چینی کمپنی کی انڈیا میں 100 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری: ’سرحد پر کشیدگی تو ہوتی رہتی ہے، کاروبار جاری رہنا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہMINT
سولہ جون، منگل کی صبح سے ہی چین اور انڈیا کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ دوپہر تک ایک خبر آئی ’انڈیا اور چین کی سرحد پر جھڑپ، تین انڈین فوجی ہلاک۔‘
اس بریکنگ نیوز کے آنے کے چند منٹوں کے اندر ہی میرے پاس ایک ای میل آئی۔
اس ای میل میں اعلان کیا گیا تھا ’ایک چینی موٹر کمپنی جی ڈبلیو ایم اور مہاراشٹرا حکومت کے درمیان ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس کے تحت مرحلہ وار 100 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی جس کے ذریعہ تین ہزار نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔‘
انڈیا میں چین کے خلاف پہلے سے ہی غصے کا ماحول تھا اور منگل کو سرحد پر بیس انڈین فوجیوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ ایسے میں کمپنی کے لیے اس ای میل کا وقت اس سے زیادہ خراب نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
در اصل یہ معاہدہ پندرہ جون کو ہوا تھا۔ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ اودھو ٹھاکرے نے ’میگنیٹک مہاراشٹرا‘ مہم کے ذریعے ریاست میں سولہ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ اس میں ایک سرمایہ کاری جی ڈبلو ایم کی بھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
جی ڈبلیو ایم کیا ہے؟
جی ڈبلیو ایم یعنی گریٹ والز موٹرز نامی کمپنی کی بنیاد 1984 میں رکھی گئی تھی۔ 2003 میں یہ کمپنی ہانگ کانگ سٹاک ایکسچینج کی لسٹ میں شامل ہوئی اور اس کے شیئرز کی ٹریڈنگ ہوئی۔
فروری میں گریٹ والز موٹرز نے انڈیا میں قدم رکھنے کا اعلان کیا۔ ہر دو برس میں دلی میں ہونے والے آٹو ایکسپو میں اس کمپنی نے اپنے ایس یو وی برانڈ ہیویل کی نمائش کی۔ اس دوران کمپنی نے اپنی الیکٹرک کاروں کی نمائش بھی کی تھی۔
اس وقت کمپنی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی مراٹھی سروس کو بتایا تھا کہ کمپنی جلد ہی پونے کے تالےگاؤں نامی علاقے میں جنرل موٹرز کے پلانٹ حاصل کر لے گی۔
امریکی کمپنی جنرل موٹرز کے شیورلے برانڈ نے 2017 میں انڈین بازار سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد گجرات کے ہلول علاقے میں کمپنی کا پروڈکشن پلانٹ چینی کمپنی ایم جی موٹرز نے خرید لیا تھا۔
جی ڈبلو ایم اب انڈیا میں اسی پلانٹ میں ایڈوانس روبوٹز کی مدد سے گاڑیاں بنائے گی۔ اس کے لیے کمپنی نے آہستہ آہستہ سو کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انڈیا کے بنگلورو شہر کے علاوہ کمپنی کے سات ممالک میں ریسرچ اور ڈیویلپمینٹ سینٹرز ہیں۔ ساتھ ہی دنیا بھر میں کمپنی کی چودہ پروڈکشن فیکٹریاں بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHANDOUT PHOTO
مہاراشٹرا حکومت کے ساتھ معاہدہ
پیر کو جب میگنیٹک مہاراشٹرا مہم کے تحت دیگر نکات کے ساتھ اس معائدے پر دستختط ہوئے تو وزیر اعلیٰ نے ٹوئٹر پر لکھا ’انسانیت کے لیے ایک نیا آغاز۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر ممکن طریقے سے مدد کریں گے تاکہ آپ کا کام دوبارہ شروع ہو سکے۔‘
مہاراشٹرا کے وزیر صنعت سوبھاش دیسائی نے کہا ’دوسرے ممالک کے مقابلے مہاراشٹرا میں زیادہ سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقعے ہوں گے۔ ان صنعتوں کے لیے چالیس ہیکٹیر زمین ریاست میں مختص کی گئی ہے۔ مختف قسم کے لائسنس حاصل کرنے میں وقت لگنے کے بجائے اب صرف ایک ہی لائسنس لینا ہوگا اور وہ 48 گھنٹے میں مل جائے گا۔ ساتھ ہی ہم انڈسٹریل ورکرز بیورو بھی بنا رہے ہیں۔‘
وادی گلوان پر چینی دعووں کے بعد انڈیا نے کیا کہا
جی ڈبلو ایم کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے مہاراشٹرا کی حکومت اور کمپنی دونوں کو ہی فائدہ ہوگا۔
فی الحال جی ڈبلو ایم کا منصوبہ پونے میں 3,770 کروڑ کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔ اس سے 2,042 نئی نوکریاں پیدا ہوں گیں۔
جی ڈبلیو ایم کا منصوبہ ان گاڑیوں کی انڈیا میں فروخت کے علاوہ انھیں بیرون ممالک کو برآمد کرنا بھی ہے۔
میگنیٹک مہاراشٹرا مہم لانچ کرتے وقت حکومت نے کہا تھا کہ 12 کمپنیوں کی 16,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے لیے معائدے کیے گئے ہیں۔
ان میں سے چند کمپنیاں انڈیا کی ہیں جبکہ چند امریکہ، چین، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی کمپنیاں ہیں۔ ایکزون اموبل، یو پی ایل، پی ایم آئی الیکٹرو موبائل سلیوشنز، فوٹون موٹر اور ورُن بیوریجز ان کمپنیوں میں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
چین کے خلاف ملک بھر میں غصہ
کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد پوری دنیا میں چین کے خلاف غصہ دیکھا گیا ہے۔ اس دوران بائیکاٹ چائنیز پروڈکٹز، بین ٹک ٹاک جیسے ہیش ٹیگز ٹوئٹر پر ٹرینڈز کرتے رہے ہیں۔
اس درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ایک پر تشدد واقعہ ہو گیا۔ ایسے میں چین کے خلاف غصہ اور زیادہ بڑھ گیا اور سوشل میڈیا پر چین کے خلاف پوسٹس کی جاتی رہیں۔
دوسری جانب، جی ڈبلو ایم کے اعلان اور ایک اور چینی کمپنی کے ٹھیکہ حاصل کرنے کی خبر بھی آئی۔ چند روز قبل یہ خبر بھی آئی تھی کہ ایک بڑی چینی کمپنی کو دلی میں ایک زیر زمین راستہ بنانے کا ٹھیکہ ملا ہے۔
شنگھائی ٹنل انجینیئرنگ کمپنی (ایس ٹی ائی سی) نے دلی میرٹھ آر آر ٹی ایس پروجیکٹ کے لیے سب سے کم بولی لگائی گئی تھی۔ کمپنی کو 1,126 کروڑ روپے میں یہ ٹینڈر مل گیا ہے۔
انڈیا کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سنگھ یعنی آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے چند روز قبل ہی ملک کی خود انحصاری کی بات کہی تھی۔ ایسے میں جب ملک کی ٹاٹا اور ایل ائنڈ ٹی جیسی بڑی کمپنیاں ٹینڈر میں حصہ لے رہی ہوں تو کسی غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔










