آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جامعہ ملیہ: احتجاج کرنے والے طلبا پر فائرنگ، حملہ آور نعرے لگا رہا تھا ’یہ لو آزادی، ہندوستان زندہ باد، دلی پولیس زندہ باد‘
دلی کی جامعہ ملیہ یونورسٹی کے باہر شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر ایک شخص نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک طالب علم زخمی ہو گیا۔ گولی چلانے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار سروج سنگھ کو حاصل ہونے والے شناختی دستاویزات (ادھار کارڈ) سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور نابالغ ہے۔
نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق جامعہ کے طلبہ انڈیا کے بانی موہن داس گاندھی کی برسی پر گاندھی سمادھی کی طرف مارچ کے لیے جامعہ کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ اچانک ایک شخص ہوا میں ریوالور لہراتے ہوئے ان کے سامنے نمودار ہوا اور گولی چلا دی۔
گولی چلاتے وقت وہ کہہ رہا تھا ’یہ لو آزادی۔ ہندوستان زندہ باد، دلی پولیس زندہ باد۔‘
جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ ہوا اس وقت وہاں بڑی تعداد میں پولیس تعینات تھی۔ حملہ آور کو پکڑ لیا گیا ہے۔
زخمی ہونے والے طالب علم کو ہاتھ میں گولی لگی ہے اور انھیں جامعہ کے نزدیک واقع ہولی فیملی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جامعہ میں فائرنگ کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دوروز قبل دلی کی ایک انتخابی ریلی میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر وہاں موجود لوگوں کو ’دیش کے غداروں کو گولی مارنے‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔
ان کا اشارہ جامعہ اور شاہین باغ کے احتجایوں کی طرف تھا۔ الیکشن کمیشن نے تشدد بھڑکانے کی شکایت کے بعد انوراگ ٹھاکر پر کچھ پابندیاں عائد کی تھیں۔
بی جے پی نے دلی کے ریاستی انتخابات میں شہریت قانون کی مخالفت کرنے والوں بالخصوص شاہین باغ کے احتجاجیوں کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ وہ اپنی ریلیوں میں انھیں ملک توڑنے والے، ملک دشمن اور غدار قرار دے رہے ہیں۔
شاہین باغ میں ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے سینکڑوں خواتین متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ آج موہن داس گاندھی کی برسی کے موقع پر پورے انڈیا میں جگہ جگہ شہریت قانون اور نفرت کی سیاست کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
حملہ آور کون ہے؟
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی تصویروں میں یہ شخص ہوا میں پستول لہراتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ پولیس جب اس شخص کو گرفتار کر کے لیجا رہی تھی تب میڈیا نے اس سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے، جواب میں اس نے اپنا نام بتایا۔
ہم نے جب فیس بک پر اس نام کے شخص کو تلاش کیا تو فائرنگ سے پہلے کی کچھ معلومات حاصل ہوئیں۔
ان کے اکاؤنٹ سے فائرنگ کے موقع سے ہی تمام تفصیلات پوسٹ کی جا رہی تھیں۔
فیس بک فیڈ کی کئی پوسٹس میں یہ شخص خود کو ہندوتوا کا حامی بتاتا ہے۔ اس پروفائل میں پہلے شیئر کی جانے والی کچھ تصویروں میں وہ شخص بندوق اور تلوار لیے دکھائی دے رہا ہے۔
فائرنگ سے پہلے حملہ آور نے کب کب اور کیا کیا لکھا
30 جنوری کی صبح 10:43 برائے مہربانی تمام بھائی مجھے دیکھ لیں۔
10:43 جلدی ہی بتا دوں گا۔
12:53 جامعہ علاقے سے فیس بک لائیو جس میں ہجوم دکھائی دے رہا ہے۔
1:00 بہن ۔۔۔۔ آ رہا ہوں۔
1:00 آزادی لے رہا ہوں۔
1:00 میں یہاں اکیلا ہندو ہوں۔
1:09 کال مت کرو۔
1:14 میری انترم یاترہ ( آخری رسومات) میں مجھے بھگوا (نارنجی رنگ کا کپڑا) میں لپیٹ کر لیجائیں اور جے شری رام کے نعرے ہوں۔
1:22 کوئی ہندو میڈیا نہیں ہے یہاں۔
1:25 شاہین باغ کھیل ختم۔
اس کے بعد وہ کچھ اپنے فیس بک لائیوز میں بیگ اٹھائے موقع پر نظر آ رہا ہے لیکن ان ویڈیوز میں وہ کچھ بولتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔
نوٹ: اس بات کا تعین ہونے کے بعد کہ فائرنگ کرنے والا لڑکا نابالغ تھا، اس مضمون کے متن میں تبدیلی کی گئی ہے اور حملہ آور کی شناخت ظاہر کرنے والی معلومات کو حذف کر دیا گیا ہے۔