پرنب مکھرجی چل بسے، سب ملا سوائے وزیراعظم کی کرسی کے

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

جدید انڈیا میں بہت کم ہی رہنما ایسے ہوں گے جن کا سیاسی قد سابق صدر پرنب مکھرجی جتنا ہوگا۔ ہر نوجوان رہنما یقیناً یہ چاہے گا کہ وہ اسی طرح کی کامیابی حاصل کرے جیسی پرنب مکھرجی کو نصیب ہوئی۔ پرنب مکھرجی 31 اگست کو دلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔

دس اگست کو انھیں دماغ کی سرجری کے لیے لے جایا گیا جس سے پہلے ان کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا۔ انھوں نے خود ہی اپنی ایک ٹویٹ میں تصدیق کی کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

وہ دماغ کی سرجری کے بعد کوما میں چلے گئے تھے۔

PARNAB MUKHERJEE

،تصویر کا ذریعہTWITTER

پیر کو انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق شام پونے چھ بجے پرنب مکھرجی کے بیٹے اور سابق رکن پارلیمان ابھیجیت مکھرجی نے ٹویٹ کر کے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

PARNAB

،تصویر کا ذریعہTWITTER

ان کے بیٹے نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’میں بوجھل دل کے ساتھ یہ اطلاع دیتا ہوں کہ ڈاکٹرز کی بہترین کوششوں کے باوجود اور پورے انڈیا کے لوگوں کی دعاؤں کے میرے والے پرنب مکھر جی گزر گئے ہیں۔ آپ سب کا شکریہ۔‘

INDIA

،تصویر کا ذریعہTWITTER

سوشل میڈیا پر ملک کے صدر اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت مختلف شعبہ زندگی کے افراد سابق صدر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی ملک کے لیے خدمات پر انھیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کرتے ہوئے ان کی موت پر غم کا اظہار کیا۔

انھوں نے لکھا کہ’بھارت رتنا شری پرنب مکھرجی کے انتقال پر دل شکستہ ہے۔ انہوں نے ہماری قوم کی ترقی کی راہ پر ایک گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ایک سکالر، ایک قد آور سیاستدان، جن کی تمام برادریوں اور سیاسی طبقات میں تعریف کی جاتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مودی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

گانگرس کے رہنما راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا کہ ’بڑے افسوس کے ساتھ ، قوم کو ہمارے سابق صدر شری پرنب مکھرجی کے انتقال کی خبر ملی ہے۔ میں پوری قوم کے ساتھ ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ غمزدہ کنبہ اور دوستوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔‘

راہول

،تصویر کا ذریعہTWITTER

پرنب مکھرجی کون تھے؟

پرنب مکھرجی نے پانچ دہائیوں پر محیط سیاسی کریئر میں تقریباً وہ سب کچھ حاصل کیا جو ایک سیاسی رہنما حاصل کرنا چاہتا ہے۔

وہ سنہ 2012 سے سنہ 2017 تک انڈیا کے صدر رہے۔ پرنب مکھرجی کو کسی مخصوص کیٹگری یا گروہ میں ڈالنا مشکل ہے۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ ماہرِ اقتصادیات بھی تھے۔ انھوں نے وزیرِ دفاع اور انڈیا کے وزیر خارجہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ لیکن اس سے بہت پہلے وہ ایک استاد اور صحافی بھی رہے۔ پرنب مکھرجی بہت سے انڈین بینکوں کی کمیٹیوں کے رکن بھی رہے اور عالمی بینک کے بورڈ ممبر بھی۔ انھوں نے لوک سبھا کے سپیکر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور بہت سی حکومتی کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہے۔

وزیرِ اعظم نہ بننے کا افسوس

پرنب مکھر جی

،تصویر کا ذریعہTwitter/Pranab Mukherjee

پرنب مکھرجی کے بائیو ڈیٹا میں بس ایک چیز کی کمی ہے اور وہ ہے وزیرِ اعظم کے عہدے کی۔ ان کو 1984 اور پھر 2004 میں اس عہدے کے لیے بھی ایک امیدوار سمجھا جاتا رہا۔ شاید پرنب مکھرجی، جنھوں نے سیاسی طور پر عروج سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے سائے میں حاصل کیا، اپنے آپ کو اس عہدے کا قدرتی حقدار سمجھتے تھے۔ لیکن جس طرح بی جے پی کے لال کرشن اڈوانی کبھی وزیرِ اعظم نہیں بن سکے، اسی طرح پرنب مکھرجی بھی اس عہدے سے محروم رہے۔

ان کی بیٹی شرمیشتھا مکھرجی، جو کہ خود بھی کانگریس کی رہنما ہیں، سے ایک گفتگو میں یہ ظاہر ہوا کہ ان کے والد کو وزیرِ اعظم نہ بننے کا افسوس تھا لیکن انھوں نے کبھی کھلے عام اس کا اظہار نہیں کیا کیونکہ وہ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما تھے۔ اور کیونکہ وہ 2012 میں انڈیا کے صدر منتخب ہو گئے تھے اس لیے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس مسئلے پر بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتے تھے۔

اگرچہ کانگریس میں مختلف گروہ ان کے وزیرِ اعظم بننے کے خلاف بھی نہیں تھے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انھیں اس لیے فراموش کیا جاتا رہا کیونکہ وہ گاندھی خاندان سے نہیں تھے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گذشتہ برس بی جے پی نے پرنب مکھرجی کو بھارت رتنا ایوارڈ سے نوازتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ انھیں گاندھی خاندان کا فرد نہ ہونے کی وجہ سے وہ چیزیں نہیں ملیں جن کے وہ حقدار تھے۔

اس سے ایک سال قبل انھیں آر ایس ایس کی ایک تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی بلایا گیا تھا۔ اکثر لوگوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف سے دی جانے والی عزت کو بھی اسی طرح دیکھا کہ یہ عزت بھی ان کی اپنی جماعت کانگریس کو دینی چاہیے تھی جو اس نے نہیں دی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی بیٹی شرمیتھا مکھرجی نے ان کے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔

آر ایس ایس کے پلیٹ فارم سے ناقابل فراموش تقریر

پرنب مکھر جی

،تصویر کا ذریعہRSS

لیکن پرنب مکھرجی جیسے دانا سیاستدان جانتے تھے کہ انھوں نے آر ایس ایس کے پلیٹ فارم سے کیا پیغام دینا ہے۔ 7 جون 2018 کو ناگ پور میں آر ایس ایس کے صدر دفتر سے جو تقریر پرنب مکھرجی نے کی وہ ناابلِ فراموش ہے۔

انھوں نے قوم، قومیت اور وطن پرستی کے نظریے پر بات کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ پلیٹ فارم کوئی بھی ہو، ان کی سوچ اور نظریے میں کوئی فرق نہیں آیا۔

انھوں نے انڈیا کی حقیقی قوم پرستی پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ 'انڈیا کی قوم پرستی کسی ایک زبان، اور مذہب تک محدود نہیں ہے۔ ہم 'واسودیو کتمباکم' (دنیا ایک خاندان ہے) کے ماننے والے ہیں۔ انڈیا کی عوام 122 سے زیادہ زبانیں بولتی ہے اور 1600 بولیاں۔ یہاں سات اہم مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں، اور وہ سب ایک ہی نظام، ایک جھنڈے اور ایک انڈین شناخت کے ساتھ رہتے ہیں۔'

پرنب مکھرجی نے کہا 'ہم اس سے متفق ہوں یا نہ متفق ہوں لیکن ہم اپنے نظریاتی تنوع کو دبا نہیں سکتے۔ عوام میں 50 سال گزارنے کے بعد میں کہہ رہا ہوں کہ میجوریٹیرین ازم یا اکثریت کی حکمرانی پر یقین، کئی زبانوں کا استعمال، برداشت اور جامع ثقافت ہمارے ملک کی روح ہے۔'

سابق صدر نے اس بات پر زور دیا کہ تنوع میں اتحاد ہی انڈیا کی صحیح شناخت ہے۔

'نفرت اور عدم برداشت سے ہماری قومی شناخت کو خطرہ ہے۔ جواہر لال نہرو نے کہا ہے کہ انڈین قوم پرستی میں ہر قسم کے تنوع کے لیے جگہ موجود ہے۔ انڈین قوم پرستی میں سبھی شامل ہیں۔ اس میں ذات، مذہب، نسل اور زبان کی بنیادوں پر کوئی امتیاز نہیں۔‘

سیاسی زندگی کا آغاز

INDRA GHANDHI AND PARNAB

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوہ اندرا گاندھی کو اپنا استاد اور رہنما مانتے تھے

84 سالہ پرنب مکھرجی 11 دسمبر 1935 کو مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں میراتی میں ایک معمولی سے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مقامی کانگریس رہنما اور آزادی کے لیے لڑنے والے ایک جنگجو تھے۔

انھوں نے کولکتہ یونیورسٹی سے تاریخ اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا اور اسی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔

اس کے بعد انھوں نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کالج کے استاد اور صحافی کے طور پر کیا۔

مزید پڑھیے

پرنب مکھرجی کا سیاسی سفر 34 سال کی عمر میں 1969 میں شروع ہوا جب وہ راجیا سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ ان کا سیاسی سفر اندار گاندھی کی زیرِ نگرانی جاری رہا اور پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

لیکن 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد انھیں ایک بڑا دھچکہ ضرور لگا جب اگلے وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے انھیں اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا۔

پرنب مکھرجی اپنی کتاب 'دی ٹربیولنٹ ایئرز 1996۔1980' میں اس واقع کو یاد کرتے ہیں۔ 'میں کال کا انتظار کرتا رہا۔ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ راجیو مجھے کابینہ میں شامل نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی میں نے ایسی کوئی افواہیں سنی تھیں۔ جب مجھے پتہ چلا کہ میں کابینہ میں شامل نہیں ہوں، تو مجھے بہت دھچکہ لگا، میں غصے میں تھا۔ مجھے اس پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔'

مشکل دن

پنب مکھر جی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Pranab Mukherjee

پرنب مکھرجی کو مزید برے وقت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب انھیں چھ سال کے لیے جماعت سے معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب انھوں نے 'السٹریٹڈ ویکلی' جریدے کے ایڈیٹر پرتیش نندی کو ایک انٹرویو دیا۔

پارٹی سے اپنی معطلی کے متعلق سابق صدر لکھتے ہیں کہ 'جس طرح انھوں (راجیو گاندھی) نے غلطیاں کیں اسی طرح مجھ سے بھی ہوئیں۔ دوسروں نے انھیں میرے خلاف بھڑکایا اور میرے خلاف ان کی رائے پر اثر انداز ہوئے۔ ان کے خیالات قبول کر لیے گئے لیکن میری نہ سنی گئی۔ میں بھی اپنی مایوسی پر کنٹرول نہیں کر سکا۔'

اگرچہ وہ 1988 میں کانگریس پارٹی میں واپس آ گئے لیکن ان کی قسمت 1991 میں اس وقت بدلی جب کانگریس نے پارلیمانی انتخابات جیت لیے اور پی وی نراسیمہا راؤ وزیرِ اعظم بنے۔

سنہ 2004 میں کانگریس جماعت پھر برسرِ اقتدار آئی اور یہ سامنے آیا کہ سونیا گاندھی وزیرِ اعظم نہیں بننا چاہتیں۔ پرنب مکھرجی کا نام وزیرِ اعظم کے لیے لیا جانے لگا۔ اپنی کتاب 'دی کولیشن ایئرز 2012 -1995' میں پرنب مکھرجی لکھتے ہیں کہ 'اس بات کی کافی توقع تھی کہ سونیا گاندھی کے وزیر اعظم بننے سے انکار کے بعد میں وزیرِ اعظم بننے کا اگلا انتخاب ہوں گا۔'

اگرچہ پرنب مکھرجی وزیرِ اعظم نہیں بن سکے، لیکن بطور وزیرِ دفاع اور وزیرِ مالیات، وہ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے بہت نزدیک رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ پارٹی کی بھی خدمت کرتے رہے اور 'مسٹر ڈیپینڈ ایبل' (قابلِ بھروسہ) کے طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھی۔ انھوں نے اس کا ذکر اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔

صدر بننے کے بعد انھوں نے اپنی حیثیت کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور 2014 میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد مودی حکومت سے بھی اچھے تعلقات استوار رکھے۔

اپنی زندگی کی آخری سانس تک پرنب مکھرجی ایک سچے جمہوریت پسند رہے۔ آج کی دنیا میں جہاں سیاسی رہنما نظریات سے قطعہ نظر اپنی سیاسی وابستگیاں بدلتے ہوئے آنکھ بھی نہیں جھپکتے، سابق صدر نے اپنا ورثہ اور مخصوص شناخت چھوڑی ہے۔

parnab mukherjee

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Pranab Mukherjee