لداخ کی وادی گلوان میں چین انڈیا جھڑپ: فوجی رہا ہو گئے مگر مودی کی سیاست کے لیے چیلنج باقی

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دلی

چین نے انڈین فوج کے چار اعلیٰ افسروں سمیت دس فوجیوں کو جمعرات کی شام رہا کر دیا تھا۔ انڈین میڈیا کی خبروں کے مطابق چینی فوجیوں نے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور تین میجر سمیت ان فوجیوں کو پیر کی شب لداخ کی وادی گلوان میں خونریز جھڑپ کے بعد پکڑ لیا تھا۔

چین نے ان فوجیوں کو جمعرات کی شام وادی گلوان میں ہی رہا کیا۔ مگر حکومت یا فوج نے ان کی رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

جمعرات کی شام وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے کہا تھا کہ محاذ پر کسی کارروائی کے دوران انڈیا کا کوئی فوجی لاپتہ نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان فوجیوں کی رہائی کے لیے گذشتہ تین دنوں سے چینی اور انڈین فوج کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے۔

پیر کی شب گلوان وادی میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں 20 انڈین فوجی مارے گئے تھے۔

مختلف ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ اس ٹکرا‎ؤ میں 76 انڈین فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوجی ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں سے بعض فوجی زیادہ زخمی ہیں اور وہ کم از کم پندرہ دنوں تک ہسپتال میں رہیں گے۔

چین نے اس تصادم میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔ لیکن انڈیا میں ایک حکومت نواز خبر رساں ایجنسی نے فوجی ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ انڈین فورسز کے ہاتھوں کم از کم 43 چینی فوجی مارے گئے ہیں۔ یہ تعداد کہاں سے آئی اور کس نے بتائی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے اور نہ ہی چین یا کسی اور جانب سے اس خبر کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن انڈین میڈیا نے اسے خوب نشر کیا اور عوام کو جو پیغام دینا تھا وہ پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیے

گلوان وادی مشرقی لداخ میں واقع ہے۔ چین نے حال ہی میں اس پورے خطے پر اپنا دعویٰ کرنا شروع کیا ہے۔

چینی فوج اس خطے میں مئی کے اوائل سے موجود ہے۔ مئی کے اوائل میں بھی انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان آہنی سلاخوں اور کلب بیٹس اور ڈنڈوں کا استعمال ہوا تھا۔ ایک سرکردہ دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ مئی کے اس واقعے میں 72 انڈین فوجی زخمی ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی فوجی اس وقت سے ایکچوئل کنٹرول لائن یعنی ایل اے سی کے کئی پوائنٹس پر آگے بڑھ کر قابض ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ وادی گلوان میں جھڑپ ہوئی ہے وہ اس کے خطے میں ہوئی ہے جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس کی سرحد کے اندر پیش آیا۔

گذشتہ ایک ہفتے کی سیٹیلائٹ تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ وادی میں اس وقت ہزاروں چینی فوجی موجود ہیں۔ اس علاقے میں سینکڑوں ٹرک، ارتھ موورز اور توپیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ فوجیوں کے رہنے کے کوارٹرز بنا دیے گئے ہیں۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے چیلنج دو سطح پر ہیں۔

پہلا تو یہ وہ عوام کو مطمئن کر سکیں کہ گلوان کی جھڑپ یکطرفہ نہیں تھی۔ اور اس میں بڑی تعداد میں چینی فوجی بھی مارے گئے تھے۔ لیکن اس کے لیے انھیں کسی طرح کا ثبوت دینا پڑے گا۔ ابھی تک تو انڈیا یہ بھی ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ چینی فوجیوں نے انڈین فوجی پکڑ رکھے تھے۔

دوسرا اس سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ چینی فوجی اگر انڈین سرحد میں داخل ہو گئے ہیں تو انہیں واپس کیسے بھیجا جائے۔ مودی نے اپنے امیج ایک ایسے انفرادی حکمراں کی بنائی ہے جو ملک کو فوجی اور اقتصادی بلندیوں پر لے کر جانے والے ہیں۔

انھوں نے ملک میں قوم پرستی کی ایک ایسی لہر چلائی ہے جس میں انڈیا کی کسی طرح کی کمزوری قابل قبول نہیں ہے۔ میڈیا پیر کی خونریز جھڑپ سے پہلے تک یہی دکھا رہا تھا کہ انڈیا کی فوجی طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ چین کسی طرح کی فوجی ایڈونچرکی جرات نہیں کر سکتا۔

لیکن گلوان کی خونریز جھڑپ میں 20 فوجیوں کی ہلاکت اور دس فوجیوں کے پکڑے جانے کے بعد یہاں سبھی کا لب و لہجہ محتاط ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جو واحد بیان دیا اس میں کہیں پر چین کا نام نہیں لیا۔

چین انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 90 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔

انڈیا میں اس وقت حکومت کی حمایت یافتہ چین کی بنی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ جس طرح چینی سرحد پر ایل اے سی سے آگے کی پوزیشن لے کر سرحدی مذاکرات میں مضبوط ہو کر اترنا چاہتا ہے اسی طرح انڈیا چین کا اقتصادی بائیکاٹ کر کے اس پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن چین اس کے لیے پہلے سے ہی تیار ہے اور وہ پہلے ہی اپنی کمپنیوں کو انڈیا میں نئی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں متنبہ کر چکا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ چین کے اقتصادی بائیکاٹ سے چین سے زیادہ خود انڈیا کو نقصان ہوگا۔

گلوان وادی میں جہاں یہ جھڑپ ہوئی ہے وہ انسانی آبادیوں سے کافی دور ہے۔ وہاں سے کوئی بھی خبر آنے کا واحد ذریعہ فوج ہے۔ اس کی تصدیق اور تردید ہونے میں کئی روز لگ جاتے ہیں۔

حکومت نے اس واقعے کے بارے میں معلومات بہت روک روک کر اور بہت کم جاری کی ہیں۔ حزبِ اختلاف نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت یہ بتائے کی چینی فوجیوں نے انڈیا کی کتنی کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے؟ وہ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ حکومت چین کو کس طرح پیچھے دھکیلے گی؟

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعے کی شام کل جماعتی رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی ہے۔ حزبِ اختلاف کو ملک دشمن قرار دینے کا سیاسی حربہ اس بار کارگر نہیں ہو رہا ہے۔

اپوزیشن وزیر اعظم مودی کو چین کے سوال پر چیلنچ کرنے کے جارحانہ موڈ میں ہے۔ وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔ چینی فوج کو مئی سے پہلے والی پوزیشن میں واپس بھیجنے کے لیے بات چیت کی جا رہی ہے۔

طاقت کے زور پر چینی فوج کو پیچھے دھکیلنا یا سرحد کے کسی دیگر علاقے میں چین کے علاقے پر قبضہ کرنا ایک خطرناک کھیل ہوگا۔

چین سے یہ ٹکراؤ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب انڈیا کرونا کے چیلنج سے گزر رہا ہے۔ ملک کی معیشت کورونا کے آنے سے پہلے ہی نیچے جا چکی تھی اور کورونا کے بعد تباہ کن سطح پر پہنچ چکی ہے۔

چین کے ساتھ انڈیا کا سرحدی بحران مودی حکومت کے سامنے ایک ایسا چیلنج ہے جو صرف ان کی قیادت پر ہی نہیں ملک کی سخت گیر قوم پرست سیاست پر بھی بری طرح اثر انداز ہو سکتا ہے۔