انڈین وزیر دفاع کے دورۂ ایران کی وجہ چین کے ساتھ کشیدگی یا امریکی انتخابات؟

انڈیا

،تصویر کا ذریعہNur Photo/Getty

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جب پانچ ستمبر کو ٹویٹ کر کے بتایا کہ وہ روس سے لوٹتے ہوئے ایران جائیں گے تو کئی لوگ حیران رہ گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کیوں کہ ان کا روس کا تین روزہ دورہ پہلے سے طے تھا لیکن ایران رکنے کے بارے میں عوامی سطح پر اطلاعات نہیں تھیں۔

انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی اور ایران کے ساتھ چین کی بڑھتی نزدیکیوں کے درمیان انڈیا اور ایران کے وزرائے دفاع کی ملاقات سرخیوں میں رہی۔

راج ناتھ سنگھ نے تہران میں ایرانی وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عامر حتامی سے ملاقات کی، اس کے بعد انھوں نے اتوار کو ٹویٹ کیا 'ایرانی وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات بہت کامیاب رہی۔ ہم نے افغانستان سمیت خطے کی سکیورٹی کے کئی مسئلوں پر دو طرفہ تعاون کے بارے میں بات کی۔'

یہ بھی پڑھیے

پہلی نظر میں بھلے ہی یہ دو ممالک کے وزرائے دفاع کے درمیان کوئی عام ملاقات لگے لیکن بین الاقوامی امور کے ماہر اور تجزیہ کار اس ملاقات کو دور رس مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

چین کے ساتھ کشیدگی یا امریکی انتخابات ؟

کئی برسوں تک ایران میں رہ چکے اور انڈیا کے داخلی امور کی گہری سمجھ رکھنے والے سینیئر صحافی راکیش بھٹ کہتے ہیں کہ ایک طرف انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، تو دوسری طرف ایران اور چین کے درمیان 400 ارب ڈالر کی ڈیل ہوئی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

انھوں نے کہا ’ان حالات میں انڈیا اپنے روایتی پارٹنر ایران کو چین کے ہاتھوں کھونا نہیں چاہتا ہے۔ ایران بھی چین یا کسی دیگر ملک کے اثر و رسوخ میں نہیں رہنا چاہے گا۔ اس لیے انڈیا اور ایران دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ انڈین اور ایرانی وزراء دفاع کی تازہ ملاقات کے پیھچے یہی وجہ ہے۔‘

راکیش بھٹ اس ملاقات کو اس برس ہونے جا رہے امریکی انتخابات کے تناطر میں بھی دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت بنتی ہے اور جو بائڈن اقتدار میں آتے ہیں تو ایران سمیت پورے مشرق وسطیٰ میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ ایسا تصور کیا جا رہا ہے کہ بائڈن امریکہ کو براک اوباما والے دور میں لے جانے کی کوشش کریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری معاہدہ کرنے کی کوشش کریں۔'

راکیش بھٹ کا خیال ہے کہ اگر جوہری معاہدہ دوبارہ ہونے پر انڈیا ایران کی جانب لوٹے گا تو اس کے بہت اچھے نتائج نہیں ہوں گے کیوں کہ ایران کو انڈیا جیسے ممالک کی ضرورت اب بھی سب سے زیادہ ہے۔

ایران امریکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2015 میں چھ ممالک کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت ایران کو اپنا جوہری پروگرام روکنا پڑا تھا اور بدلے میں اسے اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں میں نرمی مل گئی تھی۔ لیکن 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو اس معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔

2019 میں امریکہ نے ایران پر پابندیاں اور سخت کر دیں اور 2020 میں معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر قمر آغا بھی امریکی انتخابات والی دلیل سے کافی حد تک متفق ہیں۔ حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان رشتہ باہمی تعلقات پر مبنی ہے۔

ان کے بقول امریکہ میں رپبلکن حکومت ہو یا ڈیموکریٹک، انڈیا کو اس سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم امریکہ میں حکومت تبدیل ہونے سے ایران پر بہت بھاری اثر مرتب ہوگا۔

ایران چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین اور ایران کے درمیان کہاں فٹ ہوگا انڈیا؟

ایک جانب جہاں ایران اور چین میں قربت بڑھ رہی ہے وہیں انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں انڈیا اور ایران ایک دوسرے کا ساتھ کیسے نبھا سکیں گے؟

قمر آغا کہتے ہیں کہ 'انڈیا یہ بھی نہیں چاہے گا کہ ایران، چین اور پاکستان ایک ساتھ آ جائیں کیوں کہ یہ اس کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔ وہیں ایران کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کا روایتی اور اہم ساتھی انڈیا اس کے خلاف امریکہ یا مغربی ممالک کے ساتھ چلا جائے۔ اس لیے سبھی چیلینجز کے باوجود دونوں ممالک کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔'

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اومان جیسے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں انڈیا کے سفیر کے طور پر رہ چکے تلمیز احمد راجناتھ سنگھ کی ملاقات کو امریکی انتخابات سے جوڑ کر نہیں دیکھتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اگر امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت آ بھی گئی، تو ٹرمپ کے فیصلوں سے ہونے والے نقصانات کا مداوا کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا کیوں کہ وہاں ایران مخالف کئی گروہ موجود ہیں۔

تلمیز احمد اجلت میں ہونے والی اس ملاقات کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔

ایران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پہلی وجہ، انڈیا کے ایران سے فاصلے:

تلمیز کہتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں انڈیا نے امریکی پابندیوں کے دباوٴ میں آکر ایران سے خود کو دور کر لیا تھا۔ کبھی ایران سے تیل کی در آمد کرنے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر رہنے والا انڈیا اب اس سے تیل لینا تقریباً بند کر چکا ہے۔

2018-19 کے مقابلے 2019-20 میں انڈیا اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت میں 70 فیصد سے بھی زیادہ کمی آئی ہے۔ 2018-19 میں جہاں یہ تجارت 17.3 بلین ڈالر کی تھی، 2019-20 میں کم ہو کر 4.77 بلین ڈالر ہی رہ گئی۔ چابہار ریل منصوبے کے کام میں اس قدر دیر ہوئی کہ ایران نے انڈیا کو اس سے الگ کر دیا۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری وجہ، انڈیا چین کشیدگی :

ایک جانب جہاں انڈیا اور چین میں کشیدگی جاری ہے وہیں دوسری جانب ایران، چین، روس اور پاکستان قریب آ رہے ہیں۔ چین اور ایران نے اگلے پچیس برسوں کے لیے 400 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس میں معاشی، سٹریٹیجک، دفاعی اور خفیہ تعاون کی باتیں شامل ہیں۔

چین اور روس کا رشتہ بھی گہرا ہو رہا ہے۔ امریکہ سے اچھے تعلقات نہ رکھنے والے تینوں ممالک یعنی چین، روس اور ایران ایک ساتھ آتے نظر آ رہے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر دیکھیں تو انڈیا کے شمال اور شمال مغرب میں ایک سیاسی اتحاد بن رہا ہے۔ ایسے میں انڈیا کا ایران کی جانب واپس جانا قدرتی بات ہے۔

تلمیز احمد کہتے ہیں کہ میڈیا میں بھلے ہی کہا جا رہا ہو کہ راج ناتھ سنگھ نے خلیج فارس میں موجود غیر مستحکم حالات سے فکرمند ہو کر اور افغانستان کی سکیورٹی کے مد نظر یہ ملاقات کی ہے، لیکن اصل میں اس کی وجہ انڈیا کے ایران کے ساتھ کمزور ہونے والے تعلقات ہیں۔

انڈیا ایران

،تصویر کا ذریعہPIB

چابہار منصوبے کا کیا ہوگا؟

اس برس جولائی میں یہ خبر آئی تھی کہ ایران نے چابہار ریل منصوبے سے انڈیا کو الگ کر دیا ہے۔ اس کی وجہ انڈیا کی جانب سے فنڈ ملنے میں تاخیر کو بتایا جا رہا تھا۔

حالانکہ بعد میں ایران نے اس خبر کو مسترد بھی کیا تھا۔ فی الحال، چابہار ریل منصوبے سے انڈیا کا آج کی تاریخ میں کوئی تعلق ہے یا نہیں، اس بارے میں دونوں ہی جانب سے کوئی ٹھوس جواب موصول نہیں ہوئے ہیں۔

اب اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں تلمیز احمد زمینی حقیقت کی جانب دھیان دینے کی بات کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’اگر زمینی حقیقت دیکھیں تو انڈیا اور ایران نے 2003 میں اس منصوبے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس کے علاوہ افغانستان، روس اور وسط ایشیا کی جانب چند مزید کنیکٹیوٹی منصوبے شروع کرنے پر رضامندی ہوئی تھی۔ یعنی انڈیا کے لیے سٹریٹیجک طور پر اہم یہ منصوبے چین کے ون روڈ ون بیلٹ منصوبے سے کہیں پہلی وجود میں آ گئے تھے۔ لیکن اس کے بعد 2016 سے پہلے تک ان منصوبوں میں زمینی سطح پر کوئی اہم پیشرفت سامنے نہیں آئی۔ '

انھوں نے مزید بتایا '2016 میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے آگے بڑھانے کی کوشش ضرور کی لیکن پھر امریکہ میں ٹرمپ کے آتے ہی ایرانی پابندیوں کا اثر انڈیا پر حاوی ہو گیا۔'

تلمیز احمد کا خیال ہے کہ 17 برس تک انڈیا کا انتظار کرنے کے بعد ایران اب بھی اس کی آس میں بیٹھا رہے، ایسا ہونا اب مشکل لگتا ہے۔

انھوں نے کہا 'ایران نے بھلے ہی چابہار منصوبے سے انڈیا کو باہر کرنے کی بات کھل کر قبول نا کی ہو، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب یہاں چین کے کردار کا اضافہ ضرور ہوگا۔'

وجہ چاہے جو بھی ہو، ایران اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے یہ دورہ اہم ضرور معلوم ہوتا ہے۔