آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: مصالحوں کی قدیم طریقوں سے چلنے والی تجارت جو عالمی وبا سے بچ گئی
- مصنف, جیز فریڈن برگ
- عہدہ, مصنف
اب جبکہ ہلدی اور ادرک جیسے مصالحوں کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے تو وہ لوگ جو اس طرح کی قیمتی اشیا دنیا کی مختلف منڈیوں میں سپلائی کرتے ہیں انھیں اب بالکل ہی نئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مصالحوں کی تجارت ہزاروں برس سے پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، لیکن یہ کووڈ-19 کی وبا کے بعد مکمل طور پر معطل ہو گئی تھی۔
جب ساری دنیا میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو وہ پیچیدہ نیٹ ورک جہاں مصالحے تیار، پراسیس اور پیک ہوتے ہیں اور جن کے ذریعے مصالحے منڈی تک پہنچتے ہیں، یہ سب کچھ ایک انتشار کا شکار ہو گیا تھا۔
ان مصالحوں کی فصل کون کاٹے گا؟ ان پروسیسنگ پلانٹس کو کون چلائے گا؟ مصالحوں کو بندرگاہوں تک کون لائے گا تاکہ انھیں برآمد کیا جا سکے؟ اور پھر ان سے بننے والی مصنوعات کی باحفاظت ٹرانسپورٹ کی کون ذمہ داری لے گا؟
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور پھر اسی دوران عالمی سطح پر ان مصالحوں کی طلب میں بے انتہا اضافہ ہو رہا تھا۔ صارفین نے انھیں اپنے گھروں میں طویل عرصے کے لیے ذخیرہ کرنا شروع کر دیا، اور دار چینی، زیرہ اور کالی مرچیں اچانک خوراک کا بنیادی حصہ بن گئی تھیں۔
ان کے متعدد طبی فوائد بتائے جا رہے تھے اور جب صارفین کو ان کا علم ہوا تو اِن کی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔
انڈیا دنیا بھر میں مصالحوں کی سب سے زیادہ پیداوار، ان کا سب سے زیادہ استعمال اور ان کی سب سے زیادہ برآمد کرنے والا ملک ہے، لیکن اُسے خود اس برس مارچ سے ایک ملک گیر لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث کسانوں کے لیے یہ مسئلہ بن گیا کہ انھیں کس طرح کھیتوں سے کاٹ کر ان کی پروسیسنگ کروائیں گے جس کے لیے انھیں عارضی طور پر باہر سے آنے والے مزدوروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، تاکہ اس سامان کی ترسیل کا سلسلہ جاری رہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مناسب مقدار میں یہ مصالحے لوگوں کی رسائی میں رہیں، انڈیا اور مصالحوں کی پیداوار کرنے والے ایک اور بڑے ملک ویت نام نے درآمد کیے۔
ان دونوں ملکوں نے عارضی طور پر چند ایک کھانے پینے کی اشیا کی برآمد بھی بند کردی تھی۔
بندرگاہوں پر مصالحوں کے ڈھیر کے ڈھیر لگ گئے تھے اور مقامی منڈیوں میں ان کا سیلاب آگیا تھا جس کے نتیجے میں انڈیا میں الائچی کی قیمت 50 فیصد گرگئی تھی اور ویت نام میں مرچوں کی قیمت 10 فیصد کم ہو گئی تھی۔
اگرچہ یہ سب کچھ عارضی طور پر ہوا تھا، اور پھر جلد ہی مصالحوں کی بین الاقوامی تجارت بحال ہو گئی اور ان میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
جیسا کہ پہلے ہوتا تھا، انڈیا کے مصالحوں کی ہمیشہ سے ایک طلب رہی اور وہ پھر سے بحال ہو گئی۔ اس ملک میں مصالحوں کی پیداوار کی نہ صرف ایک زبردست تاریخ ہے بلکہ اس ملک کی زمین، موسم اور آب و ہوا مخصوص خوشبو اور تاثیر رکھنے والے مصالحوں کے لیے مشہور بھی ہے۔
ایسوسی ایٹڈ چیمبر آف کامرس آف انڈیا کے مطابق، انڈیا کی مصالحوں کی تجارت میں سنہ 2019 کی 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مالیت کی برآمدات میں اس برس جون میں چھ کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی برآمدات کا اضافہ ہوا۔
یہ انڈیا میں مصالحوں کی فصلوں سے وابستہ چھوٹے کسانوں کے لیے ایک اچھی خبر ہونی چاہیے۔
لیکن مصالحوں کی پیداوار کے لیے باہمی تعاون کے لیے کیرالا کی تنظیم 'فیئر ٹریڈ الائنس' کے ٹومی میتھیو کہتے ہیں کہ ان مصالحوں کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ کسانوں کو نہیں پہنچا۔
کئی کسانوں کو انڈیا بھر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے اثرات کی وجہ سے معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے رشتے دار بڑے شہروں کی غیر منظم معیشت کی منڈی میں کام نہ ملنے کی وجہ سے اب واپس لوٹ رہے ہیں۔
میتھیو کہتے ہیں کہ 'اب مصالحے پیدا کرنے والے کسانوں کی اکثریت اپنے گھروں میں مزید افراد کو کھانا کھلا رہی ہے اور وہ اوپر کی آمدن بھی ختم ہو گئی ہے جو شہروں میں کام کرنے والے ان کے رشتے دار اپنے گھروں کو بھیجتے تھے۔
’اس لیے قیمت میں کچھ اضافہ جس کا کسان کو فائدہ پہنچا بھی ہو، اب اس بحران نے پہلے کے کسی بھی واقعے کی نسبت زیادہ واضح طور پر ثابت کیا کہ تجارت کے نظام میں انصاف ایک اہم بات ہے۔'
ابھی بھی مصالحوں کی تجارت میں کئی لوگوں کے لیے اس تجارت میں موجودہ اضافے نے وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا کرنے میں ان کی بہت مدد کی ہے۔
انڈیا میں پِسے ہوئے ذائقے دار مصالحے اور عطر کے قدرتی آمیزے کی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کرنے والی ایک بڑی کمپنی سِنتھائیٹ انڈسٹریز کے مینجنگ ڈائریکٹر وِائجو جیکب کہتے ہیں کہ 'اس برس مئی اور جون میں ہماری مصنوعات کی طلب میں 15 فیصد اضافہ ہوا تھا۔'
'خدا کا شکر ہے کہ ہم ایک ایسے شعبے میں ہیں جہاں (اس وقت) اچھا کام ہو رہا ہے کیونکہ اس وقت ان سب کی پروسیسنگ کرنا ایک بہت ہی کٹہن کام ہے۔'
چونکہ انڈیا میں مصالحے پیدا کرنے والے چھوٹے سطح پر کاشت کرنے والے کسان ہیں اس لیے سنتھائیٹ انڈسٹریز اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دس ہزار کسانوں سے ان کی پیدوار خریدتی ہے، شمال میں اتر پردیش سے سرخ مرچوں سے لے کر جنوب میں کیرالا سے دار چینی۔
عموماً یہ کسان اپنی فصلوں کو پروسیسنگ کے لیے سِنتھائیٹ کے مقاموں ڈپوؤں تک پہنچاتے ہیں جہاں ان کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے اور پروسیسنگ کی جاتی ہے تاکہ انھیں بڑے بڑے سٹوروں تک ٹرانسپورٹ کیا جاسکے اور پھر دنیا بھر میں برآمد کیا جا سکے۔
وبا کی وجہ سے یہ کھیت سے عالمی منڈی تک ٹرانسپورٹ کا معمول کا سلسلہ اب رکاوٹوں کا شکار ہے۔
وائجو کہتے ہیں کہ 'انڈیا کے کئی حصوں میں پابندیاں عائد ہیں اور ٹرانسپورٹ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔'
'ہمیں اس وقت فیکٹریوں سے بندرگاہوں تک سامان کی ٹرانسپورٹ کے مسائل کا سامنا ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے (سری لنکا کی) بندرگاہ کولمبو سے ایک بحری جہاز آیا ہوا تھا جسے کافی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں مال کی کمی کا بحران کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا لیکن اسے پہنچانا کافی مشکل تھا۔'
وائجو کہتے ہیں کہ بہرحال اب حالات بہتر ہو چکے ہیں۔ ان کی کمپنی ویتنام اور انڈونیشیا سے مقامی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہلدی درآمد کرتی رہی ہے اور اس کی وجہ سے مقامی سطح پر ہلدی کاشت کرنے والے کسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اب انھیں پانچ سے دس فیصد فائدہ ہو رہا ہے۔
اتنے زیادہ فائدے کی وجہ سے انھیں اس بات کا موقع ملا ہے کہ انھوں نے مقامی کسانوں کے چھ ہزار سے سات ہزار خاندانوں کو ماسک، مصالحے اور یہاں تک کہ وبا سے محفوظ رکھنے کے لباس اور ہاتھوں کے لیے سینیٹائزرز بھی عطیے میں دیے ہیں۔
وائجو کہتے ہیں کہ 'ہم نے سوچا کہ ہم ان کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ اور جب ہمارے فائدے میں اضافہ ہوتا ہے تو ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس کمیونٹی کو بھی فائدہ پہنچے۔'
جب یہ مصالحے سنتھائیٹ کے مقامی ڈپو میں پہنچتے ہیں تو ان کو اچھی طرح چیک کیا جاتا ہے، جس میں ایک مشین کا بھی استعمال کیا جاتا جن میں ایک مشین فوٹو کاپیئر جیسی ہے، جو ایک نمونے میں ملاوٹ کو ٹیسٹ کرتی ہے۔
وائجو کہتے ہیں کہ 'ہمیں اپنی مصنوعات کو 100 فیصد خالص رکھنا ہوتا ہے۔ ہمیں خام مال کو مکمل طور پر دیکھنا ہوتا ہے، اس کا معیار کیا ہے، اس میں کرم کُش ادویات کی مقدار کیا ہے، اس میں صنعتی محلول کون سے استعمال ہوئے، ہر چیز کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔'
پروسیسنگ پلانٹ کی سطح پر ان کے معیار کو برقرار رکھنا اس وبا کے دور میں اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
مصالحوں کی تجارت میں کوئی نہ کوئی جعلسازی کی واردات ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر اجوائن پر ایک تحقیق کے مطابق اس کا تقریباً 40 فیصد مال جعلی تھا۔
لیکن شمالی آئرلینڈ کے شہر بلفاسٹ کی کیوئینز یونیورسٹی کے خوراک کے پروفیسر کرِس ایلیٹ جنھوں نے یہ تحقیق کی تھی، کہتے ہیں کہ یہ جعلسازی پچھلے چھ ماہ میں بڑھی ہے۔
کرس ایلیٹ کہتے ہیں کہ 'قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے یہ نہیں بڑھی، اس میں اضافے کی وجہ کووِڈ (اور اس کی وجہ سے طلب میں اضافہ) ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں یہ اضافی فصلیں کہاں سے آگئیں؟'
عموماً کھیت سے لے کر صارف تک پہنچنے کے دوران مصنوعات میں جعلسازی کو چیک کرنے کے لیے کئی قسم کے نظام کام کر رہے ہوتے ہیں۔
کم صلاحیتوں والے انسپکٹروں کے ذریعے ان کو ذاتی طور پر چیک کرنے کے علاوہ بہتر معیار کو برقرار رکھنے والی دیگر ٹیکنالوجیز سِنتھائیٹ انڈسٹریز نے متعارف کروائی ہیں، ان کا کردار اب اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
ایلیٹ اس وقت ایسی ہی ایک ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں: ڈیجیٹل 'فوڈ پرنٹنگ' ٹیکنالوجی جو، بقول ان کے، مصالحوں کی ٹیسٹنگ اور ان کی حفاظت کے نظام میں ایک انقلاب برپا کردے گی۔
اب تک روایتی ٹیسٹنگ کے طریقوں میں مختلف نمونوں کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے وہ مصنوعات اس ٹیسٹ کا نتیجہ آنے تک کئی ممالک میں برآمد ہوچکی ہوتی ہیں۔ لیکن فنگر پرنٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے نتائج اسی وقت مل جائیں گے۔
ایک ہاتھ میں پکڑے ہوئے سکینر سے روشنی چمکتی ہے اور وہ مالیکیولز کی مخصوص حرکت پہچان لیتی ہے۔ پھر اس ڈیٹا کو کلاؤڈ میں اپ لوڈ کیا جاتا ہے جہاں ہر مصالحے کی ہر قسم کا ڈیٹا محفوظ ہے جسے 'فنگر پرنٹ' کہتے ہیں۔
جس مخصوص انداز سے اس کے مالیکیولز حرکت کرتے ہیں اُس لحاظ سے ایک آواز یا متحرک ہونے کی جنبش پیدا ہو گی۔ ملاوٹ یا ملاوٹ شدہ مال اس سکینر کے لیے ایک غیر معمولی بات ہوگی اور وہ فوراً اس بات کا اعلان کردے گا۔
ایلیٹ کا کہنا ہے کہ 'ہم اس کا اجرا کر رہے ہیں تمام اہم سطحوں میں رابطوں کے ساتھ، ہم دنیا بھر سے ہزاروں جگہوں سے ان کے نمونے جمع کریں گے اور جعلسازی کی سرگرمیوں کا ایک نقشہ تیار کریں گے۔'
باوجود اس کے کہ کووِڈ-19 کی وبا کے اختتام کے کچھ آثار نظر آ رہے ہیں، مصالحوں کی زیادہ طلب پھر بھی برقرار رہے گی۔
اس کے فائدے کسان تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں، اس کا ابھی انتظار رہے گا، لیکن نئی ٹیکنالوجی کم از کم ایک صاف اور شفاف ترسیل کے سلسلے کو کھڑا کردے گی جس کی بدولت ایک قابلِ اعتبار تاجر کو فائدہ ضرور پہنچے گا۔