شاہین باغ پر فیصلہ: جیت کس کی ہوئی؟

انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ عوامی مقامات اور مصروف سڑکوں پر احتجاج اور دھرنوں کی غیر معینہ مدت کے لیے اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ احتجاج اور مظاہروں کی اجازت صرف ان مقامات پر دی جانی چاہیئے جو اس مقصد کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں ۔

دلی کے جنوب مشرقی میں واقع شاہین باغ علاقے میں شہریت قانون کے خلاف خواتین کے غیر معینہ مدت کے دھرنوں سے متعلق ایک وکیل امت ساہنی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپمریم کورٹ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی عوامی مقام یا سڑک پر مظاہرین کے قبضے سے اگر بڑے پیمانے پر لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو قانون کے مطابق اس نوعیت کے مظاہرے کی اجازت نہیں ہے ۔

‏بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق عدالت عظمی نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے حالات میں انتظامیہ کو عدالت کی پناہ لینے کے بجائے خود اپنے طور پر قدم اٹھانا چاہئیے۔

تین ججوں کی ایک بنچ نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ احتجاج کے حق اور آمدو رفت جیسے حقوق کے درمیان توازن بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ 'جمہوریت اور اختلافات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔'

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عوامی مقامات پر اس طرح کا دھرنا یا مظاہرہ غیر معینہ مدت کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ایسے معاملات میں متعلقہ حکام کو اس سے نمٹنا چاہیے۔

تاہم عدالت نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مظاہرین اور احتجاجی اپنی بات پر زور دینے کے لیے احتجاج کے ایسے ذرائع کا استعمال کریں جو نوآبادیاتی حکمرانوں کے خلاف استعمال کیے جاتے تھے۔

عدالت نے کہا کہ شاہین باغ جیسے عوامی مقامات پر غیر معینہ مد ت کے لیے قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دیے گئے اس فیصلے میں عدالت عظمی نے کہا کہ دہلی پولیس جیسے ادارے کو شاہین باغ سے مظاہرین کو خالی کرا لینا چاہئیے تھا۔

دریں آثنا سوشل میڈیا پر شاہین باغ ایک بار پھر ٹرینڈ کرنے لگا ہے اور جو اس مظاہرے کے مخالفین تھے وہ اسے جیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

پرشانت پٹیل امراؤ نامی صارف اور وکیل نے لکھا: شاہین باغ گینگ کو بڑا صدمہ۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عوامی مقامات اور سڑکوں پر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس پر سڑک کو خالی کرانے کی ذمہ داری ہے۔'

دوسری جانب محمد آصف خان نامی ایک صارف نے لکھا: سب بڑا جھوٹ جو ہم سے کہا گیا وہ 'آئین سب سے اوپر ہے'۔ ہمیں آپ کے نظام پر اعتماد نہیں کیونکہ اس نے ہمیں کبھی انصاف نہیں دیا ہے۔ شاہین باغ احتجاج زندہ باد!'

ایک صارف نے لکھا کہ جب مظاہرہ جاری تھا تو سپریم کورٹ نے ثالث بھیجے تھے اور جب مظاہرہ ختم ہو گیا تو کہتی ہے کہ وہ درست نہیں تھا۔

معروف صحافی منہاز مرچنٹ نے لکھا ہے کہ اس فیصلے میں ان لوگوں کے لیے نتائج ہیں جنھوں نے مظاہرے کی حمایت کی تھی۔

فیصلہ سنانے والی سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس سنجے کشن کول نے کی۔ دوسرے دو ججز میں جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس کرشن مراری شامل تھے۔

شاہین باغ میں ہونے والے مظاہرے کے خلاف سپریم کورٹ میں متعدد عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ شاہین باغ میں کئی مہینوں تک شہریت کے متنازع ترمیی قانون کے خلاف مظاہرین نے احتجاج کیا تھا۔ اس دوران مظاہرین تقریباً 100 دنوں تک دہلی اور نوئیڈا کو جوڑنے والی ایک مرکزی سڑک پر بیٹھے رہے۔

بنچ نے اس معاملے میں 21 ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ احتجاج کرنے کے حق اور لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے ٹریفک کے حق کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔

بینچ نے کہا تھا کہ احتجاج پرامن طریقے سے کیا جاسکتا ہے لیکن احتجاج کا حق مطلق نہیں ہے۔ یہ ایک حق ہے۔

درخواست گزار امت ساہنی اور ششانک دیو سودھی نے احتجاجی مظاہرے کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ احتجاج کی وجہ سے لوگوں کو نقل و حرکت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مظاہرین کو ہٹایا جائے۔

سینیئر صحافی سوچترا موہنتی کے مطابق امت ساہنی نے کہا تھا کہ 'آئندہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق احتحاج نہیں ہونی چاہیے۔ وسیع عوامی مفاد میں ایک فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ میں سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں ایک تفصیلی حکم دے۔'

سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے ابتدا میں بتایا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے پر غور کرنے سے انکار کردیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس سے قبل سنجے ہیگڑے، سادھانا رام چندرن اور سابق بیوروکریٹ وجاہت حبیب اللہ کو مظاہرین سے بات کرنے اور انھیں کہیں اور جانے پر راضی کرنے کے لیے ثالث مقرر کیا تھا۔

احتجاج پر سب سے زیادہ خواتین بیٹھی تھیں۔ وہ اس بات پر بضد تھیں کہ جب تک حکومت سی اے اے قانون واپس نہیں لیتی اس وقت تک وہ مظاہرہ کرتی رہیں گی۔

فروری میں ثالثوں کی ٹیم نے مہر بند لفافوں میں اپنی رپورٹیں پیش کی تھیں۔

شاہین باغ میں مظاہرے کا پس منظر

شاہین با‏غ‏ میں شہریت قانون کے خلاف 300 خواتین کے ساتھ گذشتہ سال 15 دسمبر کو احتجاج شروع ہوا تھا۔

بڑی تعداد میں خواتین تقریباً تین مہینے تک احتجاج میں بیٹھی رہیں۔ شاہین باغ کا یہ احتجاج پورے ملک میں شہریت قانون کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کا محور بن گیا۔

دہلی کے انتخابات میں حکومتی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے شاہین باغ کے احتجاج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کی بنیاد پر ووٹروں کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔

شہریت قانون کے خلاف مظاہروں کے ہی درمیان شمال مشرقی دہلی میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں کم از کم 53 افراد مارے گئے تھے جن میں سے 40 مسلمان تھے ۔

ان فسادات کے سلسے میں جن افراد کو گرفتار گیا ان میں وہ سٹوڈنٹ لیڈر اور کارکن سر فہرست ہیں جنہوں نے شہریت قانون کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کی قیادت کی تھی اور انہیں منظم کیا تھا۔

شاہین باغ کا احتجاج کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد 23 مارچ کو ختم کر دی گئی تھی۔