انڈیا ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد چاہ بہار بندرگاہ پر دوبارہ توجہ کیوں مرکوز کر رہا ہے؟

،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY
- مصنف, پروین شرما
- عہدہ, صحافی
انڈیا، ایران اور ازبکستان کے مابین سوموار کو پہلی سہ فریقی ورکنگ گروپ میٹنگ ہوئی ہے جس کا مقصد چاہ بہار بندرگاہ کو مشترکہ طور پر تینوں ممالک کے مابین تجارت، نقل و حمل اور علاقائی رابطے بڑھانے کے استعمال کرنا تھا۔
انڈین وزارت خارجہ کی ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس میٹنگ میں شامل تینوں ممالک نے چاہ بہار بندرگاہ کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں فریقین نے کووڈ 19 وبا کے دوران انسانی امداد میں تعاون کرنے کے سلسلے میں اس بندرگاہ کے کردار کو بھی سراہا ہے۔
اس اجلاس میں سنہ 2021 میں ’چاہ بہار ڈے‘ کے انعقاد کی انڈین تجویز کو بھی سراہا گیا ہے۔
اس اقدام سے ایسا لگتا ہے کہ انڈیا ایک بار پھر چاہ بہار پراجیکٹ پر اپنی توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
چاہ بہار کے ذریعے منسلک ہونے سے انڈیا افغانستان میں اپنی رسائی کو مزید تقویت دے پائے گا۔ انڈیا پاکستان سے گزرے بغیر چاہ بہار بندرگاہ سے براہ راست افغانستان پہنچ سکے گا اور اس طرح افغانستان میں جاری انڈین کارروائیوں کے لیے پاکستان پر انحصار نہ ہونے کے برابر ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کچھ عرصے سے چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان میں گندم اور دیگر سامان بھیج رہا ہے۔
سٹریٹیجک امور کے ماہر قمر آغا کا کہنا ہے کہ ’انڈیا چاہ بہار اور ایران کو نہیں چھوڑ سکتا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے درمیان میں فیصلہ لینے میں ذرا ہچکچاہٹ ظاہر کی تھی اور اسی وجہ سے اس منصوبے میں بھی تاخیر ہوئی تھی۔ لیکن اب حکومت کو یہ خطرہ محسوس ہو رہا کہ کہیں وہ اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ ایران میں چین کی سرمایہ کاری کے پیش نظر بھی انڈیا وہاں سرگرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ایران چین کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے تو ہمارے لیے وسط ایشیا اور افغانستان جانے کا راستہ بند ہو جائے گا۔ اسی کے ساتھ ہی انڈیا کے لیے مشکلات پیدا ہو جائيں گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں کہ صرف انڈیا کو ایران کی زیادہ ضرورت ہے بلکہ ایران بھی انڈیا پر بھروسہ کرتا ہے اور اسے بھی انڈیا کی اتنی ہی ضرورت ہے۔‘
قمر آغا نے کہا کہ ’انڈیا ایران کے لیے اہم ہے۔ انڈیا ایک بڑا ملک اور تیل کا بڑا درآمد کنندہ ہے۔ اگرچہ انڈیا سے ایران کی کچھ چیزوں پر ناراضگی ہے لیکن ایران کے بڑے مفادات میں انڈیا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں وہ چاہتے ہیں کہ چاہ بہار منصوبہ انڈیا ہی کرے۔‘
اس کے علاوہ انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) انڈیا، ایران، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، روس، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان مال بردار ٹریفک کے لیے بحری جہاز، ریل اور روڈ ویز کا سات ہزار 200 کلومیٹر طویل نیٹ ورک ہے۔ انڈیا اس شمال، جنوب میں واقع راہداری میں شراکت دار ہے اور چاہ بہار اس میں ایک اہم نکتہ ہے۔ اس نقطہ نظر سے چاہ بہار انڈیا کے لیے مزید اہم ہو جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چاہ بہار بندرگاہ کیا ہے؟
چاہ بہار میں دو بندرگاہیں ہیں۔ شاہد قلندری اور شاہد بہشتی۔
ان دونوں میں پانچ پانچ برتھس ہیں۔ جہاز رانی کی وزارت کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل نے جواہر لعل نہرو پورٹ ٹرسٹ اور گجرات کے کانڈلا پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بنایا ہے تاکہ یہاں دو کنٹینرز برتھ تیار کیے جائیں گے جس پر 8.5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
مئی سنہ 2016 وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ کسی انڈین وزیر اعظم کا 15 سالوں میں یہ ایران کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے میں مودی نے ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کو ترقی دینے اور چلانے کے لیے انڈیا، ایران اور افغانستان کے مابین سہ فریقی تعلقات کے لیے 550 ملین ڈالر کے فنڈ کا اعلان کیا تھا۔
ایران طویل عرصے سے چاہتا تھا کہ انڈیا اس منصوبے کو فروغ دے۔ لیکن انڈیا نے اس منصوبے کو مکمل کرنے میں کافی تاخیر کا مظاہرہ کیا ہے۔
ازبکستان کیوں شامل ہوا؟
ازبکستان پہلے ہی سے چاہ بہار بندرگاہ کو بجرہند میں داخلے کی ایک راہداری کے طور پر استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بندرگاہ وسط ایشیا اور روس کے زمیں سے گھرے مشرقی حصوں کو مزید آپشنز مہیا کرتا ہے۔
اسی کے پیش نظر انڈیا بھی وسط ایشیا کے بہت سے ممالک کو اس منصوبے میں شامل کرنے پر زور دے رہا ہے۔ قازقستان نے بھی اس بندرگاہ میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ایران پر سخت اقتصادی پابندیوں کے باوجود چاہ بہار بندرگاہ کو ترقی دینے کی انڈیا کی کوششوں کو ان پابندیوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے بین الاقوامی امور کے پروفیسر اے کے پاشا کا کہنا ہے کہ انڈیا مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ کرغزستان، تاجکستان اور قازقستان جیسے ممالک کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی فیکٹر
امریکہ میں جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد اب انڈیا کو یہ نظر آ رہا ہے کہ وہ ایران کے راستے وسطی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔
پروفیسر پاشا کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کے دور حکومت میں انڈیا کو چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کا سامان بھیجنے کی اجازت تھی۔ تاہم اس استثنیٰ کے تحت ایران کے راستے وسطی ایشیا میں سامان بھیجنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی وجہ سے ایران سے ان ممالک میں کنٹینرز نہیں جا سکتے تھے۔‘
پروفیسر پاشا نے کہا: ’ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ اسی وجہ سے انڈیا نے بھی چاہ بہار پر اپنی توجہ بڑھا دی ہے۔‘
ریل لنک
اںڈیا بندرگاہ کو ترقی دینے کے علاوہ چاہ بہار بندرگاہ سے افغانستان تک پہنچنے کے لیے ریل راستے کی تیاری پر بھی زور دے رہا ہے۔
چاہ بہار، زاہدان ریلوے منصوبے کو تیار کرنے کے لیے انڈیا اور ایران کے درمیان سنہ 2016 میں ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے ہیں۔
تاہم ریل رابطے کی ترقی کا کام بیچ میں ہی پھنس گیا۔ رواں سال ستمبر میں لوک سبھا (انڈین پارلیمان کے ایوان زیریں) میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی مرلی دھرن نے کہا تھا کہ دونوں فریق اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔
در حقیقت ازبکستان کا افغانستان سے ریلوے رابطہ ہے۔ اسی کو ایرانی ریلوے لنک کے ذریعے چابہار بندرگاہ سے جوڑا جائے گا۔ اس طرح افغانستان، ازبکستان اور ایران سے یہ ریل رابطہ بحر ہند تک براہ راست پہنچ جائے گا۔
ایران اب خود افغانستان سے بھی ریل لنک بنانا چاہتا ہے۔ اس نے گذشتہ ہفتے ہی ہرات سے ریل رابطے کا اعلان کیا ہے۔
پروفیسر پاشا کا کہنا ہے کہ ’یہ انڈیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا چاہ بہار بندرگاہ میں پھر سے دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہPIB
کاروبار میں اضافہ
انڈیا اس منصوبے پر اس لیے بھی زور دے رہا ہے کیونکہ یہ تجارت کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ ایران بھی اس بندرگاہ سے مستفید ہو رہا ہے۔
ایک بار جب چاہ بہار بندرگاہ مکمل طور پر چلنے لگے گا تو بہت سارے سامان انڈیا کو درآمد کرنا آسان ہو جائے گا۔ انڈیا میں تیل کی درآمد پر آنے والے اخراجات میں بھی کافی حد تک کمی آئے گی۔
وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی مرلی دھرن نے ستمبر میں لوک سبھا کو بتایا تھا کہ انڈین کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل نے دسمبر سنہ 2018 میں بندرگاہ کا کام سنبھال لیا تھا اور تب سے اس کمپنی نے 1.2 ملین ٹن تھوک کارگو اور تقریبا آٹھ ہزار 200 کنٹینرز کو ہینڈل کیا ہے۔ .
جو بائیڈن کے امریکہ میں صدر بننے کے بعد اگر ایران سے عائد پابندیوں میں نرمی لائی جاتی ہے اور خاص طور پر ایران کو انڈیا کو زیادہ تیل فروخت کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو انڈیا کے لیے خریداری کی لاگت بہت کم ہو گی کیونکہ چاہ بہار بندرگاہ کے راستے انڈیا یہ تیل درآمد کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق رواں سال فروری میں مکمل ہونے والے 11 ماہ کے دوران چاہ بہار بندرگاہ سے برآمدات میں 190 گنا اضافہ ہوا ہے۔
انڈیا اور ایران نے اس منصوبے کو تیار کرنے کے لیے درکار سامان پر ترجیحی بنیادوں پر محصولات طے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کو روکنے کی کوشش
چاہ بہار بندرگاہ بحیرہ عرب میں چین کی موجودگی کو چیلنج کرنے کے معاملے میں بھی انڈیا کی مدد کرے گا۔ اس کے علاوہ چین پاکستان میں گوادر پورٹ تیار کر رہا ہے۔ یہ بندرگاہ چاہ بہار بندرگاہ سے سڑک کے ذریعے صرف 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ یہ فاصلہ سمندر کے ذریعے صرف 100 کلومیٹر ہے۔ اس طرح سے گوادر اور چاہ بہار بندرگاہ پر انڈیا اور چین کے مابین مقابلہ ہے۔
اس کے علاوہ گوادر بندرگاہ میں چینیوں کی موجودگی سٹریٹیجک لحاظ سے بھی انڈیا کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں انڈیا کے لیے چاہ بہار بندرگاہ فائدہ مند ثابت ہو گی۔
قمر آغا کا کہنا ہے کہ ’چین ایران میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس کے پیش نظر انڈیا محتاط ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ بھی اسی وجہ سے انڈیا کے لیے اہم ہے۔‘












