انڈیا: جگناتھ 'رتھ یاترا' کا مطالبہ کرنے والا مسلمان کون ہے؟

جگناتھ رتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہSubrat Kumar

،تصویر کا کیپشنبرس کے آفتاب حسین اکانومکس میں گریجوئیشن کر رہے ہیں۔ انھوں نے انڈیا کی سپریم کورٹ میں دائر دو نظر ثانی درخواستوں میں کہا تھا کہ بھگوان جگناتھ کے جلوس کی صدیوں پرانی روایت کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے
    • مصنف, سبرت کمار پتی
    • عہدہ, بوونیشور، بی بی سی ہندی

کورونا وائرس کے خطرے کے باعث انڈیا کی سپریم کورٹ نے اٹھارہ جون کو ایک فیصلے میں بھگوان جگناتھ کے صدیوں پرانے سالانہ جلوس پر پابندی لگا دی تھی۔ لیکن اس فیصلے پر نظر ثانی کی متعدد اپیلیں کی گئیں جن میں ایک مسلمان شخص کی اپیل بھی شامل تھی۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے باعث انڈیا کی سپریم کورٹ نے اٹھارہ جون کو ایک فیصلے میں بھگوان جگناتھ کی صدیوں پرانے سالانہ یاترا (جلوس) پر پابندی لگا دی تھی۔

لیکن فیصلے پر نظر ثانی کی کئی اپیلوں کے بعد سپریم کورٹ نے چند شرائط کے ساتھ تاریخی رتھ یاترا کے انعقاد کی اجازت دے دی ہے۔ ویسے تو اس جلوس پر پابندی کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی کئی درخواستیں دائر کی گئ تھیں، لیکن سب سے زیادہ سرخیاں بٹورنے والی درخواست آفتاب حسین نامی ایک مسلمان شخص کی تھی۔

19 برس کے آفتاب حسین اکانومکس میں گریجوئیشن کر رہے ہیں۔ انھوں نے انڈیا کی سپریم کورٹ میں دائر دو نظر ثانی درخواستوں میں کہا تھا کہ بھگوان جگناتھ کے جلوس کی صدیوں پرانی روایت کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

آفتاب اپنی والدہ رشیدہ بیگم، والد امداد حسین اور چھوٹے بھائی انمول کے ساتھ ایٹا ماٹی گاوٴں میں رہتے ہیں۔

آفتاب کے نانا ملطان خان ہندو مذہب کی رامائین اور ہندو مذہب کی دیگر کتابوں کی روشنی میں مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک مندر بھی بنوایا ہے۔ آفتاب کے گھر میں بھی جگناتھ، بل بھدر اور دیوی سوبھدرا کی پوجا کی جاتی ہے۔ وہ جگناتھ کی تہذیب سے متعلق متعدد کتابیں پڑھ چکے ہیں۔

جگناتھ رتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہSubrat Kumar

آفتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہندو دیوتا کی پوجا کرنے کے لیے انھیں اور ان کے خاندان والوں کو مسلمانوں کی جانب سے کبھی کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔'

یاترا کی اجازت ملنے سے خوشی

آفتاب کا کہنا ہے کہ 'ذات اور مذہب سے پہلے میں اوڑیشا کا رہنے والا ہوں۔ جگناتھ اوڑیشا کے بڑے دیوتا ہیں۔ بھگوان جگناتھ سے ہی اوڑیشا کی شناخت ہوتی ہے۔ رتھ یاترا بند ہونے کی وجہ سے مجھے بہت دکھ ہوا تھا۔ مجھے لگا کہ سپریم کوریم کورٹ سے فیصلے پر نظر ثانی کی گزارش کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے جب اجازت دے دی تو مجھے جو خوشی ہوئی اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔'

جگناتھ رتھ یاترا کا مسلسل مطالبہ کرنے والے دیو پرساد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'آفتاب کو میں دوسرا سالبیگ مانتا ہوں۔'

سالبیگ اوڑیشا کے ایک مشہور شاعر تھے جو بھگوان جگناتھ کے لیے بھجن لکھنے اور انھیں گانے کے لیے مشہور ہیں۔

جگناتھ رتھ یاترا

،تصویر کا ذریعہSubrat Kumar

سالبیگ کا تعلق ایک مسلم خاندان سے تھا۔ لیکن بھگوان جگناتھ کے لیے ان کی محبت اتنی زیادہ تھی کہ اب انھیں بھگوان جگناتھ کے سب سے بڑے مرید کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد انھیں مندر کے نزدیک ہی دفنایا گیا۔

آفتاب بتاتے ہیں کہ 'میں کبھی کسی مندر نہیں گیا کیوں کہ مجھے مندر میں جانے کی اجازت نہیں ہے، لیکن میں اپنے گھر میں ہی جگناتھ کی پوجا کرتا ہوں۔'

آفتاب گزشتہ آٹھ برسوں سے اپنے علاقے میں ہر برس رتھ یاترا کا انعقاد کر رہے ہیں۔ وہ دو مرتبہ پُری کی مشہور رتھ یاترا میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ اس بار سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر ٹی وی پر ہی رتھ یاترا دیکھ رہے ہیں۔

یہ پوچھے جانے پر کہ باقی مسلمان ان کے جذبات کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، آفتاب نے کہا 'اسلام خدا کو ایک مانتا ہے اور ہندو مذہب کے عالمی گرو شنکر اچاریہ بھی کہتے ہیں کہ برہم ایک ہے۔ اس کی سمجھ رکھنے والا شخص بھلا میری مخالفت کیوں کرے گا؟'