’نِسرگ‘: ممبئی سمندری طوفان سے بال بال بچ گیا

2019 rains and storm in Mumbai

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنممبئی میں عموماً مون سون کے موسم میں شدید بارشیں ہوتی ہیں۔
    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، انڈیا

'طوفانی باد و باراں سمندر کے پانی کو شہر میں لے آیا تھا، طوفان گرجدار آواز میں دھاڑ رہا تھا، کلیساؤں کی چھتیں ہوا میں منتشر ہوگئیں تھیں اور بھاری بھاری پتھر دور دور تک کنکریوں کی طرح ہوا میں اڑ رہے تھے۔ دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔'

اس انداز میں ایک پرتگالی مورخ نے ممبئی کی تاریخ کے ایک بدترین سمندری طوفان کا احوال بیان کیا ہے جو کہ مئی 1618 میں ممبئی کے ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔

سترہویں اور انیسویں صدیوں میں انڈیا کے اس مغربی ساحلی شہر سے کئی مرتبہ سمندری طوفان ٹکرائے ہیں۔ ممبئی میں سنہ 2005 میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب آیا تھا اور صرف تین برس پہلے، سنہ 2017 میں بھی مون سون کی موسلا دھار بارشیں برسی تھی، لیکن ان میں سے کوئی بھی سمندری طوفانوں کا نتیجہ نہیں تھی۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر ایڈم سوبل کہتے ہیں کہ ممبئی کو 'سنہ 1891 کے بعد سے شدید سمندری طوفان کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔'

تیزی سے بڑھتا ہوا یہ شہر جو کہ انڈیا کی مالیاتی سرگرمیوں اور فلمی صنعت کا دارالحکومت ہے، جدید دور میں سمندری طوفانوں سے تاحال محفوظ رہا ہے اور رواں ہفتے آنے والے طوفان نسرگ سے بھی بال بال بچا ہے۔

یہ طوفان شہر کے جنوب میں واقع ساحلی علاقوں سے ٹکرایا جہاں نقصانات کے اندازے اب بھی لگائے جا رہے ہیں تاہم ممبئی میں صورتحال بہتر رہی اور نامہ نگار یوگیتا لمائے کے مطابق اگرچہ تیز ہوائیں چلتی رہیں لیکن بارش اتنی ہی تھی جتنی مون سون کی موسلادھار بارش۔

تاہم ممبئی سے 50 کلومیٹر دور واقع رائے گڑھ سے موصول ہونے والی تصاویر بتاتی ہیں کہ طوفان کی وجہ سے بڑی سمندری لہریں اٹھیں جبکہ بلند و بالا درخت تندوتیز ہواؤں کی زد میں آئے۔

رائے گڑھ میں طوفان سے ایک شخص ہلاک بھی ہوا ہے جو ایک گرنے والے کھمبے کی زد میں آیا اور طبی امداد ملنے سے قبل ہی چل بسا جبکہ شہر میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Mumbai sea

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنممبئی سمندر کے ساتھ ایک نشیبی شہر ہے

ممبئی کی سمندری طوفانوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر تحقیق کرنے والے پروفیسر سوبل نے کہا تھا کہ سائیکلون نِسرگ رکھا گیا ہے، ’تقریباً 110 کلومیٹر کی رفتار تک اپنے عروج پر پہنچے گا۔' اور یہی ہوا۔

یہ بدھ کو دوپہر ایک بجے رائے گڑھ کے علاقے علی باغ میں زمین سے ٹکرایا۔ یہ وہ علاقہ ہے جسے مہاراشٹر کے متمول خاندانوں کی تفریح گاہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو بات ممبئی کو بہت زیادہ غیر محفوظ بناتی ہے وہ اس کا مختصر سے جگہ میں انتہائی گنجان آباد ہونا ہے یعنی کثیر تعداد میں آبادی کا ایک جگہ مرکوز ہونا ہے۔ شہر کے نشیبی علاقے ذرا سے خراب موسم یا سمندری طوفان کی صورت میں بہت تیزی سے زیرِ آب آسکتے ہیں۔ اس مرتبہ یہ شہر کووِڈ-19 کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، ریاست مہاراشٹر جس کا ممبئی دارالحکومت ہے، وہاں پوری ریاست کے ایک تہائی متاثر مریض درج کیے گئے ہیں۔

موسمیاتی مسائل کے موضوعات پر لکھنے والے ناول نگار امیتاو گھوش کہتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بحیرہِ عرب میں سمندری طوفانوں کے پیدا ہونے کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2012 کے ایک ریسرچ مقالے میں یہ پیشن گوئی کی گئی تھی کہ صدی کے اختتام تک بحیرہِ عرب کے سمندری طوفانوں میں 46 فیصد اضافہ ہوگا۔ اور سنہ 1998 اور 2001 کے درمیان شمالی ممبئی سے تین سمندری طوفان ٹکرائے تھے جن کے نتیجے میں 17000 افراد ہلاک ہوئے۔

سائیکلون نسارگا کا ممکنہ راستہ

map

اپنی کتاب 'دی گریٹ ڈیرینجمنٹ: کلائمیٹ چینج اینڈ ان تھنک ایبل' میں امیتاو گھوش حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُس وقت کیا ہو گا جب ممبئی سے کیٹیگری 4 یا کیٹیگری 5 کا سمندری طوفان ٹکرائے گا جس کی رفتار 240 فی کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ 'اس سے پہلے ممبئی کو جب ایک بڑے سمندری طوفان کا سامنا کرنا پڑا تھا تو اس وقت اس شہر کی کل آبادی دس لاکھ سے کم تھی۔ آج یہ دنیا کا آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا میونسپل شہر ہے جس کی دو کروڑ سے زیادہ آبادی ہے۔'

وہ کہتے ہیں 'شہر میں اس طرح کی آبادی کے اضافے سے اس شہر کا ماحول بھی بدل گیا ہے، اس لیے یہاں کا موسم، جسے کسی قسم کا استثنیٰ نہیں ہے، اس پر شدید قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں: مثال کے طور پر مون سون کی بارشوں کے دوران شہر میں شدید سیلاب آجاتے ہیں۔'

گھوش کے مطابق، 'بعض خصوصی حالات میں تو اس کے بہت تباہ کن نتائج نکلتے ہیں۔'

اس طرح کی تباہی کا سامنا اس شہر کو کچھ عرصہ پہلے کرنا پڑا تھا اور اس وقت تو سمندر طوفان بھی نہیں آیا تھا۔

Mumbai rains 2019

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنممبئی کی دو کروڑ کی آبادی ہے

جولائی سن 2005 میں ممبئی کو اپنی تاریخ کی ایک دن کی شدید ترین بارشوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دن 14 گھنٹوں میں 94.4 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

ان بارشوں سے آنے والے سیلاب میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں تھیں، تمام ذرائع آمد و رفت اور بجلی کا نظام دھرم برہم ہوگیا تھا، لاکھوں لوگوں کی زندگی مفلوج ہوگئی تھی۔ 500 سے زیادہ افراد بہہ گئے، ڈھہ جانے والی عمارتوں میں دفن ہوگئے، بجلی سے ہلاک ہوگئے یا پانی میں پھنس جانے والی گاڑیوں میں دم گھٹنے سے مر گئے تھے۔

اس شہر کے باسی اب دعائیں کر رہے ہیں اُنھیں کہ اُس جیسے حالات کا دوبارہ سے سامنا نہ کرنا پڑے۔