انڈین ایئر فورس نیٹ فلکس پر انیل کپور اور انوراگ کشپ کی فلم سے ناراض کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ سننا کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ انڈین ایئر فورس نیٹ فلکس سے ناراض ہے، بھلا نیٹ فلکس کا فضائی محافظوں سے کیا لینا دینا۔ نیٹ فلکس سے ناراضی تو کسی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر کی ہو جس کی فلم یا کوئی سیزن چلنے نہیں دیا۔
جی تو معاملہ کچھ یوں ہے کہ نیٹ فلکس پر انڈین فلم انڈسٹری کے مشہور فلم ڈائریکٹر انوراگ کشپ اور بالی وڈ کے لیجنڈری سپر سٹار انیل کپور کی ایک نئی فلم 'اے کے ورسز اے کے' یعنی انیل کپور بمقابلہ انوراگ کشپ 24 دسمبر کو ریلیز کی جا رہی ہے۔
اس فلم کے ٹریلر ریلیز کر دیے گئے ہیں، اس کے ایک ٹریلر کو انیل کپور نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا۔ جس کو بظاہر تو بہت سے صارفین نے پسند کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس فلم کے ریلیز ہونے کا بیتابی سے انتظار ہے لیکن وہیں انڈین ایئر فورس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس ٹریلر میں موجود مواد پر اعتراض کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
ٹریلر میں ایسا کیا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@IAF_MCC
بالی وڈ اداکار انیل کپور کی جانب سے 'اے کے ورسز اے کے' نامی اس فلم کے جاری کیے جانے والے ایک ٹریلر میں وہ انڈین ایئر فورس کے یونیفارم میں دکھائی دیتے ہیں اور وہ انوراگ کشپ سے گالم گلوچ کر رہے ہیں۔
ٹریلر میں ایک اور سین میں وہ انڈین ایئر فورس کا یونیفارم پہنے ڈانس کرتے دکھائے گئے ہیں۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین ایئر فورس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس ٹریلر کو ٹیگ کر کے کہا گیا ہے کہ 'اس ویڈیو میں انڈین فضائیہ کے یونیفارم کو غلط انداز سے پیش کیا گیا ہے، اور اس ویڈیو میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ بھی مناسب نہیں ہے۔ ایسا رویہ انڈیا کے فوجی افسران کے رویوں سے مطابقت نہیں رکھتا لہذا متعلقہ سین کو حذف کرنے کی ضرورت ہے۔'
بالی وڈ اداکار انیل کپور نے انڈین ایئر فورس اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس ٹریلر پر تنقید کو بھانپتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میری نئی آنے والی فلم کا ٹریلر چند افراد کو پسند نہیں آیا اور انھوں نے اعتراض کیا ہے کہ میں نے انڈین فضائیہ کا یونیفارم پہنے ہوئے غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا ہے۔ اس ضمن میں معافی مانگتا ہوں۔ تاہم میں اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ اس فلم میں میرا کردار ایک اداکار کا ہے جو ایک انڈین فضائیہ کے افسر کا کردار نبھا رہا ہے اور اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیٹی اغوا ہو گئی ہے۔ یہ زبان اس کردار کے بطور باپ کرب اور غصے کی عکاسی کرتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@AnilKapoor
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ میرا اور فلم بنانے والوں کا کبھی بھی مقصد انڈین فضائیہ کی توہین کرنا نہیں تھا، میں نے ہمیشہ تمام سکیورٹی اہلکاروں کے بے لوث خدمات کی بہت عزت کی ہے۔ اگر میں تہہ دل سے نادانستہ طور پر کسی کے جذبات مجروح کرنے پر معذرت خواہ ہوں۔‘
جبکہ نیٹ فلکس انڈیا نے بھی انڈین فضائیہ کے اعتراض پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’ہماری نیت کبھی بھی انڈیا کی مسلح افواج کی توہین کرنا نہیں ہو سکتا، ’اے کے ورسز اے کے‘ ایک فلم ہے جس میں انیل کپور اور ان کے ساتھی اداکاروں کے کردار بھی اداکاروں والے ہیں۔ فلم میں کسی بھی جگہ پر انڈین فضائیہ یا ہماری مسلح افواج کو نہیں دکھایا گیا۔ ہم صرف اپنے بہادر جوانوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@NetflixIndia
سوشل میڈیا پر ردعمل
انڈین ایئرفورس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کے بعد بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے بالی وڈ میں غیر مناسب زبان کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تنقید کی۔

،تصویر کا ذریعہ@Iramhabib8
ارم حبیب نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کے انڈین ایئرفورس کی جانب سے اس پر موقف اپنایا گیا ہے، ہر چیز کو تفریح نہیں بنایا جا سکتا، بدقسمتی سے چند لوگوں کے لیے یہ صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا ہوگا ہے مگر قومی پرچم سے سجے اس یونیفارم کے ہمارے لیے کچھ معنی ہیں، عزت، احترام اور جذبات اس سے جڑے ہیں۔
ایک اور صارف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس کو ختم ہونا چاہیے، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری نے ہمیشہ ہمارے سکیورٹی اداروں کا مذاق اڑایا ہے، برائے مہربانی ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ یہ دوبارہ ایسا نہ کر سکیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@sram35s
جہاں ایک جانب سوشل میڈیا صارف انڈین ایئرفورس کی جانب سے اس ٹریلر پر اعتراض اٹھانے کی حمایت اور اس فلم کی ٹیم کے خلاف سخت ایکشن لے رہے تھے وہیں چند صارفین اس کو آزادی رائے سے منسلک کر رہے تھے۔
اس ضمن میں ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’جب وزیر اعظم فوج کے نام پر ووٹ مانگ سکتے ہیں یا ان کی تصاویر لگا کر ووٹ لے سکتے ہیں تو اداکار فوجی وردی میں اب ناچ بھی نہیں سکتا ہے؟ اکشے کمار اور اجے دیوگن بھی اپنے فلموں کی تشہیر کے لیے فوج کا نام استعمال کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Rajnees34468386
جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’انڈین فضائیہ کو یہ معاملہ ایک ٹویٹ کرنے کی بجائے سرکاری سطح پر اٹھانا چاہیے، یہ صرف ان کی فلم کو غیر ضروری مشہوری دے رہے ہیں جو (ان کے خوشی کے لیے) بہت بڑی بات ہے۔ اب دیکھیے گا یہ بات کتنی بڑھتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@theskindoctor13
جہاں ایک جانب انڈین سوشل میڈیا صارفین ان ٹریلر میں استعمال کی جانے والی زبان پر تنقید کر رہے تھے وہیں چند صارفین نے اس ٹریلر کو بے حد پسند کیا۔
انڈین فلم انڈسٹری کے لکھاری، ڈائریکٹر اور ایکٹر ستیش کوشک نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’کیا نرالا انداز ہے، پاگل کر دینے والا اور ٹریلر کو جاری کرنے کا ایک نیا اور تازہ انداز جو بہت شاندار ہے۔ انڈیا کی پہلی موکیوڈرامہ فلم اچھوتے مذاح اور توانائی سے بھرپور ہے۔ کپور صاحب آپ کو مبارک ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@Satishkaushik2
جبکہ ایک اور صارف کا بھی کچھ ایسا ہی کہنا تھا کہ ’کیا شاندار ٹریلر ہیں، اس کو سمجھنے اور ہضم کرنے کے لیے اسے دو بار دیکھا ہے، اس فلم کے ریلیز ہونے کا بے صبری سے انتظار ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@MasabaG











