’فیئر اینڈ لولی‘ کے نام میں تبدیلی کا اعلان: امریکہ میں تین پاکستانی سہیلیاں جنھوں نے ’فیئر کے بغیر لولی‘ کو ممکن بنایا

فیئر کے بغیر لولی!

،تصویر کا ذریعہInstagram/its.me.aditi

    • مصنف, شمائلہ جعفری
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

پاکستان ہو یا انڈیا اکثر نوجوان لڑکیاں اپنی رنگت نکھارنے اور خود کو گورا کرنے کے لیے کئی پاپڑ بیلتی ہیں۔ یوں تو بازار میں ’گورے پن‘ کی ڈھیروں مصنوعات موجود ہیں لیکن ’فیئر اینڈ لولی‘ کے نام سے بکنے والی کریم کا کوئی مقابلہ ہی نہیں رہا۔

یہاں تک کہ رنگت نکھارنے والی اکثر کریموں کو ’فیئر اینڈ لولی‘ کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے۔

لیکن اب اس مشہورِ زمانہ کریم بنانے والی کمپنی یونی لیور نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے اس کریم سے ’فیئر‘ یعنی ’گوری رنگت‘ کا لفظ ہٹا رہے ہیں۔

کمپنی نے اپنی مصنوعات سے رنگت کی سفیدی اور گورے پن سے جڑے دوسرے کئی لفظوں کا استعمال بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ’فیئر‘ کے بغیر ’فیئر اینڈ لولی‘ کریم کا نیا نام کیا ہوگا، یہ ابھی طے کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ جِلد کی حفاظت سے متعلق تمام مصنوعات کے اشتہارات اور پیکجنگ میں تبدیلی کا عمل پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے۔

حرا ہاشمی، انعم چندانی اور ماروی احمد
،تصویر کا کیپشنامریکہ میں تین پاکستانی سہلیاں جنھوں نے فیئر اینڈ لولی کے خلاف پٹیشن شروع کی۔ بائیں سے دائیں: حرا ہاشمی، انعم چندانی اور ماروی احمد

’یہ صرف سفید اور سیاہ فاموں کا معاملہ نہیں‘

رواں سال 9 جون کو امریکہ میں مقیم تین پاکستانی سہیلیوں نے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی تھی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ فیئر اینڈ لولی اور گورے پن کی تشہیر کرنے والی دوسری مصنوعات پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے۔

ہیوسٹن میں مقیم انعم چندانی کہتی ہیں کہ امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں چلنے والی ’بلیک لائیوز میٹر‘ یعنی ’سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہم ہیں‘ تحریک کے بعد سے وہ اور ان کی سہیلیاں کافی پریشان تھیں۔

’یہاں ایک نیا ماحول ہے، ایک نئی بحث چھڑ چکی ہے۔ مجھے لگا کہ بادامی رنگت والے ہمارے جیسے لوگ یہاں ایک طرف بیٹھ کر یہ تماشہ نہیں دیکھ سکتے کہ نسل پرستی سیاہ اور سفید فاموں کا آپسی جھگڑا ہے۔

’مجھے محسوس ہوا کہ ہمیں بھی گروہ کے طور پر اپنے معاشرتی رویوں میں سفید رنگت کو برتر سمجھنے کے خیال پر غور کرنا ہوگا۔ اور اسی غور و فکر کے دوران مجھے یہ احساس ہوا کہ سفید رنگت کی برتری کو بڑھاوا دینے میں رنگت گوری کرنے والی کریم خاص کر ’فیئر اینڈ لولی‘ کا بہت عمل دخل ہے۔‘

’خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی متاثر ہوئے ہیں‘

پھر انعم نے امریکہ کی دوسری ریاستوں میں مقیم اپنی دو دوستوں ماروی احمد اور حرا ہاشمی سے رابطہ کیا اور ایک آن لائن پٹیشن تیار کی جس میں یہ کہا گیا کہ فیئر اینڈ لولی گہری رنگت کے بارے میں کمتری کا احساس جگانے اور رنگت کی بنیاد پر تفریق کی حوصلہ افزائی کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

لہذا ان کا مطالبہ تھا کہ اس کریم کی تیاری بند کی جائے۔

یونی لیور کے سی ای او کے نام لکھی اس پٹیشن میں انعم، حرا اور ماروی نے کہا کہ ’فیئر اینڈ لولی‘ کے اشتہاروں میں گہری رنگت رکھنے والے افراد کو احساس کمتری اور اعتماد کی کمی کا شکار دکھایا جاتا رہا ہے اور لوگوں کو یہ باور کروایا جاتا رہا ہے کہ دنیا میں کامیابی کے لیے، یہاں تک کے اچھا جیون ساتھی پانے کے لیے، رنگت کا گورا ہونا ضروری ہے۔

فیئر کے بغیر لولی!

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں ’جِلد گوری کرنے والی كريموں‘ کا اشتہار کرنے والے بالی وڈ کے اداکاروں کو بھی ماضی میں تنقید کا سامنا رہا ہے

حرا ہاشمی کہتی ہیں کہ گہری رنگت کے خلاف تعصب سے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی متاثر ہوئے ہیں۔

’اس مہم کے دوران بہت سے مردوں نے ہمارے ساتھ اپنی کہانیاں شیئر کیں جب انھیں رنگت کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔

’ایک لڑکے نے بتایا کہ کس طرح اسے کرکٹ کھیلنے سے صرف اس لیے روکا جاتا رہا کہ اس کا رنگ کالا ہوجائے گا۔ اور یہ کہ وہ ’گلی کے لڑکوں‘ کی طرح لگے گا۔‘

انعم، حرا اور ماروی نے اس پٹیشن کی حمایت کے حصول کے لیے دن رات کوشش کی۔

اور 15 دنوں میں 94 ملکوں کے13 ہزار سے زیادہ افراد نے اس پٹیشن کی حمایت کی جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والی اور دوسری کئی نامور شخصیات شامل ہیں۔

اس پٹیشن کو دنیا کے کئی نامور جریدوں نے بھی سپورٹ کیا اور دو ہفتے میں ہی یونی لیور کا اعلان سامنے آگیا۔

’گوری رنگت والے حکمرانی کے لیے پیدا ہوتے ہیں‘

پاکستان میں خواتین نے یونی لیور کے اس اعلان کی حمایت کی ہے۔ مدیحہ جاوید کا کہنا تھا کہ ’نسل پرستی جیسے معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں یہ ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن ایسے فیصلوں کے اثرات نیچے تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ لوگ اس کو کیسے لیں گے۔‘

فیئر کے بغیر لولی!

،تصویر کا ذریعہManal Mirza

،تصویر کا کیپشنمنال مرزا ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے اپنے فن پاروں کے ذریعے خوبصورتی کے روایتی معیار کو چیلنج کیا ہے

بلاگر اجالا علی خان کہتی ہیں کہ ’یونی لیور کے اس فیصلے سے گوری رنگت اور خوبصورتی کے درمیان تعلق کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس قدم سے یہ نکتہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خوبصورتی صرف ایک رنگت سے نہیں جوڑی جاسکتی۔ ہر رنگت خوبصورت ہو سکتی ہے۔‘

فیئر اینڈ لولی کے خلاف مہم شروع کرنے والی خواتین کا خیال ہے کہ برصغیر میں گوری رنگت کی برتری کی سوچ اس علاقے کی سامراجی تاریخ سے جڑی ہے۔

ان کے مطابق چونکہ یہاں انگریز کئی صدیاں حکمران رہے اس لیے مقامی لوگوں میں یہ تاثر پختہ ہوا کہ شاید گوری رنگت والے ہی حکمرانی کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور وہی زندگی میں کامیابی اور خوشی پاسکتے ہیں۔

’کریم کے نام کی جگہ سوچ بدلنے کی ضرورت‘

بہت سی خواتین کا خیال ہے کہ کریموں کے نام بدلنے سے زیادہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ماہر تعلیم فریحہ یوسف کہتی ہیں کہ ’جس طرح نوجوان نسل پرستی کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں، اب لوگوں کو خوبصورتی سے متعلق اپنا محدود نکتہ نظر تبدیل کرنا ہوگا۔ جو ہو رہا ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔‘

اسی طرح سارہ ظفر کہتی ہیں کہ ’ہمیں خود کو اس وقت روکنا چاہیے جب ہم عام زندگی میں کالی کے ساتھ منحوس کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور گوری کے ساتھ ’خوبصورت‘ کا‘۔

’ہمیں اپنے اردگرد ایسی بات چیت کو روکنا ہوگا۔‘

اور عمیمہ احمد کہتی ہیں کہ ’برینڈ بدلنے سے زیادہ مائنڈ سیٹ (یعنی سوچ) بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

تاہم ’فیئر اینڈ لولی‘ کے خلاف مہم چلانے والی ماروی احمد کہتی ہیں کہ یونی لیور مارکیٹ لیڈر ہے، یعنی اس کی کریم کی فروخت سب سے زیادہ ہے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی دیکھا دیکھی رنگت گورا کرنے والی کریموں کے اور برینڈز بھی اپنی مصنوعات اور کاروباری رویے کو تبدیل کریں گے۔

’اور جب ایسا ہوگا تو ہی یہ ممکن ہوسکے گا کہ ہمارے معاشرے میں رنگت کی بنیاد پر نفرت کی زہریلی سوچ پھیلنے سے رُک جائے۔ اور ہماری آنے والی نسل کو یہ سن کر بڑا نہ ہونا پڑے کہ ’فیئر از ایکول ٹو لولی‘ یعنی گورا ہی خوبصورت ہے۔‘