سچن پائلٹ کی بغاوت: راجستھان سے کانگریس کے رہنما کا سیاسی قدم یا بی جے پی کے ’احسان کا بدلہ‘؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, صحافی، نئی دہلی
انڈیا کی ریاست راجستھان، جو کہ اپنے گرم موسم کے لیے مشہور ہے، ان دنوں سیاسی حرارت کے باعث موضوع بحث ہے۔
اگر آپ انڈیا سے شائع ہونے والے اخبارات یا ویب سائٹس پر ایک نظر ڈالیں یا پھر نیوز چینلز کھول کر دیکھیں تو آپ کو کورونا وائرس کے علاوہ جو چیز سب سے موضوع بحث ملے گی وہ ہے اس ریاست میں جاری سیاسی اتھل پتھل۔
ملک کی دوسری شمالی ریاستوں (مثلاً اتر پردیش اور بہار وغیرہ) کی نسبت وہاں کا سیاسی ماحول عام طور پر ٹھنڈا رہتا ہے اور انتخابات کے وقت ہی موضوع بحث بنتا ہے۔
ریاست کی حالیہ سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہاں ہر پانچ سال میں ایک پارٹی کی حکومت جاتی ہے تو دوسری کی آتی ہے اور یہ سلسلہ نوے کی دہائی سے چل رہا ہے۔ لیکن اس وقت معاملہ دو سیاسی جماعتوں (بی جے پی اور کانگریس) کے درمیان کا نہیں بلکہ ایک ہی پارٹی (کانگریس) کے اندر مچے گھمسان کا ہے۔
یہ گھمسان گذشتہ اتوار کے روز اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب راجستھان کانگریس کے اس وقت کے صدر اور نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ نے ریاست کے دارالحکومت جے پور سے دلی پہنچ کر یہ دعویٰ کیا کہ بہت سارے ایم ایل اے ان کے ساتھ ہیں اور پارٹی ہائی کمان کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ان کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنایا جانا چاہیے۔
سچن پائلٹ کی اشوک گہلوت کے خلاف ’بغاوت‘
اطلاعات کے مطابق دلی میں ان کے ساتھ 10 ایم ایل اے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی حمایت میں 30 کانگریسی ایم ایل اے ہیں اور جن کی حمایت کے بغیر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کی ریاستی حکومت اقلیت میں ہے۔
انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پیر کے روز وہ اور ان کے حامی پارٹی کی قانون سازی کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے پائلٹ پر بی جے پی کے ساتھ مل کر ان کی حکومت کو گرانے کا الزام عائد کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غور طلب ہے کہ ریاستی پولیس نے سچن پائلٹ کو رواں ماہ جولائی کی 10 تاریخ کو ایک نوٹس بھیجا تھا، جس میں پائلٹ سے کہا گیا تھا کہ وہ خود پر ایم ایل ایز کے پوچنگ (غیر قانونی طریقے سے اپنے ساتھ ملانے) کے الزام کا جواب دیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ راجستھان میں حالیہ سیاسی بحران یہیں سے شروع ہوا اور دن بہ دن معاملہ سلجھنے کے بجائے بگڑتا چلا گیا۔
یہاں تک کہ لوگوں کو لگا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت اب گئی کہ تب گئی۔
اس صورتحال کے پیش نظر پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ نے دونوں کانگریس لیڈران میں صلح کی کوشش بھی کی لیکن وہ ناکام رہے۔ پارٹی کی قانون سازی کی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے پائلٹ کو کانگریس کے ریاستی صدر اور نائب وزیر اعلیٰ کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کے دو حامی ریاستی وزیروں کو بھی کابینہ سے نکال دیا گیا ہے۔
دریں اثنا بدھ کے روز ریاستی اسمبلی کے سپیکر سی پی جوشی نے پائلٹ سمیت 19 ایم ایل ایز کو شو کاز نوٹس بھیج کر جمعے تک ان کا جواب طلب کیا تھا۔ ساتھ ہی کانگریس پارٹی کے جنرل سیکریٹری اویناش پانڈے کے مطابق پارٹی نے میٹنگ میں شریک نہ ہونے والے ایم ایل ایز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور مناسب جواب نہ ملنے پر انھیں پارٹی سے برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔
جمعرات کے روز دوپہر میں سچن پائلٹ اور ان کے حامیوں نے اس شو کاز نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے ریاستی ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ کورٹ نے جمعے کو اسمبلی سپیکر پر باغی ایم ایل ایز کے خلاف کوئی فیصلہ لینے پر منگل کی شام تک پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سچن پائلٹ کا کشمیری تعلق
عہدوں سے برطرف کیے جانے کے بعد پائلٹ نے کہا ہے کہ وہ اب بھی کانگریس میں ہیں اور ان کا بی جے پی میں شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اسی اثنا میں پائلٹ کی بغاوت کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ آخر سچن پائلٹ نے یہ وقت کیوں منتخب کیا اور ان کے باغیانہ تیور کا اصل راز کیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک افواہ جسے خوب تقویت مل رہی ہے وہ یہ ہے کہ دراصل پائلٹ ایسا بی جے پی کی طرف سے اپنے سسر اور سالے پر کیے گئے ’احسان کا بدلہ‘ چکانے کے لیے کر رہے ہیں۔
پائلٹ کی شادی جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بیٹی سارہ عبداللہ سے ہوئی ہے۔ اسی لیے لوگوں کا کہنا ہے وہ فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی رہائی کے عوض ایسا کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور انھیں ایک لمبا عرصہ قید میں گزارنا پڑا تھا۔
تاہم کانگریس پارٹی اور پائلٹ اور گہلوت کی سیاست پر نظر رکھنے والے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ پائلٹ اور عبداللہ خاندان کے درمیان رشتے اتنے خوش گوار بھی نہیں کہ پائلٹ ان کے لیے اپنا سیاسی کیریئر قربان کر دیں۔
یاد رہے کہ فاروق عبداللہ اپنی بیٹی سارہ اور سچن پائلٹ کی شادی کے حق میں نہیں تھے اور ان کی طرف سے کوئی شادی میں ظاہری طور پر شریک بھی نہیں ہوا تھا۔
کانگریس کی سیاست پر کئی کتابوں کے مصنف اور سینیئر صحافی رشید قدوائی کے بقول اس دعوے میں حقیقت کم اور مبالغہ زیادہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سچ تو یہ ہے کہ عبداللہ خاندان کو سچن پائلٹ سے کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی دونوں کے درمیان تعلقات اتنے اچھے ہیں کہ اس کے لیے پائلٹ اپنا سیاسی کیریئر داؤ پر لگا دیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پائلٹ اور گہلوت کے درمیان یہ رسہ کشی ایک لمبے عرصے سے چل رہی ہے جس نے حالیہ دنوں میں زور پکڑ لیا ہے۔
جے پور کی صحافی شروتی جین کا بھی کہنا ہے کہ یہ دونوں کے درمیان کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک لمبے عرصے سے چل رہا تھا۔
قدوائی اور جین کے مطابق حالیہ کچھ دنوں میں ان سیاسی رہنماؤں کے درمیان معاملہ خراب ہوتا گیا اور ایسا اس لیے بھی ہوا کیونکہ کانگریس ہائی کمان کوئی واضح یا بولڈ فیصلہ لینے سے گریز کرتی رہی۔ ان کے مطابق یہ معاملہ دونوں کی انا کا مسئلہ بن گیا ہے، جس میں کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
رشید قدوائی کا کہنا ہے کہ بظاہر اس کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا کیوں کہ ’دونوں منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہNURPHOTO
پائلٹ بی بی سی کے ساتھ انٹرن شپ بھی کرچکے ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم بی اے گریجویٹ سچن پائلٹ سیاست میں نہیں آنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں کہا ہے کہ وہ کارپوریٹ ورلڈ میں جانا چاہتے تھے، تاہم ان کے والد کے اچانک انتقال کے بعد انھوں نے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سن 2000 میں ان کے والد راجیش پائلٹ کا ایک کار حادثے میں انتقال ہو گیا، اس وقت وہ تقریباً 23 سال کے تھے۔ انہیں سنہ 2002 میں کانگریس پارٹی کی ممبر شپ ملی اور 2004 میں پہلا انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئے۔
سیاست میں قدم رکھنے سے قبل انھوں نے بطور ’نیوز انٹرن ‘ بی بی سی کے دہلی بیورو میں کام بھی کیا۔
سچن کے والد راجیش پائلٹ کانگریس کے سینئر لیڈر تھے اور کئی بار مرکزی وزیر رہے۔ البتہ وہ روایتی سیاسی رہنما یا کارکن نہیں تھے کیونکہ سیاست میں انھوں نے تقریباً 35 برس کی عمر میں انڈین ائیر فورس سے استعفیٰ دے کر حصہ لیا۔ بطور ’بامبر پائلٹ‘ وہ 1971 کی پاک انڈیا جنگ میں بھی شامل ہوئے۔
رشید قدوائی کا کہنا ہے کہ پائلٹ بننے سے پہلے سچن کے والد نے دہلی کے 'لٹینس زون' میں دودھ بیچنے کا کام بھی کیا۔ اس بات کا ذکر پریا سہگل کی کتاب ’دی کنٹینڈرز: ہو وِل لیڈ انڈیا ٹومارو‘ میں شامل سچن پائلٹ کے پروفائل میں بھی ملتا ہے۔ اسی کتاب میں اس بات کا بھی ذکر ملتا ہے کہ 1997 میں راجیش پائلٹ نے اپنے پارٹی کے سینئر رہنما سیتا رام کیسری کے خلاف کانگریس صدر کے عہدے کے لیے انتخاب بھی لڑا تھا جس میں وہ ناکام رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہVishal Bhatnagar/NurPhoto via Getty Images
پائلٹ اگر کانگریس چھوڑتے ہیں تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
سچن پائلٹ سے متعلق جس بات پر زیادہ تر لوگ متفق ہیں وہ یہ ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں میں بحیثیت ریاستی کانگریس چیف انھوں نے بہت محنت کی ہے اور پارٹی میں جوش و خروش پیدا کرنے کا کام کیا ہے۔
اس سلسلے میں انتخابی تجزیہ کار آشیش رنجن کا کہنا ہے کہ ’یہ بات صحیح ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں میں پائلٹ نے بہت محنت کی ہے البتہ کامیابی کا پورا کریڈٹ ان کو دینا مناسب نہیں ہوگا۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ کہنا کہ صرف ان کی بدولت 2018 میں کانگریس اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کر پائی اس لیے غلط ہوگا کیونکہ راجستھان میں ہر پانچ سال بعد لوگ ایک پارٹی کو ہٹا کر دوسری پارٹی کو چن لیتے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سچن پائلٹ کا اتنا جادو تھا تو 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس کو کامیابی کیوں نہیں دلوا پائے؟‘
سنہ 2019 کے عام انتخابات میں کانگریس راجستھان میں 25 میں سے ایک بھی سیٹ پر کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
موجودہ سیاسی بحران اور کانگریس پر اس کے اثرات کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اگر پائلٹ کو کانگریس چھوڑنی پڑی یا نکالے گئے تو ریاست میں پارٹی پر اس کے طویل مدتی اثرات اچھے نہیں ہوں گے کیونکہ گہلوت کے علاوہ وہی ایک مقبول کانگریسی لیڈر ہیں۔
تجزیہ کار آشیش رنجن کا کہنا ہے کہ 'خود پائلٹ کے لیے بھی کانگریس چھوڑنا بہت فائدے کا سودا نہیں ہوگا۔ کیونکہ بی جے پی ان کو کسی بھی قیمت پر وزیر اعلیٰ نہیں بنائے گی۔ البتہ وہ کانگریس میں رہتے ہیں تو وہ یقیناً اگلے سی ایم ہوں گے۔‘
ان کی رائے میں جلد بازی میں اٹھایا گیا کوئی قدم دونوں کے لیے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پائلٹ کے لیے اپنی نئی پارٹی لانچ کرنا بہت آسان نہیں ہوگا کیونکہ دوسری ریاستوں کی طرح راجستھان میں ایسا کوئی رجحان نہیں رہا ہے۔ساتھ ہی اس کے لیے ریاست میں ایسی کوئی چیز بھی نہیں جس کو ایشو بنا کر وہ کوئی بڑی عوامی حمایت حاصل کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کتنا آسان یا مشکل ہوگا بی جے پی کا ہاتھ تھامنا؟
ایک سوال جو بار بار پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سچن پائلٹ بھی جیوتی رادتیہ سندھیا کی طرح کانگریس کا دامن چھوڑ کر بی جے پی کا ہاتھ تھام لیں گے؟
اس سوال کے جواب میں رشید قدوائی کہتے ہیں کہ ’پائلٹ اور سندھیا میں کئی بنیادی فرق ہیں۔ پہلا یہ کہ، سندھیا کی طرح پائلٹ خاندان کبھی بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کے قریب نہیں رہا ہے، اس لیے ان کے لیے اس ماحول میں جا کر کام کرنا بہت مشکل کام ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ سندھیا کے نسبت پائلٹ کا ایک 'ماس بیس' یا عوامی مقبولیت ہے اور وہ ان کی سیاسی نظریات کی وجہ سے ہے، جو کہ بی جے پی میں جانے کی وجہ سے انہیں بدلنا پڑے گا اور جس کی وجہ سے ان کی سیاسی زمین پر بھی اثر ہو سکتا ہے۔‘
تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پائلٹ اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر گہلوت حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو جائیں اور بی جے پی میں شامل ہوئے بغیر ان کے باہری سپورٹ سے نئی حکومت بن جائے۔ اس طرح سے سانپ بھی مرجائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔‘
انڈیا کی سیاست میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کوئی دو تین دہائیوں سے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے باوجود سیکولر بنے رہنے کی روایت ہے۔ بہار کے رام ولاس پاسوان اور نتیش کمار، کشمیر کے فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے لے کر یو پی کی مایاوتی اور مغربی بنگال کی ممتا بنرجی اور کرناٹک کے ایچ ڈی کمارا سوامی تک اس پر عمل کر چکے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ راجستھان کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
ادھر مرکز کی بی جے پی حکومت کے کنٹرول والے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے گہلوت کے حامیوں کی جائیدادوں پر چھاپا مارنے کے علاوہ ان کے بیٹے ویبھو گہلوت سے ان کی کی ایک ہوٹل میں شراکت داری سے متعلق انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ (ای ڈی) کے اہلکاروں نے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب گہلوت کے حامیوں کی طرف سے آڈیو ٹیپس جاری کی گئی ہیں جن میں بظاہر پائلٹ کے حامی ایم ایل ایز مبینہ طور پر گہلوت کی حکومت کو گرانے کے لیے بی جے پی سے بات کر رہے ہیں۔
ان واقعات نے اس پورے معاملہ کو اور گرما دیا ہے۔










