آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا اور چین سرحدی کشیدگی کم کرنے پر متفق: ’موجودہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں‘
انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر تناؤ اور جھڑپوں کے بعد ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے ان کی افواج اپنی موجودہ پوزیشن سے ’فوراً پیچھے ہٹیں‘ گی۔
انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازع تو کافی پرانا ہے لیکن رواں برس یہاں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ہیں اور رواں ماہ انڈیا کے پانچ شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی خبروں پر نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی۔
ماسکو میں جمعرات کو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات میں تناؤ کم کرنے کے لیے پانچ نکات پر اتفاق ہوا ہے۔
دونوں اطراف کے فوجی متنازع سرحدی علاقے، جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہا جاتا ہے، پر جھڑپوں میں ملوث رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی افواج پر سرحدی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں جو بعض اوقات جان لیوا جھڑپوں میں تبدیل ہوئے۔
ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا ہے کہ ’موجودہ صورتحال کسی کے مفاد میں نہیں۔‘
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ژی کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سرحد پر دونوں ملکوں کی افواج مذاکرات جاری رکھیں گی، اپنی موجودہ سرگرمیوں سے فوراً پیچھے ہٹیں گی، مناسب فاصلہ قائم رکھیں گی اور کشیدگی کم کریں گی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے اقدامات کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی تاکہ ’امن و سلامتی قائم ہو سکے۔‘ لیکن انھوں نے مزید وضاحت نہیں کی کہ یہ کیسے ممکن ہو گا یا اس کے بعد ردعمل میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
انڈیا اور چین کے درمیان پہلے سے یہ معاہدہ موجود ہے جس میں سرحد پر ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
گذشتہ دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کافی خراب رہے ہیں۔ منگل کو چین نے انڈین فوجیوں پر غیر قانونی سرحدی تجاوز اور چینی فوجیوں پر ’اشتعال انگیز‘ انتباہی فائرنگ کا الزام عائد کیا تھا۔
انڈیا نے اس کے جواب میں چینی سرحدی فورسز پر ہوائی فائرنگ کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ’بُری طرح معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘
انڈیا کی فوج نے اس سے ایک دن قبل چینی اہلکاروں کو آگاہ کیا تھا کہ متنازع سرحد پر چینی فوجیوں نے پانچ انڈین شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کیا ہے۔
اس سے قبل 20 جون کو چینی فوجیوں کے ساتھ ایک پُرتشدد جھڑپ میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ ان فوجیوں کو ’مار مار کر ہلاک کیا گیا۔‘
سرحد پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول 3440 کلومیٹر دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں موجود دریا، ندیاں اور برف کے پہاڑوں سے یہ لائن بدل سکتی ہے۔
دنیا کی دو بڑی فوجوں کے جوان وقتاً فوقتاً کئی مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے رہتے ہیں۔
انڈیا نے چین پر وادی گلوان میں لاکھوں فوجی بھیجنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ چین اس کے علاقے کے 40 ہزار سکوئر کلومیٹر پر قابض ہو چکا ہے۔
انڈیا اور چین نے ماضی میں بھی سرحدی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ لیکن گذشتہ تین دہائیوں میں کئی مذاکرات کے باوجود تنازع کا حل نہ نکل سکا۔
دونوں ممالک کے درمیان سنہ 1962 میں جنگ ہوئی تھی جس میں انڈیا شکست سے دوچار ہوا تھا۔
حالیہ کشیدگی کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں مگر سٹریٹیجک مقاصد اور برتری اس کی بنیادی وجہ ہے اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لداخ سے متصل سرحد کے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں انڈیا کی جانب سے بنائی گئی نئی سڑک دفاعی نکتہ نظر سے اس کمزور علاقے میں تصادم کی صورت میں دلی کے لیے وہاں افرادی قوت اور ساز و سامان بھجوانے کے لیے مددگار ہو گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا کی جانب سے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوششوں میں تیزی نے بیجنگ کو طیش دلایا ہے۔