آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا چین تنازعہ: کیا روس دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے؟
- مصنف, سروج سنگھ
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
اگر دو لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہو تو بیچ بچاؤ یا ثالثی کی کوشش اکثر ایک ایسے تیسرے کو کرنی ہوتی ہے، جو دونوں کا اچھا دوست رہا ہو۔
اس بات پر بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا بھارت چین کشیدگی کے درمیان روس ایسا دوست ثابت ہو سکتا ہے۔
اس وقت سرحد پر انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی ہے۔ جون میں یہ کشیدگی گلوان وادی میں تھی اور اس وقت دونوں ممالک کے فوجی پینگونگ تس کے جنوبی ساحل پر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
ایسی صورتحال میں کچھ انڈین ٹی وی چینلز میں ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ چینی وزیر دفاع وی فینگی نے انڈیا کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے بات کرنے کے پیشکش کی ہے۔ راج ناتھ سنگھ فی الحال شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو میں ہیں۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایس سی او میں وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں انڈیا اور چین کے وزرائے خارجہ کے مابین بات چیت ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ تین ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے جب انڈیا کے وزیر دفاع روس گئے ہیں۔ اس سے قبل جون میں بھی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ روس کے تین روزہ دورے پر تھے اور یہ موقع دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی پر سوویت فتح کی 75 ویں سالگرہ کا تھا۔
اُس وقت دونوں ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کی بات ہوئی تھی۔ لیکن ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے کہ جب راج ناتھ سنگھ روس جاتے ہیں تو بات چیت کے حالات بنتے دکھائی دیتے ہیں۔
کیا کورونا کے دور میں جب وزراء بیرون مالک کے دورے نہیں کر رہے اس وقت ملک کے وزیر دفاع کا تین ماہ میں دو بار روس جانا اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔
کیا ایسے اتفاق کے درمیان ایسا بھی ممکن ہے کہ روس دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریگا؟ اس سوال کے جواب کے لیے گزشتہ چند دہائیوں کی تاریخ کو ٹٹولنے کی کی ضرورت ہوگی۔
1962 سے 2020 تک
1962 کی ہند چین جنگ میں روس دونوں ممالک میں سے کسی کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا تھا۔ اس وقت سوویت یونین کا خاتمہ نہیں ہوا تھا اور چین اور روس نظریاتی سطح پر بہت قریب تھے۔ روس نے اس جنگ کو بھائی اور دوست کے مابین لڑائی قرار دیا تھا۔ روس نے چین کو بھائی اور انڈیا کو دوست کہا۔ آج کی تاریخ میں ایک بار پھر چین اور انڈیا کے درمیان کشیدگی ہے اور سوویت یونین بہت سارے ممالک میں تقسیم ہوچکا ہے۔
جب تک سوویت یونین باقی رہا دنیا دو قطبی رہی۔ آج کی تاریخ میں انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے الفاظ میں دنیا ’ملٹی پولر‘ بن چکی ہے۔
امریکہ اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے ایشیاء پیسیفک میں اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف چین کئی محاذوں پر امریکہ کو چیلینج کر رہا ہے۔ تیسری طرف روس کو بھی یورپ اور امریکہ کی طرف سے شام اور یوکرین میں اپنے کردار کے لیے نشانہ بنایا گیا ہے۔ عرب ممالک کا چوتھا محاذ ہے جس میں اس وقت خود آپس میں اختلافات ہیں لیکن کچھ ایران کے ساتھ ہیں اور کچھ سعودی عرب کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور چین کی آپس میں بنتی نہیں چین، بھارت کشیدگی کے تحت امریکہ کھلے عام بھارت کے ساتھ کھڑا ہے لہذا وہ درمیان میں ثالثی نہیں کر سکتا۔ چین کی پاکستان سے بنتی ہے جو پہلے ہی بھارت کا دشمن ملک سمجھا جاتا ہے اس لیے پاکستان کی ثالثی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ثالث کا کردار
ایسی صورتحال میں روس ایسا واحد ملک رہ گیا ہے جس کے چین اور انڈیا دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ بی بی سی نے جے این یو کے پروفیسر سنجے پانڈے سے ان امکانات کے بارے میں بات کی۔ پروفیسر سنجے پانڈے سینٹر فار رشیئن سڈیز کے پروفیسر ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ روس انڈیا کشیدگی میں قطعی کردار ادا کرسکتا ہے لیکن کھلے عام نہیں بالواسطہ طور پر۔
پروفیسر پانڈے کہتے ہیں’2017 میں ڈوکلام تنازعہ کے وقت بھی روس نے بالواسطہ طور پرچین کو مشورہ دیا تھا کہ اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘
پچھلے تین مہینوں سے مشرقی لداخ سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں روس کا سرکاری طور پر موقف ہے کہ یہ دونوں ممالک کے مابین باہمی مسئلہ ہے۔ دونوں ہمارے دوست ہیں لہذا دونوں کو خود ہی اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔
پروفیسر سنجے کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے بالواسطہ کوششیں جاری ہیں۔ انڈیا کے وزیر دفاع کے روس کے دو دوروں میں ہی نہیں بلکہ مذاکرات کی دوسری سطح کی بات چیت میں بھی انڈیا کے ساتھ چین کے سرحدی تناؤ پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ تاہم روس اور چین کے درمیان کسی بھی مرحلے پر ایسی کوئی بات چیت نہیں کی گئی ہے۔
مزید پڑھیئے
لیکن وہ یہ بھی واضح طور پر کہتے ہیں کہ ’روس چین کے خلاف نہیں جائے گا۔ چین کےخلاف جائے بغیر وہ انڈیا کی جتنی مدد کر سکتا ہے کریگا، خود روس نے انڈیا کو اس بات کا یقین دلایا ہے۔‘
روس نے انڈیا کو سکھوئی اور میگ 21 دونوں کی فراہمی تیز کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ پروفیسر سنجے کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس بالواسطہ طور پر انڈیا کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی حکومت نے روس کے اس اقدام پر کوئی اعتراض ظاہر نہیں کیا ہے۔
روس اور بھارت کے تعلقات
انڈیا اور روس ہمیشہ سے دوست رہے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق انڈیا روس سے فوجی مصنوعات خریدتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ ، اسرائیل اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔
پچھلے کچھ سالوں میں روس سے خریداری میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن امریکہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ بھارت امریکہ سے زیادہ سامان خریدے۔ اسی وجہ سے روس سے ایس 400 خریدنے کا انڈیا کا معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا۔
بین الاقوامی امور کے ماہر اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سٹریٹجک سٹڈی پروگرام کے سربراہ پروفیسر ہرش پنت نے جون کے مہینے میں راج ناتھ سنگھ کے دورہ روس کے دوران بی بی سی سے بات کی تھی۔
پروفیسر ہرش کا کہنا ہے کہ ’روس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انڈیا ایک جمہوری ملک ہے جب کہ چین ایک مطلق العنان ریاست ہے یا ایک طرح کا آمرانہ ملک ہے لہذا روس انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ اچھی نظر سے دیکھتا ہے اور یہی پرانے قریبی تعلقات کی بنیاد ہے، لیکن پچھلی دہائی میں حالات بدل چکے ہیں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ چین کے ساتھ روس کے تعلقات مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’روس کے لیے بھی صورتحال کم چیلنجنگ نہیں ہے۔ اس کی آبادی پاکستان سے کم ہے اور رقبہ بہت زیادہ ہے جو یورپ سے ایشیاء تک پھیلا ہوا ہے۔ روس نے ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے اس لیے وہ اپنی سرحدوں کے آس پاس دشمنی کی فضا کو برداشت نہیں کر سکتا۔ روس کی مشرقی سرحد پر جو چین سے ملتی ہے وہ وہاں بالکل کشیدگی نہیں چاہتا اور چین اس کا فائدہ اٹھاتا ہے ۔دوسری طرف روس کی امریکہ اور اس کے کچھ اتحادی یورپی ممالک سے بھی کھینچا تانی ہے۔ ایسی صورتحال میں روس کے پاس بھی محدود متبادل ہیں۔‘
ماسکو میں موجود انڈین سفیر نے بھی کچھ عرصہ قبل روس کے سامنے اپنے ملک کے خدشات رکھے تھے اور روس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر چین کے ساتھ بھارت کا تنازعہ بڑھتا ہے تو اسے پرامن طریقے سے حل کرنے کی تمام کوششیں کی جائیں گی۔
چین اور روس کے تعلقات
یہاں ایک اور چیز قابلِ غور ہے کہ اقتصادی طور پر چین کو روس سے زیادہ خوشحال سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں چین نے خود کو امریکہ کے برابر ایک سپر پاور سمجھنا شروع کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں چین روس کی بات کیوں سنے گا؟
اس سوال کے جواب میں پروفیسر سنجے کا کہنا ہے کہ ’چین ثالث کے کردار میں روس کے سوا کسی تیسرے ملک کی بات سنے گا بھی نہیں۔اس وقت دنیا میں جس طرح کا پولرائزیشن چل رہا ہے اس میں چین کو روس کی ضرورت ہے۔‘
کورونا کے دور میں چین کے امریکہ کے ساتھ جس طرح تعلقات خراب ہوئے ہیں اورمعیشت اور سیاست سمیت ہر شعبے میں چین امریکہ کے مابین کشیدگی بڑھ رہی ہے ایسے میں چین کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے روس کی ضرورت ہے۔ سرد جنگ کے بعد روس امریکہ سے زیادہ کمزور ہو سکتا ہے لیکن اگر آج بھی یہ کسی ملک کے ساتھ کھڑا ہے تو امریکہ کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگر غلطی سے روس امریکہ کے ساتھ چلا جاتا ہے، جس کا مستقبل قریب میں امکان نہیں ہے، تو چین کے حالات مکمل طور پر بدل جائیں گے۔‘
روس اور چین کے درمیان دوستی قدرتی اور روایتی نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں کے عدم اعتماد اور تنازعات کی تلخ یادیں ہیں۔ 1968 میں دمسکی جزیرے پر دونوں ممالک کے مابین ایک فوجی تصادم ہو چکا ہے۔ حالانکہ 2000 میں چار ہزار کلومیٹر سے زیادہ لمبی سرحد کا تنازع حل کر لیا گیا ہے اور یہ سرحد معاہدے کے تحت اب چین کے پاس ہے۔
پچھلے کچھ دنوں سے چین اور روس کے درمیان بھی کچھ معاملات پر تنازعہ چل رہا ہے۔ یہ اطلاعات ہیں کہ روس نے چین کو S-400 میزائل کی فراہمی پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اگرچہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے لیکن اس پابندی کے پیچھے انڈین چین سرحدی کشیدگی نہیں بلکہ چین کی جانب سے روس کی جاسوسی ہے۔
روس اس بات کو کھلے عام قبول نہیں کرتا ہے لیکن اس کے اندر ایک خوف یہ بھی ہے کہ چین طویل مدت میں اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
چین کے ساتھ روس کے اچھے تعلقات ہیں لیکن وہ کبھی نہیں چاہتا ہے کہ چین اس علاقے میں ایک سپر پاور بن جائے اور دنیا کے طاقتور ممالک میں شامل ہو اور روس کی حیثیت اس سے ایک درجہ کم ہو۔ روس اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کھل کر انڈیا کی حمایت کرتا ہے۔