اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ: جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں چین اور انڈیا ایک ہی صفحے پر؟

شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہXINHUA

،تصویر کا کیپشنچینی صدر شی جن پنگ

اقوام متحدہ 75 سال کا ہو گیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی تشکیل ہوئی تھی اور اس کو بنانے کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ اگر دنیا تیسری جنگ کی طرف پیش قدمی کرتی ہے تو اس صورت میں اسے روکنے کے لیے کوئی ادارہ موجود ہو۔

اقوام متحدہ 75 سال کا اس وقت ہوا ہے جب دنیا کئی قسم کے بحرانوں میں گھری ہوئی ہے۔ انڈیا اور چین دو ایٹمی طاقتیں ہیں اور دونوں کی فوجیں سرحد پر آمنے سامنے ہیں۔

کشیدگی اس قدر ہے کہ دونوں طرف سے فوجی دستوں اور ہتھیاروں کے نظام کو چاق و چوبند کیا جا رہا ہے۔ لیکن اتوار کے دن جب دونوں ممالک کے رہنما شی جن پنگ اور نریندر مودی اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر جنرل اسمبلی کے اعلی سطحیٰ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو آج کی دنیا کے بارے میں ان کی بہت سی باتیں ایک جیسی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

مودی اور شی جن پنگ دونوں نے کہا کہ دنیا میں طاقت کے ایک سے زیادہ مراکز ہیں اور اس لحاظ سے اقوام متحدہ کو متوازن ہونے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ جنرل اسمبلی کے اعلی سطحی اجلاس سے چینی صدر شی جن پنگ نے خطاب کیا۔

انھوں نے اپنے خطاب میں کووڈ 19 کے بعد اقوام متحدہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ صدر شی جن پنگ نے ایسی دنیا کی مخالفت کی جہاں طاقت کا ایک مرکز ہو اور کہا کہ کوئی بھی ملک پوری دنیا کا باس نہیں بن سکتا۔ یہ واضح ہے کہ شی جن پنگ کے نشانے پر امریکہ تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

شی جن پنگ نے کہا: ’کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ عالمی تعلقات پر اپنا تسلط دکھائے۔ دوسرے ممالک کے مستقبل کو کنٹرول کرے اور ترقی کا پورا فائدہ خود اٹھائے۔ کسی بھی ملک کو اپنی ترقی کرنے کا حق حاصل ہے اور اسے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ دنیا میں ترقی پذیر ممالک کے کردار میں اضافہ ہوا ہے، لہذا اقوام متحدہ کو زیادہ متوازن بننے کی ضرورت ہے۔ بڑے ممالک کو بین الاقوامی قواعد و ضوابط اور ان کے متعلق اپنے وعدوں کا پابند ہونے کی ضرورت ہے۔‘

شی جن پنگ نے یہ بھی کہا: ’دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی ان کو کسی ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ تعاون کو فروغ دے۔ ہمیں سرد جنگ کی ذہنیت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ سب کو مل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ ہمیں محاذ آرائی کی جگہ مذاکرات کی ضرورت ہے، داداگیری کی جگہ بات چیت اور باہمی مفادات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کثیر قطبی دنیا کو قبول کرنا ہوگا اور بات کرنے سے کہیں زیادہ کام کرکے دکھانا ہوگا۔‘

شی جن پنگ

،تصویر کا ذریعہXINHUA

،تصویر کا کیپشنچینی صدر شی جن پنگ

شی جن پنگ نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 75 سال کے سفر میں عمدہ کام کیا ہے۔ چینی صدر نے کہا: ’پچھلے 75 برسوں میں انسانی معاشرے میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ بین الاقوامی حالات بھی بدلے ہیں۔ اس دور میں دنیا کثیر قطبی ہوئی ہے۔‘

دوسری جانب انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر جنرل اسمبلی کے اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کیا۔

اس اجلاس میں وزیراعظم مودی کی پہلے سے ریکارڈ شدہ چار منٹ کی تقریر نشر کی گئی۔ اپنے خطاب میں انڈیا کے وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کو جامع اصلاحات کے بغیر اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کثیر جہتی ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہر ایک کی آواز کو سنا جا سکے۔ مودی نے کہا کہ اس کے ساتھ اقوام متحدہ کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنا چاہیے۔

نریندر مودی نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا: ’75 سال قبل جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار کوئی ادارہ پوری دنیا کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ انڈیا شروع سے ہی اقوام متحدہ کے چارٹر کا حصہ رہا ہے۔ انڈیا کا اپنا فلسفہ بھی ’واسودیو کٹمبکم‘ (ساری دنیا ایک کنبہ ہے) کا رہا ہے۔ ہم پوری دنیا کو اپنا کنبہ سمجھتے ہیں۔ اگر آج ہم اپنی دنیا کو بہتر پاتے ہیں تو اس کی وجہ اقوام متحدہ ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈیا کا کردار اہم ہے۔ تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ تصادم سے بچنا، ترقی میں تیزی لانا، آب و ہوا میں تبدیلی اور عدم مساوات کو کم کرنے جیسے چیلنجز ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘

انڈیا ایک طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی بات کرتا رہا ہے۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا 1945 کا ڈھانچہ 21 ویں صدی کی دنیا کے لیے موزوں نہیں۔

انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انڈیا کا دعویٰ ہے کہ سلامتی کونسل کے اپنے پانچ اراکین میں سے چین کو چھوڑ کر باقی سارے فرانس، برطانیہ، امریکہ اور روس انڈیا کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل کے مستقل ممبروں کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے بانی مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے معاملے میں چین نے انڈیا کے مطالبے کو ویٹو کر دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں انڈیا کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع کی جانی چاہیے۔