لداخ جھڑپ: انڈیا کے سابق میجر کو فوج کی افسران کے خلاف تبصرے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا

جن لوگوں کی انڈیا کے میڈیا پر نظر ہوتی ہے ان کو اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہو گا کہ انڈین صحافی و اینکر پرسن ارنب گوسوامی کا نجی ٹی وی چینل ریپبلک ٹی وی اور اس سے منسلک شخصیات اشتعال انگیز بیانات اور پروگرام پیش کرتے ہیں اور اکثر اس وجہ سے موضوع بحث بنتے رہتے ہیں۔

مگر اس اختتام ہفتہ انڈیا کے ریپبلک ٹی وی کے ایک پروگرام میں انڈیا کی فوج کے ریٹائرڈ میجر گوریو آریہ نے جب سابق انڈین جنرل کے بارے میں بات کی تو اس پر انھیں سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹوئٹر پر انڈین فوج کے ایک سابق بریگیڈیئر نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس تنقید پر تیش میں آ کر میجر گوریو نے سابق بریگیڈیئر اور سابق جنرل پناگ سمیت ایک صحافی جو اس سلسلہ وار ٹویٹس میں شامل تھے کے خلاف دھمکی آمیز ٹویٹ کیں اور ان کے خلاف تشدد کو ہوا دی۔ اس ٹویٹ پرانڈیا کے سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق میجر آریہ پر خوب تنقید کی ہے۔

ریبلک ٹی وی کے پروگرام میں میجر آریہ 15 اور 16 جون کی شب انڈیا اور چین کے درمیان وادی گلوان میں ہوئی جھڑپ میں مودی حکومت کے کردار کا دفاع کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس پروگرام کے بارے میں انڈین حکومت کے ناقد اور انڈین فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر سینڈی تھاپڑ نے ریٹائرڈ کرنل اجے شکلہ اور سابق جنرل پناگ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اجے شکلہ آج ریپبلک ٹی وی کے نشانے پر ہیں، شو کے پہلے 16 منٹوں میں ارنب گوسوامی 49 بار ان کا نام لے چکے ہیں اور اب جنرل پناگ کی باری ہے۔ میجر گوریو آریہ کہہ رہے ہیں کہ میں ان دونوں کو دو تین سال سے برداشت کر رہا ہوں مگر اب نہیں کروں گا۔‘

اس ٹویٹ کو ٹوئٹر کے اصولوں کے خلاف پایا گیا اس لیے ٹوئٹر نے اسے ٹائم لائن سے ہٹا دیا ہے۔

اس کے جواب میں جنرل پناگ نے ٹویٹ کرتے ہوئے انگریزی کی اسطلاح لکھی ’ٹو ہوٹس‘ جس کا مطلب ہے مجھے پرواہ نہیں۔

اس پر معروف صحافی مان امان سنگھ چھینا نے لکھا کہ ’بہت خوب کہا سر، آپ کو ایسے بہروپیے کو جواب دینے کی ضرورت نہیں جسے فوجی تدابیر کے بارے میں ایک نان کمیشنڈ افسر سے بھی کم معلومات ہیں۔‘

سارے ہنگامے کی وجہ اس تھریڈ میں میجر گوریو آریہ کی جوابی ٹویٹ بنی جس میں انھوں نے لکھا ’سینڈی تھاپڑ، جنرل پناگ اور مان امان سنگھ چھینا۔۔۔ یہ نہ سمجھنا کہ میں جواب نہیں دے سکتا۔ رونا نہیں جب تمہیں سر عام پیٹا جائے گا، اگر دیکھنا ہے تو کوشش کرلو۔‘ اس کے بعد انھوں نے مان امان سنگھ چھینا کو نامناسب الفاظ سے بھی مخاطب کیا۔

ٹوئٹر کے اصولوں کے مطابق یہ ٹویٹ بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتی تھی اس لیے اسے بھی ٹائم لائن سے حذف کر دیا گیا ہے۔

صحافی مانو پبی نے میجر آریہ کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ’یہ دو سابق فوجیوں اور صحافی کے خلاف تشدد کو شہ دے رہے ہیں۔‘

اس سلسلہ وار ٹوئٹس پر میجر ڈی پی سنگھ نے لکھا کہ ’میجر آریہ، میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ مجھے آپ کی ٹویٹ پڑھ کر شرمندگی ہو رہی ہے۔ آپ کو سینیئر کے لیے گندی زبان استعمال کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔‘

اس پر میجر گوریو آریہ نے لکھا کہ ’سینیئر کو سینیئر کی طرح رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر انھیں کوئی مسئلہ ہے تو میں صرف ایک فون کال دور ہوں۔‘

اس سلسلہ وار ٹویٹس پر ٹوئٹر پر متحرک دوسری اہم شخصیات نے بھی اپنا اظہار خیال کیا۔

سوشل میڈیا صارف ساکشی جوشی نے لکھاکہ ’انھیں اپنی اصلیت دکھانے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

جبکہ سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس مارکانڈے کاٹجو نے میجر گوریو آریہ کو ٹیگ کرتے ہوئے طنزاً لکھا کہ ’میجر گوریو آریہ تو غیر معمولی فوجی ذہانت کے حامل ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں۔ انھیں تو فوراً انڈین فوج کا چیف آف آرمی سٹاف بنا دینا چاہیے۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’جو بات زیادہ تکلیف دہ ہے وہ یہ کہ فوجی دائیں بازو کی طرف چلے گئے ہیں۔ تباہی قریب ہے۔‘

اجے راٹھور نے سینڈی تھاپڑ کی ٹویٹس کے سکرین شاٹ شیئر کیے اور لکھا کہ’یہ میجر گوریو آریہ کے خیالات برداشت نہیں کر سکتے اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں جبکہ یہ سب مودی کے خلاف ہیں۔‘

کانگریس کے ایک رہنما سریواٹسہ نے لکھا کہ ’گوریو آریہ پرانے فوجیوں کے لیے ویسے ہی ہے جیسے ارنب گوسوامی صحافیوں کے لیے۔ دونوں ہی اپنے پیشے پر داغ ہیں۔‘

جبکہ شوانی سنگھ نامی صارف نے لکھا کہ’بالی وڈ کی ٹولی کے بعد فوج کی ٹولی آ گئی ہے۔ میرے خیال میں گوریو آریہ ان سب کے لیے کافی ہے۔‘

جبکہ شبہم شرما لکھتی ہیں کہ ’یہ سب سیاسی جماعتوں کی کٹھ پتلیاں ہیں اور میجر آریہ ایک ایک کر کے انھیں بے نقاب کر رہے ہیں۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف ٹویٹس کے اس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ ’اگر میجر گوریو آریہ جیسا ایک افسر مودی حکومت کے کہنے پر ناچتا ہے تو وہ محب وطن ہے اور اگر ایک اور فوجی افسر اسی حکومت کی ناکام پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے تو وہ آپ کی نظر میں غدار ہے۔‘