انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں خوف اور بداعتمادی کی فضا میں انتخابات

- مصنف, عامر پیرزاده
- عہدہ, بی بی سی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 کو گزشتہ سال ختم کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ لوگوں کو اپنا حق رائِے دہی استعمال کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ سیاسی کشمکش اور کشیدگی سے بھرپور کشمیر کی تاریخ کے پس منظر میں بھی ان انتخابات کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
’کشمیر میں کوئی جمہوریت نہیں ہے‘، یہ الفاظ ہیں 32 برس کی رابعہ خورشید کے۔
رابعہ خورشید انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے 20 اضلاع میں پہلی مرتبہ دیہی کونسلوں کے لیے ہونے والے براہ راست انتخابات میں ایک امیدوار بھی ہیں۔ ان کونسلوں کے پہلی مرتبہ براہ راست انتخابات کرائے جا رہے ہیں اور ان کے ارکان مقامی طور پر سرکاری نظم و نسق چلانے، سکول سڑکوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کرنے کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
لیکن رابعہ خورشید اس سے مطمئن نہیں ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس انتخابات میں مقابلہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘۔
وہ سوال کرتی ہیں کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ’مستقبل کی نسلوں کا کیا ہوگا؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وادی میں بسنے والے مسلمانوں کے لہجے میں تلخی، باغیانہ پن اور مایوسی کا عنصر پایا جانا عام بات ہے۔ اس خطے کے انڈیا کے ساتھ تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ انڈیا میں اب تک آنے والی حکومتیں وادی میں شدت پسندی کو کچلنے میں ناکام رہی ہیں باوجود اس کے کہ وہاں تعینات بھاری تعداد میں فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں جن کی وجہ سے کئی دہائیوں سے انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
کشمیری عوام اور انڈیا کی مرکزی حکومت میں پائی جانے والی یہ خلیج گزشتہ سال اگست 2019 کو اس وقت مزید گہری ہوگئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے یکطرفہ طور پر آئین کے آرٹیکل 370 میں ترمیم کر کے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کر دیا۔
اس اقدام سے قبل انڈیا کی حکومت نے کشمیر میں کسی ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے سخت ترین سکیورٹی نافذ کر دی تھی۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر کے علاقے کا بیرونی دنیا سے مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا تھا۔ سیاسی رہنماؤں، سرکردہ سماجی کارکنوں اور صحافیوں کے علاوہ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بی جے پی کی حکومت کے ان اقدامات کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے اور حکومت کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اس کو بی جے پی کہ انتہا پسندانہ ایجنڈے کا حصہ قرار دیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پر مسلمان دشمنی کا ایک عرصے سے الزام لگتا رہا ہے۔
ان انتخابات کے ذریعے بی جے پی کی حکومت گزشتہ سال کے متنازع اقدامات کے بعد وادی میں اپنے لیے کوئی جگہ بنانے کی امید لگائِے بیٹھی ہے۔
تاریخ داں صادق وحید کہتے ہیں کہ ’دلی کے لیے یہ انتخابات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں لیکن جموں و کشمیر کے لیے ان کی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ یہ انتخابات ایک منتخب حکومت کے تحت نہیں ہو رہے بلکہ ایک غیر منتخب انتظامیہ کروا رہی ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی ’قانونی حثییت‘ یا جواز حاصل کرنا چاہتی ہے۔
بی جے پی کو ایک متحدہ حزب اختلاف اور سرکار سے متنفر عوام کا سامنا ہے جو پوری جمہوری نظام پر ہی یقین نہیں رکھتے۔
غیر معمولی انتخابات
یہ بھی پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ سات جماعتوں نے مشترکہ طور پر ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بحال کرانا ہے۔
کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ انتخابات اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک بہانہ ہے جن کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی اور بدلی پیدا ہوئی ہے۔ انھیں ایک سال سے زیادہ عرصے قید میں رکھنے کے بعد اس سال اکتوبر کے مہینے میں ہی رہا کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ ان انتخابات میں کچھ لوگ رابعہ خورشید کی طرح آزاد حیثیت میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی سیاسیی جماعت سے منسوب ہونا نہیں چاہتیں لیکن ان کا یہ کہنا ہے کہ انھوں نے بی جے پی کا راستہ روکنے کے لیے بھرپور مہم چلائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
رابعہ خورشید ان دو ہزار امیدواروں میں شامل ہیں جو جموں اور کشمیر میں دیہی کونسلوں کی 280 نشستوں کے لیے میدان میں ہیں۔ یہ انتخابات اٹھ مراحل میں منعقد کرائے جا رہے ہیں جن میں سے چھ مرحلے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ رابعہ خورشید کے شمالی کشمیر کے ضلع بارامولا کے حلقے میں سات دسمبر کو ووٹ ڈالے گئے تھے۔
ان انتخابات میں ستاون لاکھ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں لیکن گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ عوامی سطح پر کوئی جوش و خروش نہیں پایا جاتا۔
بی جے پی ان انتخابات کو بہت اہمیت دے رہی ہے اور اس نے اپنے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت کے وزراء کو انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے بھیجا ہے۔
جموں میں کام کرنے ولے ایک صحافی انیل گپتا کا کہنا ہے کہ یہ دیہات کی سطح کے انتخابات ہیں اور عام لوگوں میں اس بارے میں بہت کم جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ہندو برادری کے اکثریتی علاقے جموں میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 60 فیصد کے قریب رہی۔ لیکن وادی میں یہ 41 فیصد سے بھی کم تھی۔ ووٹ ڈالنے کی سب سے کم شرح جو صرف ایک اعشاریہ نو فیصد رہی وہ جنوبی کشمیر کے علاقے شوپیاں میں دیکھنے میں آئی جہاں شدت پسندی عروج پر ہے۔
جنوبی کشمیر میں انتخابی مہم چلانا ایک کٹھن، مشکل اور غیر معمولی کام ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عوامی مہم چلانا صرف کورونا کی وجہ سے مشکل نہیں بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ سیاسی تشدد اور شدت پسندی میں اضافہ ہے۔ اس سال بی جے پی کے نو کارکنوں کی ہلاکت کی وجہ سے حکام نے امیدواروں کو 24 گھنٹے سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان امیدواروں کو اپنے گھروں سے ہوٹلوں اور سرکاری ہوسٹلوں میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں انھیں سخت سکیورٹی میں رکھا جا رہا تھا۔
ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر امیدوار کو انفرادی طور پر سکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں تھا جس وجہ سے انھیں ہوٹلوں اور ہاسٹلوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
ضلع پلوامہ کے ایک حلقے سے بی جے پی کے امیدوار نذیر احمد ڈار کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے حلقے میں انتخابی مہم اور عوام سے ملنے جانے سے پہلے پولیس کو بتانا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کا ذمہدار وہ پولیس کو نہیں سمجھتے کیونکہ وہ یہ سب کچھ ان کی سکیورٹی کے لیے ہی کر رہے تھے۔
پلوامہ جنوبی کشمیر کا ایک اور ایسا ضلح ہے جہاں ووٹ ڈالنے کا تناسب انتہائی کم رہتا ہے۔
نذیر احمد ڈار صرف چار مرتبہ ہی اپنے حلقے میں جا سکے اور اس دوران انھیں اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے صرف دو گھنٹے ہی مل سکے۔

گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلائی گئی لیکن یہ سب کچھ پولیس کی نگرانی اور پہرے میں کیا گیا۔ اکثر امیدواروں کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی مہم چلانے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی خطرات کی وجہ سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ کر رہے تھے۔
لیکن حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ اس سب کے پیچھے ’سازش‘ ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ انتظامیہ بی جے پی کے امیدواروں کی مدد کرنے کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے جبکہ بی جے پی کے مخالف امیدواروں کو سکیورٹی کے نام پر ان کے گھروں تک محدود کر دیا گیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر سکیورٹی صورت حال ٹھیک نہیں تھی تو انتخابات کرانے کا اعلان کیوں کیا گیا۔
لیکن حکام نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ کسی امیدوار کو انتخابی مہم چلانے سے روکا نہیں گیا اور ہر کسی کو مناسب سکیورٹی دی گئی۔
خوف اور عدم اعتماد
شوپیاں میں ایک پولینگ سٹشین پر تعینات ایک اہلکار نے کہا کہ وہ ’بہت چوکس ہیں‘۔
ایک پولنگ سٹیشن کے باہر کچھ نوجوان گھوم رہے تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے نہیں آئے بلکہ ان لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو ووٹ ڈالنے آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان میں شامل ایک نوجوان نے کہا کہ صرف بوڑھے اور بزرگ شہری ہی ووٹ ڈالنے آ رہے ہیں کیونکہ انھیں ابھی سیاسی جماعتوں پر اعتماد ہے لیکن آپ کو کوئی نوجوان ووٹ ڈالتا ہوا نظر نہیں آئے گا۔
ایک اور نوجوان نے کہا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ یہ انتخابات اور تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہیں کچھ نہیں بدلا۔‘ ان میں سے کوئی نوجوان بھی اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
جو لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں ان کو امید ہے کہ ان کے علاقے میں ترقی ہوگی۔
شوپیاں میں ایک 20 سالہ نوجوان محمد الطاف نے کہا کہ انھوں نے ووٹ ڈالا ہے کیونکہ وہ اپنے علاقے میں ترقی چاہتے ہیں اور اب ایک مقامی امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہا ہے جس تک رسائی ان کے لیے آسان ہوگی۔
جنوبی کشمیر میں خواتین کے ایک گروپ نے کہا کہ انھوں نے اس لیے اپنا ووٹ ڈالا ہے کہ ان کے علاقے میں سڑک نہیں ہے۔
فریدا اختر نے کہا کہ ’گھروں میں بجلی نہیں ہے، ہمارے بچے پڑھ لکھ نہیں سکتے، ہماری زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچوں کی زندگیاں بھی تباہ ہوں۔‘
اور بہت سے لوگوں نے اس لیے ووٹ دیا ہے کہ جب ان کے گھر پر پولیس چھاپہ مارے تو فریاد کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی تو ایسا ہو جس کا دروازہ وہ کھٹکھٹا سکیں۔
48 سالہ ایک شخص نے اپنی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط ہر کہا کہ ’جب پولیس یا فوج کسی کو اٹھا لے جاتی ہے تو ہم مدد کے لیے کسی کے پاس نہیں جا سکتے۔ اب میں اپنے نمائندے کے پاس تو جا سکوں گا جس کو ہم منتخب کریں گے۔ اس لیے میں نے ووٹ ڈالا ہے۔‘








