سری لنکا کے ’چون پان والے رکشے‘ جو موسیقی والی ڈبل روٹی فروخت کرتے ہیں

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہLakrunwan Wanniarachchi/Getty Images

،تصویر کا کیپشنکئی سالوں تک بیتھو ون کی موسیقی کی دھن سری لنکا کی تازہ ڈبل روٹی کی علامت بنی رہی
    • مصنف, زینارا رتھنے اکے
    • عہدہ, بی بی سی

سری لنکا میں کئی برسوں سے بیتھو وین کی دھن کا مطلب روٹی تھا۔ رکشوں پر فروخت کرنے والے طریقے کے ختم ہو جانے کے بعد اب وبا کی وجہ سے وہ گلیوں میں لوٹ آئے ہیں۔

میرا اُس وقت بچپن تھا جب میں نے پہلی مرتبہ یہ موسیقی کی دھن سنی۔ یہ ایک کچی سڑک کے کنارے سے سنائی دیتی تھی جہاں ایک شخص 'ٹک ٹک' یعنی اپنے رکشے پر ڈبل روٹیاں لاد کر فروخت کرنے لاتا تھا۔ ٹک ٹک دیگر تین پہیوں والی موٹرگاڑی سے ذرا مختلف تھا۔ اس کے پچھلے حصہ میں ایک کیبینٹ تھی جس پر شیشہ لگا ہوتا تھا جس کے اندر بہت ہی نفاست کے ساتھ تنور میں پکی ہوئی ڈبل روٹیاں اور بیکری کی تیار شدہ دیگر اشیا سجا کر رکھی ہوتی تھیں۔ میرے ابا نے مجھے بتایا تھا 'یہ چون پان والا ہے۔'

سنہالا زبان میں 'چون پان' کا مطلب کچھ 'موسیقی والی ڈبل روٹی' جیسا بنتا ہے۔ میرے بچپن میں تنور میں تازہ تازہ تیار ہونے والا 'کمبولا' بن ہم چون پان والے سے خریدتے اور شام کی چائے کے ساتھ مزے سے کھاتے تھے۔ یہ پھولا ہوا اور مکھن سے بھرا ہوا گھر کا تازہ تیار شدہ بن جس پر چینی چھڑکی ہوئی ہوتی تھی اسے اس طرح مروڑا جاتا تھا کہ اس کی مگر مچھ سے ملتی جلتی شکل بن جاتی تھی۔

آدھا بن میرا ہوتا ہے اور آدھا میرے ابا کا۔

دارالحکومت کولمبو سے شمال مشرق کی جانب 120 کلو میٹر دور ایک گاؤں 'کورونے گالہ' میں ہمارے خاندانی چاولوں کے کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک گرد آلود کچی سڑک بنی ہوئی تھی، دن میں دو مرتبہ'چون پان' رکشا موسیقی بجاتا ہوا وہاں روٹیاں اور ڈبل روٹیاں فروخت کرتے ہوئے گزرتا تھا۔ صبح سویرے ساڑھے چھ بجے لوگ سڑک پر اس کے ارد گرد جمع ہوجاتے اور مچھلی کے بن اور بیکری کے بنے ہوئے گوشت کے رولز خریدتے۔ پھر شام کو چار بجے چائے کے ساتھ کھائے جانے والے میٹھے بن لاتا۔ ان گول شکل کے بنوں میں مکھن ہوتا اور ان پر کشمش لگی ہوتی۔ دوسروں میں جام بھرا ہوتا اور ان پر چینی چھڑکی ہوتی۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہproxyminder/Getty Images)

،تصویر کا کیپشنٹک ٹک' رکشے سے بجنے والے موسیقی کی آواز کے ساتھ سری لنکا کے گاؤں میں پرورش پانی والی یہ مصنفہ بی تھو ون کی موسیقی دن میں دو مرتبہ ضرور سنتی تھی۔

کئی برسوں تک اس رکشے میں ایک ہی طرح کی موسیقی بجتی رہی، یہ چھوٹا سے ریکارڈ کیا ہوا ایک موسیقی کا ایک ٹکڑا تھا۔ جب میں دور سے بھی اس روٹی والے کی موسیقی کی ہلکی سی آواز بھی سنتی تھی تو میں گرد آلود کچی سڑک کی جانب دوڑتی اور اپنے ابا کو آواز دیتی۔ کئی برس بعد ایک موسیقی کی کلاس کے دوران مجھے پتہ چلا کہ جس موسیقی کی دھن کو میں سری لنکا میں اپنے بچپن میں 'چون پان موسیقی' کہتی تھی وہ دراصل بیتھو ون کی 1810 کی کلاسیکی دھن 'فر ایلیس' ہے۔

تو پھر یورپ کے ملک آسٹریا کی ایک کلاسیکل موسیقی کی ایک دھن کس طرح سری لنکا میں بیکری کی تازہ تازہ بنائی گئی اشیا کی علامت بنی۔

جب سنہ 2000 کی دہائی میں ٹک ٹک رکشا سری لنکا میں بہت زیادہ مقبول ہوتا تھا تو اس وقت کئی ایک بیکری والے اپنی تیار کی گئی کھانے کی اشیا تین پہیوں والے رکشا میں رکھ کر دور دراز بستیوں میں بیچنے کے لیے لے جایا کرتے تھے۔ یہ تقریباً وہی زمانہ تھا جب موبائیل فون بھی بہت زیادہ مقبول ہو رہے تھے۔ جس طرح ایک آئیس کریم بیچنے والی گاڑی موسیقی کی کوئی دھن بجا کر لوگوں کو متوجہ کرتی ہے، اسی طرح ان بیکری کی اشیا فروخت کرنے والوں نے بھی اپنے موبائل فونز کی رنگ ٹون والی موسیقی کو ایک لاؤڈ سپیکر پر بجانا شروع کردیا تاکہ مقامی لوگوں کو پتہ چل جائے کہ 'چون پان رکشے والا' آگیا ہے۔

ظاہر ہے موجودہ صدی کے اوائل میں زیادہ مقبول ہونے والی رنگ ٹونز میں بیتھو ون کی معروف دھن 'فر ایلیس' بھی تھی۔ اس لیے سری لنکا میں جب بھی اس دھن کو سنتے تو ہم سمجھ جاتے کہ اب اس موسیقی سے جڑی بیکری کی اشیا بیچنے والا رکشا پہنچنے کو ہے۔ اس گرم مرطوب جزیرے میں جوان ہوتے ہوئے بیتھو ون کی موسیقی کی ایک دھن کا مطلب ڈبل روٹی تھا۔

ہائی سکول کے لیے کینڈی شہر منتقل ہوجانے کے بعد بھی میں تقریباً روز ہی 'فر ایلیس' سنتی۔ یہاں تک کہ اگر مجھے سکول جانے میں دیر ہو رہی ہوتی اور میری ٹائی گلے میں ابھی ڈھیلی ہوتی اور میرے بالوں کی دو چُٹیوں میں سفید ربن بھی بندھے رہ جاتے، میں تب بھی 'چون پان رکشے والے' کی جانب صبح والے مچھلی کے بن، مسالے دار آلو اور کٹی ہوئی سبزی لینے پہنچ جاتی، یہ مجھے ادرک کی چائے کے ساتھ بہت مزیدار لگتے تھے۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چھ برس پہلے میں سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو منتقل ہوگئی۔ میں نے یہاں آکر 'چون پان والے رکشے' سے موسیقی کی وہ آواز نہیں سنی ہے جس موسیقی کو سنتے ہوئے میں بڑی ہوئی۔

سری لنکا کے معروف موسیقی والی بیکری کی اشیا بیچنے والے رکشے اب پھر سے لوٹ آئے ہیں، مگر اس کی ایک عجیب وجہ ہے: کورنا وائرس کی وبا۔

کولمبو کی ایک بیکر پدمنی مارا سنگھے کہتی ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب یہ ایک فیشن ہے، بلکہ ایک 'سٹیٹس سمبل' بھی ہے، کہ بیکری کی تیار کردہ کھانے کی اشیا کسی مشہور بیکری سے خریدی جائیں بجائے اس کہ کہ انھیں کسی رکشے سے خریدا جائے۔ اس کی نتیجے میں سری لنکا کے طول و عرض میں بکنے والی 'موسیقی والی ڈبل روٹی فروخت کرنے والے رکشے' اب تقریباً غائب ہو گئے ہیں۔

جیسا کہ ماراسنگھے نے بتایا اب شہر میں رہنے والے امراء یہ سمجھتے ہیں کہ معروف بیکریوں کی دوکانوں سے فروخت ہونے والی ڈبل روٹی رکشے پر بکنے والی ڈبل روٹی سے زیادہ بہتر ہوتی ہے لیکن ماراسنگھے کہتی ہیں کہ 'لیکن چون پان والی اشیا گھر کی تیار شدہ ہوتی ہیں۔ یہ فیکٹریوں میں بہت زیادہ تعداد میں بننے والی مصنوعات سے زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔'

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہAmalini De Sayrah

،تصویر کا کیپشنچون پان والے رکشے جو کبھی سری لنکا میں جگہ جگہ دیکھے جاسکتے تھے اب تقریباً غائب ہو چکے ہیں

وہ مزید کہتی ہے کہ لوگ چون پان والی مصنوعات کے بارے میں یہ شکایت کرتے تھے کہ وہ مہنگی پڑتی تھیں کیونکہ ان کا نیٹ ورک چھوٹا تھا۔ ماراسنگھے کہتی ہیں کہ 'انھوں نے ان کی قیمت میں کمی کی اور ساتھ ہی اس کے سائز بھی چھوٹے کردیے تاک وہ کچھ منافع بھی کما سکیں۔ ایک مچھلی کے بن میں اب مچھلی کم ہوتی تھی یا کمبولا بن میں مکھن کم ہوتا تھا۔ اس لیے گاہکوں کی تعداد بھی کم ہو گئی۔'

پھر سنہ 2017 میں سابق حکومت نے موبائل بیکرز کے موسیقی بجانے پر پابندی عائد کردی تھی، جس سے یہ ختم ہوکر رہ گئیں۔ کچھ رکشاؤں نے سڑک پر موسیقی بجائے بغیر اپنی اشیا بیچنے کی کوشش کی لیکن منافع کمانے میں ناکام رہے۔ بی تھو ون کی موسیقی کے بغیر مقامی محلوں کے لوگ یہ نہیں جان سکتے تھے کہ بیکری کی تیار کردہ اشیا بکنے آئی ہیں، جس کی وجہ سے انھیں خریدنے والوں کا کوئی ہجوم بھی جمع ہی نہیں ہوتا تھا۔

حالیہ دنوں شہروں میں اور سیاحتی مرکزوں میں ڈیلیوری سروز کے ذریعے کھانے منگووانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ماراسنگھے کہتی ہیں کہ 'اب لوگ کسی فیشن ایبل جگہ سے مچھلی کا بن اوبر ایپس کے ذریعے منگوا لیں گے، اس کی وجہ سے چون پان کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔'

ماراسنگھے یہ مانتی ہیں کہ چون پار رکشے پر بیکری کی اشیا فروخت کرنے کا آئیڈیا انھیں بہت اچھا لگتا ہے، لیکن جب انھوں نے سنہ 2019 میں اپنی بیکری بنائی تو اس وقت تک ڈبل روٹی لے جانے والے رکشے مارکٹ سے غائب ہو چکے تھے۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہ Padmini Marasinghe

،تصویر کا کیپشنکورنا وبا کی وجہ سے سری لنکا نے موبائل گاڑیوں پر ڈبل روٹی کی ترسیل کرنے والوں کو ضروری کام کی فہرست کر لیا ہے۔

جب سے وائرس کی وبا ایشیا بھر میں پھیلی، سری لنکا کے جزیرہ میں مکمل طور پرلاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا تاکہ وبا پر قابو پایا جا سکے۔ حکومت نے ریستورانوں، بیکریوں اور تمام غیر ضروری ایشا کے کاروبار بند کردیے۔ مارا سنگھے کو بھی اپنی بیکری بند کرنا پڑی۔ لیکن حکومت نے گھروں پر تیار شدہ کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل کی اجازت دے دی۔

اب ان میں سے کئی موبائل بیکریاں فر ایلیس کی مو سیقی کی رنگ ٹون کے ساتھ اپنے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے واپس سری لنکا کی سڑکوں پر لوٹ آئی ہیں۔

مارا سنگھے نے کہا کہ 'میرے پاس اپنے ملازموں کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں تھے اس لیے میں نے چون پان رکشے چلانے کا فیصلہ کیا تاکہ بیکری کی تیارشدہ مصنوعات فروخت کی جا سکیں، کیونکہ حکومت نے ان اشیا کی ترسیل کو ضروری سروز کے طور پر تسلیم کیا تھا۔'

جب مارا سنگھے رکشا نہ ڈھونڈ سکیں تو ان کے شوہر نے اپنے کسی دوست سے ایک منی وین خرید کر کولمبو سے تقریباً 30 کلو میٹر دور ہنوالا قصبے میں اسے ایک چون پان والی گاڑی کی شکل میں تبدیل کردیا۔ ماراسنگھے نے کہا کہ 'ہم نے فر ایلیس کی دھن بجائی تاکہ لوگوں کو پیغام مل سکے کہ چون پان والا واپس آگیا ہے۔'

اب وہ اکیلی نہیں ہیں۔ اب اس طرح کی کئی موبائل بیکریاں سری لنکا کی سڑکوں پر واپس آگئی ہیں جن سے لوگ اپنی جانی پہچانی رنگ ٹون والی دھن سن سکتے ہیں اور روٹیوں اور ڈبل روٹیوں کو خریدنے کے لیے اپنے گھروں کے دروازوں پر آجاتے ہیں۔ درحقیقت، لوگوں نے راتوں رات اپنے چون پان رکشوں کو باہر نکالا، جھاڑ پونچھ کی اور ٹک ٹک کے ذریعے کھانے کی ان اشیا کی ترسیل کا ایک نیٹ ورک قائم کرڈالا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوگوں کو ان کی پسند کے بن مل سکیں۔

سری لنکا

،تصویر کا ذریعہKaveen Rodrigo

،تصویر کا کیپشنسری لنکا میں حکومت نے چون پان رکشاؤں کو اب ضروری خدمات کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اب یہ دوبارہ سے سڑکوں اور گلیوں میں نظر آنے لگ گئے ہیں۔

'کولمبو کی ایک صحافی امالینی سائرا کہتی ہیں 'ان کی نئی انداز میں تعریف ہونے لگی۔ ہمیں شاید یہ نہیں معلوم تھا اس کی کتنی قدر ہے، لیکن اب گھر پر پھنسے رہنے کی وجہ سے آپ کہیں جا بھی نہیں سکتے ہیں تو لوگوں کو چون پان کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا ہے۔'

ارون کوگیلان کووِڈ 19 کی روک تھام کے لیے ایک ٹاسک فورس میں رضاکار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ چون پان ڈرائیوروں کا ایک ضروری خدمت انجام دینے کے لیے ان کی واپسی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'بیکری کی تیار شدہ اشیا لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی ہوں تو لوگ گھروں سے باہر جانے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ لیکن ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ یہ لوگ اپنی زندگیوں کو ہمارے لیے خطرے میں ڈال رہے ہیں۔'

گذشتہ ماہ کرفیو میں نرمی کی گئی ہے، لیکن جزیرے پر رہنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لازمی کام کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں۔

میں اپنے آبائی گھر جہاں میں پلی بڑھی، اب میں وہاں رہ رہی ہوں، وہاں سات بجے ہر صبح چون پان کی آواز سے جاگتی ہوں۔ یہ رکشے والا فر ایلیس کا موسیقی بجاتے ہوئے وہاں سے گزرتا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد یہ آواز آہستہ آہستہ دور جاتی ہوئی گم ہوجاتی ہے۔ جب میں جاتی ہوں تو میرے ابا میری ڈبل روٹی لے چکے ہوتے ہیں۔ دوپہر کے وقت جب میں دور سے آتی ہوئی فر ایلیس کی آواز سنتی ہوں تو میں ابا کو آواز دیتی ہوں۔

مجھے ایسے لگتا ہے کہ میرا بچپن لوٹ آیا ہے، میں کلاسیکل موسیقی کی دھن اور سادہ سے اس بن کا انتظار کرتی ہوں جس پر چینی چھڑکی ہوتی ہے۔

آدھا بن میرا ہوتا ہے اور آدھا میرے ابا کا۔