز اٹھائی اور آج ہمارے وہ بہنیں ہمارے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑی ہیں۔‘

اس اندھیری ٹرالی میں ان اجلے چہروں کو دیکھتے ہوئے مجھے خوف، جھجھک یا گھبراہٹ کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔

25 نومبر سے اب تک چھ کسان سنگھو سرحد پر ہلاک ہو چکے ہیں اور حکومت کہتی ہے کہ وہ کسی صورت یہ قوانین واپس نہیں لے گی۔

’اماں جِت کے آئیو‘

اس سب کے درمیان کورونا وائرس کی وبا بھی منڈلا رہی ہے اور میرے سامنے بیٹھی یہ خواتین کو دیگر بڑے عمر کے کسانوں کی طرح اس وبا سے کافی خطرہ ہے۔

انھیں اپنی جان کا کوئی خوف نہیں۔ لیکن کیا ان کے بچوں، پیاروں کو ان کی فکر نہیں ہوتی جنہیں وہ گھر چھوڑ آئے ہیں؟

جسبیر کے شوہر بھی احتجاج میں ان کے ساتھ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے بچوں نے گھر سے نکلتے وقت ان سے کہا تھا کہ، ’اماں جِت کے آئیو‘، یعنی ’جیت کر لوٹنا‘۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچے تو ان کے بچے بھی احتجاج میں شامل ہو جائیں گے۔

نیلم نے جسبیر سے اتفاق کرتے ہوئے اس دن کا ذکر کیا جب پولیس نے ان پر آنسو گیس کے گولے چلائے، ’اس دن ہمارے بچے کافی ڈر گئے تھے۔ انھوں نے ہم سے واپس آنے کو تو نہیں کہا لیکن وہ ڈر ضرور گئے تھے۔ ہم چل رہے تھے اور پولیس نے ہم پر آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ وہ ہمارے آنکھوں، ناک اور پورے بدن پر لگ گیا۔ سب کچھ جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ ہم بھاگ کر پاس کے گھروں تک گئے کہ کوئی ہمیں ہاتھ منہ دھونے کے لیے پانی دے دے۔ لیکن کسی نے ہمیں پانی نہیں دیا۔ وہ سب شاید ڈرے ہوئے تھے کہ حکومت یہ سمجھے گی کہ وہ ہمارے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ خیر ہم پیچھے نہیں ہٹے۔ اب تو یہاں رہنے والے بھی ہماری حمایت کر رہے ہیں۔‘

ابھی ہماری بات ہو رہی تھی کہ جسبیر کا فون بجا۔ ان کا تین سال کا نواسہ جو اپنی نانی ماں کو یاد کر رہا تھا۔

جسبیر نے فون اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے انڈیا کی اس نئی زرعی تحریک کی قیادت کرنے والی یہ خواتین حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنی جان پر داؤ لگانے والے مظاہرین سے پیار کرنے والی مائیں اور نانیاں بن گئیں۔

میں نے گھر پر بنی پنی کی چپچپاہٹ والے اپنے ہاتھوں سے ریکارڈر بند کر دیا اور ہم سب جسبیر کے تین سالہ نواسے سے باتیں کرنے لگے۔

٭گرمہر کور کو ٹائم میگزین نے سنہ 2017 میں اپنی ’اگلی نسل کے لیڈرز’ کی فہرست میں شامل کیا۔ وہ آج کل ’ڈیجیٹل پیس ناؤ‘ نامی غیر سرکاری ادارے کے ساتھ سائیبر وارفئیر کے خلاف کام کر ہی ہیں۔