آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لداخ کے علاقے گلوان میں انڈیا چین جھڑپ: اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے سوالات کی سوشل میڈیا پر گونج
انڈیا کے حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کی جانب سے سوشل میڈیا پر انڈیا اور چین کے درمیان جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کے واقعے پر حکومت سے پوچھے گئے چند سوالوں نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ 15 اور 16 جون کی شب انڈیا اور چین کے درمیان وادی گلوان میں جھڑپ کے نتیجے میں کم سے کم 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور دونوں ممالک کی متنازع سرحد پر کسی جھڑپ میں ہلاکتوں کا کم از کم 45 برس میں یہ پہلا واقعہ ہے۔
انڈیا کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے انڈیا اور چین کے درمیان جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کو ٹوئٹر پر ٹویٹس کے ایک سلسلے میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ’وادی گلوان میں ہمارے سپاہیوں کے جانی نقصان سے بہت صدمہ اور تکلیف پہنچی ہے۔ ہمارے سپاہیوں نے فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہوئے انڈین فوج کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بہادری اور شجاعت کی تاریخ رقم کی ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا کہ 'قوم ان کی دلیری اور قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، میں ان سپاہیوں کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ قوم اس مشکل گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہمیں انڈیا کے سپوتوں کی بہادری اور شجاعت پر فخر ہے۔'
انڈیا کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا سوشل میڈیا ہر ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کے لیے یہ اظہار کرنا تھا کہ ان کے سیاسی حریف اور حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اس کے جواب میں ان سے چند سوالات کر ڈالے۔
راہل گاندھی نے اپنی ٹویٹ میں رجناتھ سنگھ سے پوچھا کہ ' اگر یہ آپ کے لیے اتنا ہی تکلیف دہ تھا تو:
’آپ اپنی ٹویٹ میں چین کا نام نہ لے کر انڈیا کی فوج کی بے حرمتی کیوں کر رہے ہیں؟‘
’آپ کو اظہار افسوس کرنے میں دو دن کا وقت کیوں لگا؟‘
’جب فوجی ہلاک ہو رہے تھے تو آپ ریلیوں سے خطاب کیوں کر رہے تھے؟‘
’خود چھپ گئے اور اپنے حمایتی میڈیا کے ذریعے فوج پر الزام عائد کیوں کروایا گیا؟‘
’بک جانے والے میڈیا کے ذریعے انڈین حکومت کے بجائے فوج پر الزام کیوں لگاوا رہے ہیں؟‘
انڈیا کے اپوزیشن رہنما کی جانب سے وزیر دفاع سے یہ سوالات پوچھنا تھا کہ انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین نے دیکھتے ہی دیکھتے وزیر دفاع سے ان سوالات کے جواب کا مطالبہ شروع کردیا۔ راہل گاندھی کی اس ٹویٹ کو 15 ہزار سے زیادہ مرتبہ ری ٹویٹ اور 45 ہزار سے زیادہ صارفین نے لائیک کیا اور اس پر ساڑھے 6 ہزار سے زیادہ کمنٹس آچکے ہیں۔
سوشل میڈیا پر راہل گاندھی کی ٹویٹ پر تبصرہ کرنے والوں میں کہیں کانگریس کے حمایتی سامنے آئے تو کہیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے حمایت کی گئی۔
ونے دوکانیا نامی ایک صارف نے کانگریس رہنماؤں کی فوجی جوانوں کے ساتھ چند تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ
' کانگرس نے ہمیشہ ہماری عظیم فوج کا ساتھ دیا ہے اور بی جے پی کے برعکس فوج کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی رہی ہے جبکہ بی جے پی نے فوج کو صرف ووٹ حاصل کرنے اور انتخابات کے دوران صرف مہم کے لیے استعمال کیا اور بعد میں انھیں مکمل طور پر چھوڑ دیا۔‘
جبکہ رشو نامی ایک صارف نے کانگریس رہنما سونیا گاندھی کی چینی حکام کے ساتھ چند تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے راہل گاندھی سے سوال پوچھا 'ذرا ان کی وضاحت بھی کر دیجیے گا راہل۔۔۔'
جبکہ راہل گپتا نامی ایک صارف نے تو راہل گاندھی سے ان ہی کی طرح سوالات پوچھ ڈالے اور انھوں نے لکھا کہ 'میرے راہل گاندھی سے سوالات ہیں کہ اگر یہ اتنا تکلیف دہ تھا تو اس وقت میں سیاست کر کے انڈین فوجی کی بے حرمتی کیوں کی جا رہی ہے؟ اس وقت انڈیا مخالف ہیش ٹیگ کیوں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کیے جا رہے ہیں؟
’جب فوجی ہلاک کیے جا رہے تھے آپ انڈیا کے حمایتی سیاستدان کے طور پر سامنے کیوں نہ آئے؟ آپ کیوں ہر مرتبہ چھپ جاتے ہیں اور وزیر اعظم مودی پر الزام تراشی کرتے ہیں؟ کانگریس انڈیا کی حکومت پر الزام لگانے کے لیے ٹوئٹر ہینڈلز کیوں بنا رہی ہے؟‘
جبکہ کاسیندا کاش نامی صارف نے لکھا کہ 'تمام سوالات بالکل درست ہیں لیکن ان لوگوں کو ان کے جوابات نہ دینے کی عادت پڑ چکی ہے۔ ‘
جبکہ متعدد صارفین نے راہل گاندھی کو ’انڈیا مخالف اور غیر ملکی ایجنٹ‘ بھی قرار دیا۔
تاہم اس سب میں انڈیا کے معروف اینکر پرسن اور صحافی ارنب گوسوامی بھی پیچھے نہ رہے اور انھوں نے یہاں بھی عوامی رائے جاننے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور اپنی ٹویٹ کے ذریعے اس بحث میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔
انھوں نے راہل گاندھی کو جواب دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں عوامی رائے جاننے کے لیے ٹوئٹر پول شروع کرتے ہوئے عوام سے پوچھا کہ 'چین کو طاقتور ظاہر کر کے انڈین فوج کا تمسخر کون اڑا رہا ہے؟
’راہل گاندھی یا راجناتھ سنگھ؟'
اس ٹوئٹر پول کا نتیجہ جو بھی ہو لیکن راہل گاندھی کے سوالات نے انڈیا کے وزیر دفاع کو سوشل میڈیا صارفین کے سامنے مشکل میں ضرور ڈال دیا ہے۔