انڈیا کے گاؤں کی سینکڑوں خواتین پہاڑ کاٹ کر اپنے گاؤں میں پانی کیسے لائیں؟

،تصویر کا ذریعہBabita/BBC
- مصنف, اننت پرکاش
- عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی
'ہمارے گاؤں میں پانی کی اتنی کمی ہے کہ جب لڑکیاں پانچ چھ سال کی ہوتی ہیں تو اِسی عمر سے وہ پانی بھرنے کے چھوٹے چھوٹے برتن اٹھا لیتی ہیں۔ میں نے خود آٹھ سال کی عمر میں ہی پانی بھرنا شروع کر دیا تھا۔‘
یہ انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کی 19 سالہ ببیتا کے الفاظ ہیں، جنھوں نے اپنے گاؤں اگروٹھا کی سینکڑوں خواتین کے ساتھ مل کر ایک پہاڑ کاٹ کر پانی کے لیے 107 میٹر لمبا راستہ تیار کیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع کے اگروٹھا گاؤں میں پانی کی قلت اتنی شدید ہے کہ گرمیوں میں دو ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل اس گاؤں کو دو یا تین ہینڈ پمپوں سے سپلائی ہونے والے پانی پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ببیتا نے کہا کہ ’ہمارے گاؤں میں پانی کی اتنی کمی ہے کہ اگر آپ کبھی آئیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نلکوں پر گھنٹوں کھڑے رہنے کے بعد پانی ملتا ہے اور بارانی پانی کم ہونے کی وجہ سے کاشتکاری نہیں ہو پاتی ہے جبکہ جانوروں کے لیے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نلکوں پر عالم یہ ہے کہ کئی بار صورت حال گالی گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔‘
مشکلات
لیکن یہ کہانی صرف پانی کی نہیں ہے۔ یہ کہانی ان خواتین کی مشکلات پر فتح حاصل کرنے کی ایک اہم داستان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پانی کے بحران کا سامنا کرنے والے انڈیا کے دوسرے دیہاتوں کی طرح اگروٹھا میں بھی خواتین کو پانی کی وجہ سے گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ لڑکیوں کی کم عمری میں شادی اور سکول چھوڑنے جیسے مسائل کی وجوہات میں بھی پانی کا بحران شامل ہے۔
ببیتا نے بتایا ’ہمیں صبح چار بجے سے ہی یہاں کے نل پر قطار لگانی پڑتی اور دوپہر بارہ بجے تک نلکے پر رہنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد کھانے پینے کے لیے گھر آنا اور شام کو ایک بار پھر پانی حاصل کرنے کی کوشش میں لگ جانا۔ کئی بار بہت ساری خواتین کو اپنی ساس یا شوہر کی جانب سے بھی ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جب خواتین پانی بھرنے جاتی ہیں تو نلکے پر ان کی دوسری خواتین سے لڑائی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے انھیں اپنے گھر پر بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
تو ببیتا اور ان کے ساتھ گاؤں کی دوسری خواتین نے پہاڑ کاٹنے اور پانی نکالنے کا فیصلہ کیسے کیا؟

،تصویر کا ذریعہBabita/bbc
پہاڑ کاٹنے کا فیصلہ؟
ببیتا کا کہنا ہے کہ ’یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ ہم سب سوچتے تھے کہ اگر پانی آ جائے گا تو کام بن جائے گا، لیکن جب ’جل جوڑو‘ (یعنی پانی کے کنیکشن) مہم والے آئے اور انھوں نے سمجھایا کہ یہ اس طرح کیا جا سکتا ہے تو ہم نے محسوس کیا کہ یہ ہو سکتا ہے۔ شروع میں تھوڑی بہت پریشانی ہوئی لیکن آخرکار سب اکٹھے ہو گئے اور کام ہو گیا۔‘
اس گاؤں کی تصویر بدلنے میں مقامی خواتین کے ساتھ ان مہاجر مزدوروں کا بھی اہم کردار ہے جو کئی دنوں کے پیدل سفر کے بعد گاؤں پہنچے تھے۔
جل جوڑو مہم کے کنوینر مانویندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس میں ان لوگوں کا بھی کردار ہے جو چار پانچ دنوں تک پیدل چل کر اپنے گاؤں پہنچے تھے۔
چھترپور ضلع کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اجے سنگھ کا کہنا ہے کہ ’کورونا لاک ڈاؤن کے دوران اپریل اور مئی میں خواتین نے جل جوڑو مہم کے کنوینر مانویندر کے ساتھ مل کر پہاڑ کو کاٹا اور اپنے گاؤں تک پانی لانے کا کام کیا۔ ہم نے ان لوگوں کو منریگا (مزدوروں کو روزگار دینے کی ایک سرکاری سکیم) کے تحت اجرت دینے کے بارے میں غور کیا تھا لیکن ان لوگوں نے یہ کام اپنی سطح پر کر لیا۔ اس کے لیے ہماری جانب سے ان کے لیے نیک خواہشات ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہBabita/BBC
یہ کام کتنا مشکل تھا؟
اگر آپ اگروٹھا گاؤں کے پس منظر کو دیکھیں تو اس کا زیادہ تر حصہ پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں پانی تقریباً 100 فٹ کی گہرائی میں ملتا ہے۔
لیکن یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ میدانی علاقوں کی بانسبت اس علاقے میں کنواں کھودنا زیادہ مشکل ہے کیونکہ زمین پتھریلی ہے۔
اس خطے میں نقل مکانی، خشک سالی اور پانی کے شدید بحران کے پیش نظر کانگریس کی سربراہی والی یو پی اے حکومت نے اپنی دوسری میعاد میں مدھیہ پردیش حکومت کو 3600 کروڑ روپے کا پیکیج دیا تھا۔
اس پیکیج کے تحت پانی کے تحفظ سے متعلق تمام سکیموں کو مکمل کیا جانا تھا۔
مانویندر کا کہنا ہے کہ ’بندیل کھنڈ پیکیج کے تحت اس گاؤں میں 40 ایکڑ پر مشتمل ایک تالاب بنایا گیا تھا جو جنگل کے علاقے سے جڑا ہوا تھا۔ لیکن اس تالاب میں پانی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ جبکہ جنگلاتی علاقے کے ایک بڑے حصے کا پانی بچھیڑی دریا کے ذریعے نکل جاتا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا جنگل کا پانی کسی نہ کسی طرح اس تالاب تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں تھا۔‘
’ایک طویل عرصے تک غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال جو پانی پہاڑ پر آتا ہے کم از کم اسے ہی تالاب میں لانے کی کوشش کی جائے۔ پھر لوگوں نے از خود یہ ذمہ داری اٹھا لی اور تالاب تک پانی لانے کا کام کر دکھایا۔‘
گذشتہ دنوں جب اس علاقے میں بارش ہوئی تو اگروٹھا کا تالاب میں پانی بھر گیا اور لوگوں کو عارضی طور پر ہی سہی پانی کے بحران سے نجات ملی۔
لیکن اس کام سے ببیتا کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے۔
وہ کہتی ہیں ’اب گاؤں کے لوگوں نے ہماری عزت کرنا شروع کر دی ہے، لوگ ’ببیتا جی‘ کہہ کر پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ یہ سُن کر بہت اچھا لگتا ہے کہ ہاں ہم نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہیں۔ لیکن سچ پوچھیں تو ہمیں کبھی یقین نہیں تھا کہ ایسا ہو پائے گا۔‘












