چین کے ساتھ کشیدگی کے دوران نریندر مودی کے لیہہ دورے کے کیا معنی ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/AnuragThakur
چین اور انڈیا کی فوجوں کے درمیان 15 اور 16 جون کی درمیانی شب دست بدست لڑائی میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ کے علاقہ لیہہ کا اچانک دورہ کر کے چین، اپنی حزب اختلاف، فوج اور عوام کو بیک وقت مختلف پیغامات دینے کی کوشش کی ہے۔
چین اور انڈیا کے درمیان متازع لائین آف ایکچوئل کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی میں نریندر مودی کے لیہہ کے اس اچانک دورے کو انڈیا کے ذرائع ابلاغ میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی اہلکاروں اور بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں اس دورے نے چین کو سخت پیغام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لداخ کے علاقے وادی گلوان میں ایک کرنل سمیت بہار رجمنٹ کے 20 فوجیوں کی ہلاکت کے 17 دن بعد انڈیا کے وزیر اعظم نے اچانک اس علاقے کا دورہ کیا اور چین کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے والے زیر علاج فوجیوں سے بھی ملاقات کی۔
چین سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر نریندر مودی نے اپنی دو سابقہ تقریروں کی طرح لداخ میں فوجی جوانوں سے خطاب میں ایک مرتبہ بھی چین کا نام نہیں لیا۔
ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی تصاویر میں وزیر اعظم کو فوجی اہلکار سرحد پر حفاظتی اقدامات کی معلومات فراہم کرتے ہوئِے نظر آئے۔ ان کے ساتھ آرمی چیف جنرل نرونے اور سی ڈی ایس بیپین راوت دونوں موجود تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے وہاں فوج کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے دشمنوں نے آپ کی 'فائیر' (آگ) بھی دیکھی ہے اور آپ کی 'فیوری' (غصہ) بھی۔ چین کا نام لیے بغیر انھوں نے کہا کہ توسیع پسندی کا دور ختم ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ مئی میں شروع ہونے والی اس سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ فوجی سطح پر مذاکرات کے تین دور ہو چکے ہیں لیکن ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ اس دوران اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں کی طرف سے اس علاقے میں بہت بڑی تعداد میں فوجی اور ٹینکوں سمیت بھاری ہتھیار پہنچا دیے گئے ہیں۔
انڈیا کے ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق لداخ میں انڈیا نے دس بریگیڈ یا 45 ہزار فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے نامہ نگار سروج سنگھ کے مطابق وزیر اعظم کے خطاب سے ٹھیک پہلے کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے تین منٹ کی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'کوئی تو جھوٹ بول رہا ہے۔' ویڈیو میں لداخ کے لوگ وہاں کے حالات بیان کر رہے تھے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کا یہ قدم انڈین فوج کے جوانوں کا حوصلہ بلند کرنے والا ہے، لیکن دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی اس دورے کا اثر پڑے گا، ملک کی سیاست پر بھی اور ایل اے سی پر بھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کا اس طرح اچانک حالات کا جائزہ لینے کے لیے سرحد کے پاس پہنچنا ایک ساتھ کئی اشارے دیتا ہے۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا، وزیر اعظم کے اس دورے کو چین کے لیے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا ستمبر 2016 میں شمالی کمان کے سربراہ تھے، جب انڈیا نے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائک کا دعوی کیا تھا۔
پاکستان نے ہمیشہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اندر آ کر انڈین فوج کی طرف سے کسی قسم کی کوئی سرجیکل سٹرائیک کرنے کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھلے ہی یہ جگہ اس مقام سے بہت دور ہے جہاں چین اور انڈیا کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ پیش آئی تھی، لیکن یہ اسی علاقے میں آتا ہے۔ فی الحال وزیر اعظم جھڑپوں میں زخمی ہونے والے فوجیوں سے مل کر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن ان کے وہاں جانے سے چین کو یہ پیغام مل گیا ہو گا کہ انڈیا پورے معاملے کو بہت ہی زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
ڈی ایس ہوڈا کا یہ بھی خیال ہے کہ اس سے سرحد پر تعینات فوجیوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔ مشکل کی اس گھڑی میں جس ملک کے لیے وہ لڑ رہے ہیں، اس ملک کا وزیر اعظم ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
لداخ کی وادی گلوان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کو دونوں ممالک میں ایل اے سی کو بدلنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ دنوں انڈین میڈیا میں سیٹلائیٹ تصاویر کے ذریعے یہ بتایا گیا تھا کہ چین ایل اے سی پر جوں کا توں کھڑا ہے اور انڈیا کی تمام کوششوں کے باوجود بھی پیچھے نہیں ہٹا ہے۔
ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا کے مطابق یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حالات بہت نازک ہیں، آگے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، اور اس وجہ سے اس وقت حالات کو قابو میں رکھنے کی ذمہ داری وزیر اعظم کی ہے۔ اس دورے میں وہ اسی ذمہ داری کو پورا کرتے نظر آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی دور کرنے کے لیے مذاکرات پر اس کا کوئی اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے؟
اس سوال پر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا کہتے ہیں کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا کوئی بھی اثر انڈیا کو زمین پر دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ حکومت اپنی طرف سے ہر محاذ پر تیا ر دکھنا چاہتی ہے۔ اگر مذاکرات کا اثر مثبت ہوتا تو شاید وزیر اعظم کے وہاں جانے کی نوبت نہیں آتی۔
حالانکہ خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انڈیا اور چین بات چیت اور سمجھوتے سے سرحد پر کشیدگی کو دور کرنے کے لیے فوجی اور سفارتی سطح پر کوشش کر رہے ہیں۔ تب دونوں ممالک کو ایسے قدم نہیں اٹھانے چاہیں جن سے حالات مزید خراب ہوں۔
ملک میں سیاسی امور کے ماہرین بھی فوجی امور کے ماہرین سے اتفاق کرتے ہیں۔
سینیئر صحافی نیرجا چودھری کے مطابق انڈیا میں ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ آج ایل او سی پر پاکستان کی طرف سے جو کچھ ہو رہا ہے، پچھلے دنوں نیپال جس طرح سے انڈیا کے ساتھ پیش آیا، سب کے پیچھے چین کا ہی ہاتھ ہے۔ تو ظاہر ہے کہ معاملہ جتنا نظر آ رہا ہے اس سے زیادہ سنگین ہے۔ اس لیے انڈیا کو چین کے سامنے اور سنجیدگی سے پیش آنا ہوگا۔ نیرجا چودھری کے مطابق وزیر اعظم نے لیہہ جا کر وہی پیغام سب کو دیا ہے۔
انڈیا کی تیاری

،تصویر کا ذریعہTwitter/ PrasarBharti
لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اس کا اثر انڈین سیاست پر بھی پڑے گا۔ ان کے مطابق یہ بات تو طے ہے کہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ اچانک کیا۔ اس سے پہلے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ لیہہ جانے والے تھے لیکن ان کا دورہ جمعرات کو منسوخ ہو گیا تھا اور جمعہ کو خود وزیر اعظم ہی پہنچ گئے۔
نیرجا چودھری کا کہنا ہے کہ چین کو وزیر اعظم پیغام بھیج رہے ہیں کہ انڈیا کی تیاری پوری ہے۔ انڈیا اس سرحدی کشیدگی کو ہلکے نہیں لے رہا ہے۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف کو اپنے ساتھ لے جانے سے اس بات کو اور تقویت ملتی ہے۔
اگر صرف وزیر دفاع وہاں جاتے اور حالات کا جائزہ لیتے تو بات اور ہوتی۔ اب بات وزرا کی سطح سے اوپر اٹھ کر وزیر اعظم کی سطح پر آ گئی ہے۔ یہ بات اپنے آپ میں پورے معاملے کو بڑا اور سنجیدہ بنا دیتی ہے۔
نیرجا چودھری کہتی ہیں کہ وزیر اعظم کے اس دورے کو ہمیں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ایک دن پہلے دیے گئے بیان سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔ چین کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں ڈیفنس ایکوزیشن کاؤنسل کی وزیر دفاع کی سربراہی میں جمعرات کو میٹنگ ہوئی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس میں 38900 کروڑ روپے کی دفاعی خریداری کی منظوری دی گئی۔ اس ملاقات میں 21 مگ۔29 ہوائی جہاز خریدنے کے ساتھ 59 مگ۔29 جہازوں کو اپگریڈ کرنے کی منظوری دی گئی۔
اس کے علاوہ بارہ سوخوئی ایس یو۔30 ایم کے آئی ائیر کرافٹ کی خریداری کی بھی منظوری دی گئی۔ مگ۔29 کی خریداری پر 7418 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی، جو روس سے خریدا جا رہا ہے۔ سوخوئی ایس یو۔30 ایم کے آئی ہندوستان ایروناٹکس سے خریدا جائے گا جس پر 10730 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔
اس سے بھی صاف ہو جاتا ہے کہ انڈیا ہر محاذ پر پوری تیاری کر رہا ہے۔ وہ ساتھ میں یہ بھی کہتی ہیں کہ انڈیا ایک دن میں یہ سب حاصل تو نہیں کر لے گا لیکن ملک اس سمت میں بڑھ رہا ہے۔
اس دورے سے عوام میں یہ پیغام جائے گا کہ وزیر اعظم خود پوری تیاری کی نگرانی کر رہے ہیں، سب کچھ صرف وزیر دفاع نے حوالے نہیں چھوڑا ہے۔ وہ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انڈیا کے پہلے پہلے کے رویے اور اب کے رویے میں بہت فرق ہے۔
انڈین سیاست کے لیے اس کے کیا معنی ہیں
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
نیرجا چودھری کی مطابق اس سارے معاملے کو انڈیا کی اندرونی سیاست سے جوڑ کر دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے پندرہ جون کے بعد انڈین سیاست میں ہونے والی تمام پیش رفت پر غور کرنا ہوگا۔
انیس جون کو سرحدی تنازع پر ہونے والی کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ انڈیا کہ سرحد کو کسی نے عبور نہیں کیا۔ اس کے بعد سے کانگرس اور حزب اختلاف کی طرف سے اس طرح کا ایک بیانیہ بنایا گیا کہ حکومت کچھ چھپا رہی ہے یا پھر سو رہی ہے اور حکومت کو صورت حال کی سنجیدگی کا اندازہ نہیں۔
نیرجا چودھری کے خیال میں وزیر اعظم لیہہ جا کر اس بات کو بھی غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اختلاف، خاص طور پر کانگرس کو بھی اس کے ذریعے ایک پیغام دینے کی کوشش ہے۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ اس بیان سے وزیر اعظم کا جو امیج بنا وہ خود لیہہ جا کر اسے بھی توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں اس کے لیے حزب اختلاف کے بیان کا انتظار کرنا ہوگا۔
پندرہ، سولہ جون کے بعد سے انڈین حکومت نے چین کے خلاف کئی فیصلے کیے ہیں۔ جیسے کہ چین کے 59 ایپس پر پابندی لگانا، کئی ریل اور دوسرے منصوبوں کے معاہدے منسوخ کرنا، تاہم تمام معاشی تعلقات ایک دم سے توڑنا انڈیا کے لیے تھوڑا مشکل فیصلہ ضرور ہوگا۔ اس لیے نیرجا چودھری کا خیال ہے کہ انڈیا قسطوں میں چین کو پیغام بھیج رہا ہے۔








